کرکٹ سپر سٹارز بنے لکھ پتی یوٹیوب سٹارز

شعیب اختر، وسیم اکرم، رمیز راجہ اور دیگر کرکٹ سپر سٹارز کیسے اپنے یوٹیوب چینلز کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

 وسیم اکرم، شعیب اختر، ثقلین مشتاق، رمیز راجہ، راشد لطیف اور دیگر  کرکٹر یوٹیوب پر نہ صرف کرکٹ پر تبصرے کرتے ہیں بلکہ دوسرے کھلاڑیوں کے انٹرویوز بھی کرتے ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ کی رنگینیوں اور موبائل فون کی سہولت نے معروف کرکٹ سٹارز کو بھی یوٹیوب سٹارز بنا دیا ہے۔

پاکستانی کرکٹ کی دنیا کے بڑے بڑے نام جیسے وسیم اکرم، شعیب اختر، ثقلین مشتاق، رمیز راجہ، راشد لطیف اور دیگر بہت سے کرکٹر یوٹیوب پر نہ صرف کرکٹ پر تبصرے کرتے ہیں بلکہ دوسرے کھلاڑیوں کے انٹرویوز بھی کرتے ہیں اور اپنے حوالے سے ذاتی سوالات اور تنازعات پر بھی بات کرتے ہیں۔

کرکٹ پرستاروں میں ان ویڈیوز کی مقبولیت دیدنی ہے۔ کچھ ویڈیوز تو آٹھ ملین سے زائد مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں۔ چونکہ یوٹیوب ویوز کے پیسے دیتی ہے اس لیے یہ سپرسٹار خوب مال بھی بنا رہے ہیں۔ 

یہ چینلز چلاتا کون ہے؟

یوٹیوب چینل کو کامیابی سے چلانا ایک پیشہ ورانہ مہارت ہے جس میں آپ کو مختلف تکنیک کے ذریعے اپنی ویڈیو کی پہنچ کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں ویڈیو میں ایسا میوزک، تصویر یا ویڈیو نہ چلی جائے جس سے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہو۔

بیشتر سپر سٹارز نے پیشہ ورانہ اداروں اور افراد کو یہ چینل چلانے کی ذمہ داری سونپی ہوئی ہے۔ تاہم عمومی نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ تقریباً تمام کرکٹر کسی پروفیشنل کیمرے کی بجائے اپنے موبائل فون سے خود ہی ویڈیوز بناتے ہیں۔

یوٹیوب کا سہارا کیوں؟

حالیہ چھ مہینوں میں پی ایس ایل، بھارتی آئی پی ایل اور خاص طور پر موجودہ کرکٹ ورلڈ کپ سے ان یوٹیوب چینلوں کی چاندی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ان بڑے مقابلوں کی وجہ سے عوام میں کرکٹ کے شوق سے فائدہ اٹھا کر یہ سپرسٹارز اپنی ویڈیوز کی ترویج کر رہے ہیں۔

یوٹیوب پر اپنا چینل چلانے والے بیشتر سپر سٹارز وہ ہیں جو پہلے سے ہی یا تو ٹی وی پر بطور تجزیہ کار نظر آتے ہیں یا پھر کرکٹ کمنٹری کرتے ہیں۔ پھر سوال اٹھتا ہے کہ آخر یوٹیوب کا سہارا کیوں لیا جا رہا ہے؟

اس کی تین اہم وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ یوٹیوب پر اشتہاروں کے ذریعے ان ویڈیوز سے ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ لوگوں کا رجحان بتدریج ٹی وی سے کم ہو کر اپنی موبائل سکرینوں اور یوٹیوب پر جا رہا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ یوٹیوب گلوبل ہے۔ جہاں آپ قومی ٹی وی پر بیٹھ کر صرف پاکستان کے شائقین کے لیے تجزیہ کرتے ہیں، وہیں یوٹیوب پر پوری دنیا آپ کو دیکھ سکتی ہے۔ کچھ یوٹیوب چینلز پر تو ویڈیو کی تفصیلات باقاعدہ ہندی میں درج ہوتی ہیں تا کہ بھارتی شائقین کو بھی ویڈیوز کی طرف راغب کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویڈیوز سے کتنے پیسے بنتے ہیں؟

یوٹیوب، ویڈیوز پر چلنے والے اشتہاروں کا کچھ حصہ چینل کے مالک کو دیتا ہے۔ عمومی طور پاکستان میں دیکھے جانے والے اشتہار پر یوٹیوب ایک ہزار فی اشتہار کو دیکھے جانے پر ایک سے دو ڈالر دیتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کی ویڈیوز کو ایک ملین افراد نے دیکھا ہے تو آپ کو ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار ڈالر تک ملیں گے۔

یوٹیوب اشتہارات سے پیسوں کے علاوہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ان ویڈیوز پر اپنی برانڈنگ کرتی ہیں۔ حال ہی میں رمیز راجہ کی ایک ویڈیو کو مشہور چائے کی پتی بنانے والی کمپنی نے سپانسر کیا تھا جس کے پیسے یوٹیوب پر چلنے والے اشتہارات سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ہِٹ ویڈیوز

ان سپر سٹارز کی ویڈیوز کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ویڈیوز بھارت اور پاکستان دونوں کے ٹی وی چینلز پر چلائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں شعیب اختر نے اپنے چینل پر بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ کا انٹرویو کیا، جس پر ان کی ویڈیو کو اس خبر کے فائل کرنے تک 85 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

اسی طرح سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد وسیم نے ورلڈ کپ کے آغاز میں شعیب اختر کا انٹرویو کیا تھا جس میں شعیب اختر نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان انگلینڈ کے خلاف میچ میں انگلینڈ کی دھلائی کرے گا اور ویسا ہی ہوا۔ شعیب اختر کی اس پیش گوئی کو ٹی وی چینلز پر چلایا گیا اور یہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی۔

حال ہی میں شعیب اختر نے بھارتی اداکارہ سونالی بیندرے کے ساتھ ان کے مبینہ سکینڈل پر وضاحت پیش کی کہ یہ محض افواہیں ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں۔

مختلف چینلز: رمیز سپیکس

رمیز راجہ یوں تو اپنی کمنٹری کی وجہ سے مشہور ہیں مگر ان کا یوٹیوب چینل بھی کرکٹ کے معروف ترین چینلوں میں سے ایک ہے۔ رمیز سپیکس کے نام سے چینل انہوں نے جنوری 2018 میں بنایا اور ان کے آٹھ لاکھ 36 ہزار سبسکرائبرز ہیں۔ ان کی ویڈیوز کو 101 ملین ویوز مل چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کی ویڈیوز اس عرصے میں اندازاً ایک لاکھ ڈالر کما چکی ہیں۔

شعیب اختر

شعیب اختر نے اپنا چینل آئی پی ایل اور کرکٹ ورلڈ کپ کے پیش نظر جنوری 2019 میں کھولا اور ان دو کرکٹ کے ایونٹس سے اب تک ان کی ویڈیوز 36 ملین بار دیکھی جا چکی ہیں اور چھ مہینے کے قلیل عرصے میں ایک تخمینے کے مطابق 35 ہزار ڈالرز کما چکی ہیں۔

وسیم اکرم

وسیم اکرم کا بھی یوٹیوب چینل ہے مگر اس پر بہت کم ویڈیوز موجود ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے دوبارہ اپنے چینل پر وراٹ کوہلی کا انٹرویو ڈالا ہے۔ ان کے چینل پر 25 ہزار سبسکرائبرز ہیں اور کُل ملا کر دس لاکھ دفعہ ان کی ویڈیوز دیکھی جا چکی ہیں جس سے ایک ہزار ڈالر کے قریب رقم کمائی جا سکتی ہے۔

ثقلین مشتاق شو

سابق آف سپنر اور ’دوسرا‘ کے موجد ثقلین مشتاق سب سے پرانے یوٹیوبرز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنا چینل اکتوبر 2017 میں کھولا اور ان کے سوا لاکھ کے قریب سبسکرائبرز ہیں۔ ثقلین مشتاق اشتہارات سے پیسے کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹ کی تشہیر بھی اپنی ویڈیوز کے ذریعے کرتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز 70 لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں جس سے سات ہزار ڈالرز کے آس پاس رقم بن سکتی ہے۔

کاٹ بیہائنڈ (راشد لطیف)

سابق ٹیسٹ کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف معروف کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کے ساتھ مل کر یوٹیوب چینل چلاتے ہیں۔ ان کے چینل کے ایک لاکھ 32 ہزار سبسکرائبرز ہیں اور ان کی ویڈیوز 19 ملین دفعہ دیکھی جا چکی ہیں جس سے کم از کم 19 ہزار ڈالر بن سکتے ہیں۔

بول وسیم (محمد وسیم)

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کرکٹ تجزیہ کار محمد وسیم کا بھی یوٹیوب چینل ہے جس کے 76 ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور 90 لاکھ دفعہ ان کی ویڈیوز دیکھی جا چکی ہیں جس سے نو ہزار ڈالر کے لگ بھگ کمائے جا سکتے ہیں۔ ثقلین مشتاق کی طرح محمد وسیم بھی اپنی ویڈیوز کی تفصیلات میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی کا استعمال کرتے ہیں تاکہ بھارتی شائقین بھی ویڈیو دیکھ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ