مکمل مفلوج شخص کا مہینوں بعد پہلا رابطہ: ’مجھے شراب چاہیے‘

ان کی ابتدائی باتوں میں سے ایک ان کی دیکھ بھال سے متعلق تھی یعنی جب کمرے میں ان سے ملنے والے موجود ہوں تو ان کے سر کو اونچے اور سیدھی حالت میں رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اے ایل ایس میں مبتلا ایک 34 سالہ شخص اپنے رابطے کے واحد ذریعہ کے طور پر برین امپلانٹ کا استعمال کرتے ہیں (تصویر: ویز سینٹر)

اپنی آنکھوں کو حرکت دینے کی صلاحیت تک کھو دینے اور مہینوں تک بات چیت کرنے سے قاصر رہنے والے ایک مکمل طور پر مفلوج شخص برین امپلاںٹ کے بعد اپنی بات سمجھانے کے قابل ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے جس چیز کا مطالبہ کیا وہ بیئر (شراب) تھی۔

ایک منٹ میں صرف ایک کریکٹر کی شرح کی رفتار سے جملے لکھنے والے مفلوج شخص نے بینڈ ٹول ’لاؤڈ‘ بھی سننے کا کہا، اپنی والدہ سے سر کی مالش کی درخواست کی اور سالن کا آرڈر دیا اور یہ سب کچھ انہوں نے سوچنے کی طاقت سے کیا۔

مفلوج شخص کی عمر 36 سال ہے جو مارچ 2019 میں امیوٹروفک لیٹرل سکلیروسیس (اے ایل ایس) کے نتیجے میں مکمل فالج میں مبتلا ہو گئے تھے جس کے بعد ان کے دماغ میں دو چکور الیکٹروڈ اریز کو سرجری کے ذریعے  امپلاںٹ کیا گیا تاکہ وہ اپنی بات پہنچانے کے قابل ہو سکے۔

پروگریسیو نیوروڈیجینریٹو کے مرض میں مبتلا افراد کی تشخیص کے بعد اوسط عمر دو سے پانچ سال ہوتی ہے حالانکہ وہ اس سے زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ (آنجہانی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ اس مرض کی تشخیص کے بعد مزید 55 سال زندہ رہے اور اپنی زندگی کے اختتام تک گال کے پٹھوں کے ذریعے کنٹرول کرنے والے مواصلاتی آلے پر انحصار کرتے رہے)۔

ابھی تک مکمل طور پر مفلوج مریض پر برین امپلانٹ کا تجربہ نہیں کیا گیا تھا اور یہ معلوم نہیں تھا کہ کیا ان لوگوں کے لیے بھی بات چیت ممکن ہے جن کے تمام عضلات دماغ سے کنٹرول کھو چکے ہوتے ہیں۔

ویز سینٹر کے ایک سینیئر نیورو سائنسدان ڈاکٹر جوناس زیمرمین نے کہا کہ ’یہ ہمارا پہلا مطالعہ ہے جس میں کسی ایسے شخص کو بات پہنچانے کے قابل بنایا گیا ہے جس کا کوئی عضو حرکت نہیں کر سکتا اور اس وجہ سے برین امپلانٹ (بی سی آئی) اب ان کے رابطے کا واحد ذریعہ بن گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ مطالعہ اس بارے میں ایک دیرینہ مسٔلے کا حل پیش کرتا ہے کہ آیا مکمل لاک ان سنڈروم والے لوگ جو آنکھوں یا منہ کی حرکت سمیت تمام عضلاتی کنٹرول کھو چکے ہوتے ہیں، وہ بھی اس رابطے کی کمانڈ پیدا کرنے کے لیے اپنے دماغ کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘

سوئٹزرلینڈ کے شہرجنیوا میں قائم ویز سینٹر فار بائیو اینڈ نیورو انجینیرنگ  میں محققین کے کو اے ایل ایس میں مبتلا مریض نے اس وقت برین امپلانٹ پر رضامندی ظاہر کی جب ان کے پاس 2018 میں بات چیت کے لیے آنکھوں کی حرکت کو استعمال کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

اس کانفیگریشن کو حاصل کرنے سے پہلے تین مہینوں میں کئی ناکام کوششیں ہوئیں جس نے مریض کے دماغی سگنلز کو سپیلر پروگرام پر بائنری ردعمل پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کے قابل بنایا اور اس کے لیے حروف کو ان کے سامنے پیش کیا گیا جس کا انہوں نے 'ہاں' یا 'نہیں' میں جواب دیا۔

پہلے جملے تیار کرنے میں مزید تین ہفتے لگے اور اگلے سال مریض نے اس طریقہ کار کے ذریعے درجنوں جملے بنائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کی ابتدائی باتوں میں سے ایک ان کی دیکھ بھال سے متعلق تھی یعنی جب کمرے میں ان سے ملنے والے موجود ہوں تو ان کے سر کو اونچے اور سیدھی حالت میں رکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔

انہوں نے ٹیوب کے ذریعے کھلائے جانے والے مختلف قسم کے کھانوں کی فرمائش بھی کی جس میں گولش اور میٹھے مٹر کا سوپ شامل ہے۔

ایسی ہی ایک فرمائش میں انہوں نے مطالبہ کیا: ’کھانے کے لیے میں آلو کا سالن پھر بولونے اور آلو کا سوپ لینا چاہتا ہوں۔‘

وہ اپنے چار سالہ بیٹے اور بیوی کے ساتھ بات چیت کرنے کے قابل بھی تھے اور یہ پیغام دیا: ’میں اپنے پیارے بیٹے سے محبت کرتا ہوں۔‘

اس تحقیق کی تفصیل اس ہفتے سائنسی جریدے ’نیچر کمیونیکیشن‘ میں شائع ہوئی ہے۔

مطالعہ، جس کا عنوان ‘Spelling interface using intracortical signals in a completely locked-in patient enabled via auditory neurofeedback training’ ، ہے میں بتایا گیا کہ بی سی آئی کمیونیکیشن سسٹم مریض کے گھر میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے کچھ سیشنز مریض کے لیپ ٹاپ کے ذریعے بھی دور سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔

برین-کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی کے پیچھے سائنسدان اب اے ایل ایس میں مبتلا دوسرے لوگوں کے لیے اسی طرح کے امپلانٹس فراہم کرنے کے لیے فنڈز تلاش کر رہے ہیں جس کے استعمال کے پہلے دو سالوں میں پانچ لاکھ ڈالر کے قریب لاگت آئے گی۔

ویز سینٹر کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر جارج کووس نے کہا کہ ’یہ اے ایل ایس میں مبتلا لوگوں کے لیے ایک اہم قدم ہے جن کی ہسپتال کے ماحول سے باہر دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔‘

ان کے بقول: ’یہ ٹیکنالوجی، ایک مریض اور اس کے خاندان کو ان کے اپنے ماحول میں رہتے ہوئے فائدہ پہنچاتی ہے اور یہ اس بات کی ایک بہترین مثال ہے کہ بی سی آئی فیلڈ میں تکنیکی ترقی کے ذریعے ایسے مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔‘    

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت