مریض کی غلط ٹانگ کاٹنے پر سرجن کو 2700 یورو کا جرمانہ

کلینک نے کہا کہ سرجری کے دو دن بعد پٹی کی تبدیلی کے دوران اس غلطی کا علم ہو۔

مریض کو بعد میں نفسیاتی مدد کی پیشکش بھی کی گئی اور  ان کی بائیں ٹانگ کو  درمیانی ران تک کاٹنے کے لیے ایک اور آپریشن کرنا پڑا  (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

آسٹریا کی ایک عدالت نے ایک مریض کی غلط ٹانگ کاٹنے پر سرجن کو 27 سو یورو کا جرمانہ کیا ہے۔

یہ واقعہ 18 مئی کو  اس وقت پیش آیا تھا جب چیک سرحد کے قریب فریسٹادٹ نامی قصبے کے کلینک میں ایک سرجن نے 82 سالہ مریض کی بائیں ٹانگ کی بجائے دائیں ٹانگ کاٹ دی۔

مئی ہی میں کلینک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مریض کی پچھلی بیماریوں کے نتیجے میں بائیں ٹانگ بے کار ہو گئی تھی جس کو کاٹنے کی ضرورت تھی۔

کلینک نے کہا کہ سرجری کے دو دن بعد پٹی کی تبدیلی کے دوران اس غلطی کا علم ہوا۔

آسٹریا کے خبر رساں ادارے ’ہیوٹ‘ نے مئی میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سرجری سے قبل مریض سے ان کی ٹانگ کاٹنے کی اجازت لی گئی تھی لیکن بیماری کے باعث وہ ایسا کرنے سے قاصر تھے۔

فریسٹادٹ کلینک کے میڈیکل ڈائریکٹر نوربرٹ فریش نے اس واقعے کی تحقیقات کا وعدہ کرتے ہوئے غلطی کے لیے عوامی معافی نامہ جاری کیا ہے۔

مریض کو بعد میں نفسیاتی مدد کی پیشکش بھی کی گئی اور  ان کی بائیں ٹانگ کو  درمیانی ران تک کاٹنے کے لیے ایک اور آپریشن کرنا پڑا۔

سرجن نے لنز شہر کی علاقائی عدالت کو بتایا کہ ان کا یہ عمل ایک ’انسانی غلطی‘ تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف ان کی جانب سے ایک انفرادی غلطی نہیں تھی بلکہ آپریشن تھیٹر میں موجود ٹیم کی اجتماعی غلطی تھی۔

مقامی خبر رساں ادارے ’کورئیر‘ کی رپورٹ کے مطابق جب عدالت میں سرجن سے پوچھا گیا کہ انہوں نے بائیں ٹانگ کی بجائے دائیں ٹانگ پر نشان کیوں لگایا تو انہوں نے جواب دیا: ’میں بالکل نہیں جانتی۔‘

عدالت کے ترجمان نے بتایا کہ بدھ کو عدالت نے سرجن کو سنگین غفلت کا قصوروار پایا اور ان پر جرمانہ عائد کیا جس میں سے نصف رقم معطل کر دی گئی۔

عدالت نے مریض کی بیوہ کو ہرجانے کے طور پر پانچ ہزار یورو دینے کا بھی اعلان کیا جو  اس مقدمے کے عدالت میں آنے سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق کلینک نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس طبی غلطی کی وجوہات اور حالات کا تفصیل سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ ٹیم کے ساتھ داخلی طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا اور انہیں دوبارہ تربیت فراہم کی گئی۔‘

سرجن، جن کا دوسرے کلینک تبادلہ کر دیا گیا ہے، فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کر سکتی ہیں۔

مارچ میں آسٹریا ہی کے ایک اور شہر سینٹ لوشیا کے OKEU ہسپتال نے کہا تھا کہ وہ اسی طرح کی غلطی سے ٹانگ کاٹنے کے ایک اور واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ