’اندازہ نہیں تھا کہ اگلا قدم میری معذوری کی طرف ہوگا‘

فوج کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ بارودی سرنگیں عسکریت پسندوں نے بچھائیں جن کا شکارعام شہری ہی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہوئے

’میرے لیے معمول کا دن تھا۔ بازار میں اپنی دکان پر جا رہا تھا۔ راستے میں لوگوں کے ساتھ دعا سلام بھی کرتا رہا کہ اتنے میں مٹی میں چھپا بم پھٹ گیا جس میں میری ایک ٹانگ ضائع ہوگئی اور میں عمر بھر کے لیے معذور ہوگیا۔‘

یہ کہنا تھا 40 سالہ ریمل خان کا جو شمالی وزیرستان کے حسوخیل  گاؤں کے رہائشی ہیں اور باردوی سرنگ کے دھماکے سے ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی تھی جبکہ دوسری ٹانگ بھی بری طرح زخمی ہوئی تھی لیکن علاج معالجے کے بعد وہ ٹانگ نہیں کاٹی گئی۔

غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ریمل خان کے چار چھوٹے بچے ہیں اور گھر میں ان کی بوڑھی والدہ اور ایک اہلیہ ہیں۔

ریمل خان نے بتایا کہ ان کی شمالی وزیرستان کی مرکزی بازار میر علی میں قصائی کی دکان تھی اور زندگی چل رہی تھی۔

انہوں نے بتایا، ’زندگی ٹھیک چل رہی تھی۔ جو کماتا تھا اس سے گھر کا خرچہ پورا ہوتا تھا اور بال بچوں کی تربیت سمیت ان کا خرچہ بھی اٹھاتا تھا۔‘

لیکن تقریبا 15 سال قبل ریمل خان کی زندگی میں مشکلات نے اس وقت ڈیرے ڈال دیے جب انہوں نے بارودی سرنگ پر پاؤں رکھ دیا۔

’حکومت کی طرف سے ایک پیسہ نہ ملا‘

ریمل خان نے بتایا کہ وہ صبح اپنی دکان پر جا رہے تھے کہ میرعلی بازار میں سڑک کنارے چھپے بارودی سرنگ پر ان کا پاؤں آگیا جس سے بم پھٹ گیا۔

ریمل خان نے بتایا، ’مجھے کیا پتہ تھا کہ اگلا  قدم لینے سے دھماکہ ہوجائے گا اور میں ایک پاؤں سے معذور ہوجاؤں گا۔ دھماکے کے بعد پہلے مجھے میرعلی کے ضلعی ہسپتال اور اس کے بعد پشاور بھیجا گیا تاہم وہاں پر ڈاکٹرز نے فیصلہ کرکے میرا پاؤں کاٹ دیا تھا کیونکہ وہ لاعلاج تھا اور نہ کاٹنے سے مزید مسئلہ پیدا ہو جاتا۔‘

ریمل خان دو کمرے کے ایک کچے گھر میں رہتے ہیں اور گھر کے واحد کفیل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت علاج پر تقریبا آٹھ لاکھ  خرچہ آیا تھا لیکن حکومت کی طرف سے مجھے ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔‘

ریمل نے بتایا، ’دھماکے کے بعد میں اب کسی کام کا نہیں ہوں، مجھے مصنوعی ٹانگ لگائی گئی ہے لیکن وہ وزن میں اتنی زیادہ ہے کہ میں تھوڑا سا فاصلہ طے کرتا ہوں تو ٹانگ میں درد شروع ہوجاتی ہے۔

’پڑوسی اور دوست وغیرہ مدد کرتے رہے لیکن مدد سے گھر کا خرچہ چلانا مشکل ہے۔‘

بارودی سرنگ کی دھماکوں سے متاثرہ افراد میں ریمل خان اکیلے نہیں ہے بلکہ  شمالی و جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں بچے، جوان اور بزرگوں سمیت سکیورٹی فورسز کے اہلکار متاثر ہوئے ہیں اور وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں۔

مقامی صحافی رسول داوڑ نے بتایا کہ شمالی وزیرسان میں متاثرین کی تعداد تو اتنی نہیں ہے لیکن جنوبی وزیرستان میں بہت زیادہ لوگ بارودی سرنگ کے دھماکوں سے معذور ہوگئے ہیں اور کچھ کیسز میں لوگ ہلاک بھی ہوئے لیکن ابھی تک یہ مسئلہ  حل نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا، ’انسانوں کے علاوہ جانور بھی ان دھماکوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے کچھ گھروں میں جب آپ دیکھیں تو ان کے جانور معذور ہوتے ہیں۔ یہ جانور اکثر پہاڑوں میں چرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں جہاں پر بارودی سرنگ پر پاؤں پڑنے سے زخمی ہوجاتے ہیں۔‘

بارودی سرنگیں وزیرستان میں کہاں سے آئیں؟

بارودی سرنگوں کا مسئلہ وزیرستان میں بہت عرصے سے چلا آرہا ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اور لوگ معذور ہوجاتے ہیں۔

بارودی سرنگ کے دھماکوں سے متاثرین کے حوالے سے مستند اعدادوشمار موجود نہیں کہ لینڈ مائنز کے دھماکوں میں اب تک کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں یا ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ وزیرستان میں بارودی سرنگیں صرف 2007 کے بعد بچھائی گئیں تھیں۔ پچھلے مہینے لینڈ مائن سے متاثر ہونے والوں نے ایک دھرنے کا انعقاد کیا تھا جس میں مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ یہ لینڈ مائنز سکیورٹی فوسرز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران بچھائی گئی تھیں۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہمیشہ اس کی تردید کی جاتی ہے۔

سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ لینڈ مائنز شدت پسندوں نے بچھائی تھیں تاکہ ان کی جانب ملٹری آپریشن کے دوران پیش قدمی ممکن نہ ہوسکے۔

تاہم وزیرستان میں بارودی سرنگوں کا مسئلہ 2007 میں دہشت گردی کی لہر کے دوران شروع نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ’افغان جہاد‘ کے وقت سے چلا آرہا ہے۔

دا نیو ہیومینیٹیرین نامی ادارے کی 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے 50 واقعات سامنے آئے تھے۔

اسی رپورٹ میں لینڈ مائن اینڈ کلسٹر امیونیشن مانیٹر نامی ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 2002 سے 2006 تک پاکستان میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے 1144 واقعات پیش آئے، جن میں 440 ہلاک اور 704 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق باردوی سرنگوں کو عسکریت پسند تنظیموں اور حکومتی فورسز نے ایک دوسرے کے خلاف بچھایا اور زیادہ تر ان علاقوں میں جہاں شدت پسندی عروج پر تھی۔

پاکستان دنیا کے ان 37 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ابھی تک بارودی سرنگوں کے استعمال کو ختم کرنے کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔

بارودی سرنگوں سے متعلق معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے لینڈ مائن اینڈ کلسٹر امیونیشن مانیٹر کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ سرحد پر 2002 کے بعد بارودی سرنگیں بچھانے کی کوئی اطلاع نہیں ملی اور سکیورٹی فورسز نے بارہا کہا ہے کہ وہ اندرونی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کرتے۔

پاکستان فوج کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ بارودی سرنگیں عسکریت پسندوں نے بچھائیں جن کا شکارعام شہری ہی نہیں بلکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہوئے۔

شمالی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان تمام جگہوں کو انتہائی احتیاط سے ’بند‘ کردیا ہے اور وہاں پر ڈی مائننگ کا عمل جاری رہتا ہے۔

تاہم ان کے مطابق ہمارے پاس ملک میں جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس سے کم وقت میں ان مائنز کو ’لوکیٹ‘ کیا جا سکے اور اس کو صاف کیا جائے۔

انہوں نے بتایا، ’سکیورٹی فورسز کے لیے بھی ایک  بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کے جوان بھی اس میں  یا تو جان سے گئے ہیں اور یا معذور ہوگئے ہیں۔‘

ایک سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ  پاکستان فوج نے وزیرستان کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کے لیے ایک سپیشل یونٹ بنایا ہے اور ساتھ میں عوام کی آگاہی کے لیے ان جگہوں پر بینرز آویزاں کیے ہیں تاکہ جہاں پر لیںڈ مائنز کا خطرہ ہو عوام اس جگہ سے دور رہیں۔

تاہم ایک سکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی سرنگوں کو اتنی آسانی سے صاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بارش کی وجہ سے کچھ مائنز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئی ہیں اور ان کو ڈھونڈنا بہت مشکل اور خطرے سے خالی نہیں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کی ڈی مائننگ ٹیم اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پورے علاقے کو صاف کیا جا سکے۔

شمال وزیرستان کے ایک پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو ڈی مائننگ کے حوالے سے بتایا کہ ضلع میں اب پولیس کے کچھ جوانوں کو بھی تربیت دی گئی ہے جو اہم جگہوں میں بارودی سرنگوں کی تلاش میں مدد کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان