انضمام کے تین سال: شمالی وزیرستان کتنا بدل گیا ہے؟

میر علی سے میران شاہ تک راستے میں مختلف جگہوں پر چیک پوسٹ ملیں جہاں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار صرف اتنا ہی پوچھتے تھے کہ ’کہاں جا رہے ہیں؟‘

قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وزیرستان جانے کا پروگرام بنایا اور ہم 11 نومبر کی صبح پشاور سے وزیرستان کے لیے روانہ ہوئے (تصاویر: انڈپینڈنٹ اردو)

’وزیرستان میں بم دھماکے تقریباً ختم اور مجموعی طور پر امن و امان میں بہت بہتری آئی ہے لیکن صرف ایک مسئلہ ہے جس کی وجہ سے عوام پر خوف طاری ہے اور وہ ہے ٹارگٹ کلنگ۔‘

یہ الفاظ ہیں شمالی وزیرستان کے ایک بزرگ شخص کے جن سے میری ملاقات میر علی کے ایک مصروف بازار میں ہوئی۔

میں اس سے پہلے بھی شمالی وزیرستان جا چکا ہوں اور دونوں مرتبہ ضلعی انتظامیہ اور  دیگر سٹیک ہولڈرز کو پیشگی اطلاع کیے بغیر ہی گیا۔

اس مرتبہ پھر میں نے  مقامی صحافی رسول داوڑ کے ساتھ  قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وزیرستان جانے کا پروگرام بنایا اور ہم 11 نومبر کی صبح پشاور سے وزیرستان کے لیے روانہ ہوئے۔

انڈ س ہائی وے اور پشاور سے بنوں تک کی سڑک پر جگہ جگہ  تعمیراتی کام جاری تھا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی تھوڑی مشکل ضرور ہو رہی تھی۔

ہم دوپہر کو بنوں پہنچ گئے تھے جہاں سے ہمیں کرائے پر گاڑی لے کر وزیرستان کے لیے روانہ ہونا تھا اور یوں وزیرستان کے مقامی ڈرائیور کے ساتھ وزیرستان روانہ ہوئے۔

میرے ذہن میں تھا کہ اب راستے میں مخلتف چیک پوسٹ سے گزرنا پڑے گا اور دل میں خوف بھی تھا کہ شاید صحافی ہونے کی وجہ سے مجھے وزیرستان جانے سے روک دیا جائے۔

دوران سفر رسول داوڑ سے یہی بات ہوئی کہ ویسے تو حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزیرستان جانے کے لیے اب کسی قسم کا اجازت نامہ نہیں چاہیے لیکن پھر بھی میرے دل میں خوف ضرور ہے جس پر رسول داوڑ مجھے کہتے رہے کہ ’یار فکر نہ کرو اب کچھ نہیں ہے۔‘

اور ایسا ہی ہوا۔ ہم جب وزیرستان کی حدود میں داخل ہو رہے تھے تو ایک بڑی چیک پوسٹ پر ہمارا استقبال کیا گیا۔ اس چیک پوسٹ پر گاڑیوں اور سواریوں کی معمول کی انٹری کی جاتی تھی۔

ہمارے ڈرائیور نے بتایا کہ یہاں پر وزیرستان اور بنوں کے مقامی افراد کے لیے انٹری ضروری نہیں ہے لیکن باقی اضلاع سے جب لوگ آتے ہیں تو ان کی یہاں پر اندراج کیا جاتا ہے۔

میں گاڑی میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھی ہمارے شناختی کارڈ چیک پوسٹ کے قریب ایک کیبن میں لے گئے تاکہ انٹری ہو سکے۔

صرف گاڑی اور نام وغیرہ کی انٹری کی گئی جس پر میں نے ڈرائیور سے کہا: لگتا ہے واقعی امن آگیا ہے کیونکہ گاڑی کی تو چیکنگ ہی نہیں کی گئی۔‘

وزیرستان میں داخل ہونے کے بعد ہم نے سفر جاری رکھا کیونکہ ہم میران شاہ جانا چاہتے تھے اور وہاں پر قیام کا ارادہ تھا۔

 ہم شام کے تقریباً سات بجے میران شاہ پہنچے۔ وہاں تک کا سفر دلچسپ اس لحاظ سے تھا کہ میں پہلی مرتبہ وزیرستان میں رات کے وقت سفر کر رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تمام راستے حالات پر گفتگو بھی ہوتی رہی اور ساتھ میں ان سے سوالات بھی کرتا تھا کہ جس سڑک پر ہم سفر کر رہے  تھے، یہ دہشت گردی کے دوران بند تھی یا اسی طرح کھلی تھی؟

رسول داوڑ نے بتایا کہ روڈ تو کھلا تھا لیکن کسی بھی وقت بند ہو سکتا تھا اور رات کے وقت سفر کرنا تقریباً ناممکن تھا۔

ڈرائیور نے بھی بتایا کہ جب بھی کسی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا تھا تو روڈ کو بند کر دیا جاتا تھا لیکن ابھی میں رات کے 12 بجے تک اسی روڈ پر سفر کرتا ہوں کیونکہ میرا گھر بھی میران شاہ میں ہے، لیکن سفر کے دوران اب کوئی مسئلہ نہیں پیش آتا۔

وزیرستان میں داخلے کے بعد پہلا بڑا بازار میر علی آتا ہے۔

میر علی سے میران شاہ تک راستے میں مختلف جگہوں پر چیک پوسٹ ملیں جہاں پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار صرف اتنا ہی پوچھتے تھے کہ ’کہاں جا رہے ہیں؟‘

شام کے بعد ہم میران شاہ بازار پہنچ گئے۔ راستے میں ایک نئی مارکیٹ بھی دکھائی دی۔

ساتھی سے پوچھا کہ کیا پہلے بھی اس طرح شام کے بعد مارکیٹیں کھلی رہتی تھیں، تو انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مقامی مارکیٹ ہے جو ابھی ابھی بنی ہے اور کھلی رہتی ہے لیکن عام طور پر جتنی بھی بڑی مارکیٹیں ہیں وہ عصر کی نماز کے بعد بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

ان سے میں نے پوچھا کہ اتنی جلدی بند ہونے کی وجہ کیا ہے، تو جواب میں انہوں نے بتایا کہ ویسے تو عموماً مارکیٹس یہاں پر جلدی بند ہوتی ہیں لیکن آج کل ٹارگٹ کلنگ کے خوف کی وجہ سے بھی زیادہ تر لوگ بازار جلد بند کر دیتے ہیں۔

ہم نے رات میران شاہ میں گزاری اور صبح دوبارہ میر علی کے لیے روانہ ہوگئے۔ راستے میں دن کے وقت اس سے پہلے ہم  سکیورٹی فورسز کے جوان دیکھتے تھے، لیکن میران شاہ سے میر علی تک ہمیں سکیورٹی فورسز کے جوان صرف ایک ہی جگہ پر نظر آئے جہاں پر وہ روڈ مائن کو چیک کر رہے تھے۔

میر علی بازار مکمل طور پر کھلا تھا اور کاروبار چل رہا تھا۔ تاہم وہاں کے بازار میں موجود دکانداروں نے مجھے بتایا کہ یہ مارکیٹ دہشت گردی کے دوران مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی اور اسے اب دوبارہ سے تعمیر کیا گیا ہے لیکن یہاں پر ابھی تک بجلی کا نظام موجود نہیں ہے۔

مقامی افراد نے بتایا کہ ’تقریباً تمام دکانوں میں سولر پینلز لگے ہوئے ہیں اور شمسی توانائی سے ہی بجلی کی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔‘

اسی حوالے سے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد علی نے بتایا کہ میر علی بازار کو بجلی  فراہم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے اور اس پر کام جاری ہے۔

میر علی کے قریب گاؤں حیدر خیل اور حسو خیل کا دورہ بھی کیا، جو اچھی کھجور کے لیے مشہور ہیں۔ اسی گاؤں سے کھجور وزیرستان سمیت ڈی آئی خان اور بنوں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں پہنچائی جاتی ہے۔

ٹارگٹ کلنگ

مجموعی طور شمالی وزیرستان کے عوام امن و امان کی صورت حال سے خوش تھے تاہم نشانہ بنا کر قتل کرنے  کا خوف انہیں لاحق تھا۔

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں گذشتہ کچھ مہینوں سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف موجود پایا جاتا ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے اعلٰیٰ افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’رواں سال نشانہ بنا کر قتل  کے 70 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ لواحقین مقدمہ درج کرانے سے کتراتے ہیں۔ ہماری تحقیق کے مطابق ٹارگٹ کلنگ میں 85 سے 90 واقعات ذاتی دشمنیوں کا نتیجہ ہیں۔‘

یہی بات ضلعی پولیس کے اعلیٰ افسر نے بھی کہی کہ زیادہ تر واقعات میں ٹارگٹ کلر کا پتہ لواحقین کو ہوتا ہے لیکن وہ مقدمہ درج کرنے سے کتراتے ہیں اور جب مقدمہ درج نہیں ہوتا تو پولیس باقاعدہ طور تفتیش بھی نہیں کر سکتی۔ 

’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام میں یہ آگاہی پھیلائی جا سکے کہ واقعات کیسے بھی ہوں انہیں پولیس مقدمہ درج ہو تاکہ پولیس کے لیے واقعے کی درست طریقے سے تفتیش ممکن ہو سکے۔

نئے گھر اور تعمیراتی کام

شمالی وزیرستان میں یہ بات بھی دیکھی گئی کہ لوگوں کی جانب سے تعمیراتی کام شروع ہے۔ کوئی مکان بنا رہا ہے، تو کوئی مارکیٹ یا پلازہ تعمیر کرنے میں لگا ہے۔

ساتھی سے پوچھا کہ یہ اب شروع ہوا ہے، تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے دوران بہت زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہوا تھا لیکن اب گذشتہ کچھ سالوں سے لوگوں نے دوبارہ کاروبار اور نئے مکان بنانے شروع کر دیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سڑک پر جتنے پیٹرول پمپ نظر آ رہے ہیں، یہ بھی حالات بہتر ہونے کے بعد دوبارہ بنائے گئے ہیں کیونکہ دہشت گردی کے دوران یہ بھی مکمل تباہ ہوگئے تھے۔

موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ کا مسئلہ

میر علی بازار میں ہم کھڑے تھے کہ دکانوں کی چھتوں پر چھتری نما انیٹینا نظر آیا۔ جب ہم نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو مقامی افراد کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ کی ایکسٹینشن کے لیے لگایا گیا ہے۔

اسی بازار میں کچھ دکانداروں کی جانب سے پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ لگایا گیا تھا اور پھر گھنٹے یا مہینے کے حساب سے وہ مقامی لوگوں کو انٹرنیٹ فراہم کرتے تھے۔

اس علاقے کے لوگوں نے سب سے زیادہ شکایات انٹرنیٹ کی ہی کیں کیونکہ یہاں تھری جی اور فور جی سروس بند کر دی گئی ہے۔

ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے یوفون کی جانب سے فور جی سروس شروع کی گئی تھی لیکن اب دوبارہ سے بند ہے۔

شمالی وزیر ستان کے جتنے بھی علاقوں کا ہم نے دورہ کیا، وہاں پر ٹیلی نار کے سگنلز تو بالکل نہیں تھے لیکن موبی لنک اور یوفون کی سروس کچھ علاقوں میں موجود تھی۔

وزیرستان اور جنوبی خیبرپختونخوا کے اس دورے کے دوران مرتب کی گئی رپورٹیں آپ آنے والے دنوں میں انڈپینڈنٹ اردو کے پلیٹ فارمز پر دیکھ اور پڑھ سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان