جنوبی وزیرستان کا بنجر گاؤں جو اب اناروں کا باغ کہلاتا ہے

عمر نے مدیجان کے علاقے میں اپنی مدد آپ کے تحت کنواں کھودا اور پھر تقریباً تین سو کنال بنجر زمین کو زیر کاشت لانے کے لیے اس پر انار کے پودے لگا دیے۔

پاکستان میں جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی کے علاقہ مدیجان میں ایک بنجر اور بیابان سا گاوں تھا جہاں زیتون کے کچھ درختوں کے علاوہ کوئی سایہ دار درخت موجود نہیں تھا مگر اب وہ گاؤں اناروں کے باغ کے نام سے مشہور ہے۔

گاؤں میں کوئی ایسا درخت نہیں تھا جس کے سائے میں بیٹھ کر آرام کیا جا سکے اور نہ ہی مدیجان کے علاقے میں پانی کا کوئی بندوبست تھا۔

علاقہ مکین تقریباً چھ سات کلومیٹر دور سے گدھوں پر پانی لایا کرتے تھے۔ یہ علاقہ اتنا سنسان تھا کہ کچھ گھروں کے علاوہ یہاں پر کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔

مدیجان کے ایک معذور شخص، 45 سالہ عمر نے اپنی سوچ اور محنت سے اس علاقے کی تقدیر بدل دی ہے۔

عمر نوکری کے لیے نہ تو دوبئی جا سکتے تھے اور نہ ہی ان کا دوسرا کوئی ذریعہ معاش تھا۔ عمر نے مدیجان کے علاقے میں اپنی مدد آپ کے تحت کنواں کھودا اور پھر تقریباً  300 کنال بنجر زمین کو زیر کاشت لانے کے لیے اس پر انار کے پودے لگا دیے۔

ان کی محنت رنگ لانے لگی اور انار کے سات ہزار پودے کامیابی کے ساتھ بڑے ہوتے گئے یہاں تک کہ ان میں پھل لگنے لگے۔

عمر کے مطابق اس کام میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر والوں نے بھی ان کا ساتھ دیا اور 250 انار کے پودے عمر کو باغ میں لگانے کے لیے دیے اور ٹریکٹر کی مدد سے عمر کے لیے زمین بھی تیار کی گئی۔

انار کے باغ کو اتنے وسیع رقبے پر لگانے اور محنت مشقت کے بعد پہلے سال تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے کا منافع ہوا اور اس سال تقریبا چھ لاکھ روپے کا منافع متوقع ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمر کے مطابق اگر انار کے یہ پودے اسی طرح کامیابی کے ساتھ پھلتے پھولتے رہے تو تین چار سال بعد وہ 30 یا 40 لاکھ روپے کا منافع کما سکتے ہیں۔

عمر نے اپنی معذوری بوجھ نہیں بنائی بلکہ انار کے باغ لگا کر نہ صرف مدیجان کو سرسبز بنایا بلکہ گھر بیٹھ کر لاکھوں روپے کمانے لگے۔

انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر انسان میں کچھ کرنے کی ہمت و لگن ہو تو وہ مٹی سے بھی سونا اگلوا سکتا ہے۔

عمر کی محنت اور منافعے کو دیکھ کر علاقے کے باقی لوگوں نے بھی انار کے باغ لگانا شروع کر دیے ہیں جس سے مدیجان سرسبز اور انار کے خوبصورت پودوں سے لہلہانے لگا اور مدیجان کا نام انار باغ کلے پڑ گیا۔

عمر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ہماری مدد کرے تو مزید بنجر زمین آباد ہو سکتی ہے جس سے نہ صرف علاقے کے فارغ نوجوانوں کو روزگار مہیا ہوگا بلکہ یہ انار بیرون ملک میں برآمد کر کے زرمبادلہ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں جو کہ  جنوبی وزیرستان کی ترقی اور امن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا