’بروس ویلس جیسا ایکشن ہیرو دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہو گا‘

’ڈائی ہارڈ‘ نے بروس ویلس کو شہرت کی اونچائی پر پہنچا دیا۔ یہ اعلان کہ وہ ایک دماغی بیماری میں مبتلا ہیں اور اداکاری چھوڑ رہے ہیں ہر اس شخص کے لیے افسوسناک خبر ہے جس نے دہائیوں سے ان کی اداکاری کے آسان انداز کا لطف اٹھایا ہے۔

 1988 میں بننے والی ہالی وڈ فلم ’ڈائی ہارڈ‘ میں بروس ویلس کو شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا (ٹوئنٹیئتھ سینچری فاکس پروڈکشنز)

1987 کے اوائل میں ہالی وڈ کے نامور پروڈیوسر لیری گورڈن اور جوئل سلور ایک ایکشن ہیرو کی تلاش میں تھے۔

وہ ایک ایکشن کہانی پر کام کر رہے تھے جس میں دہشت گرد لاس اینجلس میں ایک بلند و بالا ٹاور کو ہائی جیک کر لیتے ہیں۔ سکرپٹ میں ایک مضبوط اور سڈول جسم والے فائٹر ہیرو کی ضرورت تھی۔

معاہدے کی وجوہات کی بنا پر فرینک سناترا ’ڈائی ہارڈ‘ نامی اس فلم کی اولین ترجیح تھے تاہم فرینک نے سب سے پہلے ہی انکار کیا کیونکہ وہ 1968 میں بننے والی فلم ’دا ڈیٹیکٹیو‘ میں بطور ہیرو کام کر چکے تھے۔ یہ فم بھی ’ڈائی ہارڈ‘ کی طرح مصنف روڈرک تھورپ کے تھرلر ناولوں پر مبنی تھی۔

جب 70 سالہ اداکار نے اس بات کی تصدیق کہ ان کے دہشت گردوں سے لڑنے والی فلموں کے دن اب ختم ہو چکے ہیں تو پروڈیوسرز نے سیدھے سب سے مضبوط امیدوار یعنی آرنلڈ شوارزنیگر سے رابطہ کیا۔ لیکن ’کمانڈو‘، ’دا ٹرمینیٹ‘ر اور ’پریڈیٹر‘ کے سٹار نے بھی اس سے انکار کر دیا کیوں کہ انہوں نے مزاحیہ فلم ’ٹوئنز‘ میں ڈینی ڈی ویٹو کے ساتھ قسمت آزمانے کو ترجیح دی۔ 

ایک کے بعد ایک مزید انکار آتے رہے اور رچرڈ گیئر، برٹ رینلڈز، ہیریسن فورڈ، سلویسٹر سٹالون، نک نولٹے، ڈان جانسن اور میل گبسن سبھی نے اس سے معذرت کر لی۔

اس فہرست میں بروس ویلس کافی نیچے تھے۔ نجی جاسوس کے کردار پر مبنی ٹی وی شو ’مون لائٹنگ‘ جس میں انہوں نے سیبل شیپرڈ کے مقابل اداکاری کی تھی، کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بھی پہلے اس پروجیکٹ سے معذرت کر لی تھی۔ لیکن پھر، تقدیر نے ان کے لیے موقع پیدا کر دیا۔

ویلس نے 2007 میں ’انٹرٹینمنٹ ویکلی‘ کو بتایا: ’ایسا لگتا ہے کہ ایک معجزہ ہو گیا تھا۔ سیبل شیپرڈ امید سے ہوگئیں تو شو 11 ہفتوں کے لیے بند ہوگئیں اور یوں میرے لیے یہ لاس اینجلس کے ناکاٹومی ٹاور پر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح وقت تھا۔‘ 

جان میک کلین کے کردار میں ویلس کے بلاک بسٹر موڑ نے نہ صرف ان کی زندگی بدل ڈالی بلکہ انہیں راتوں رات ایک پسندیدہ ٹی وی اداکار سے ایک کمائی کا ذریعہ بننے والے ’اے لسٹ‘ مووی سٹار میں تبدیل کردیا۔ یہی نہیں بلکہ ویلس نے ایکشن ہیرو بننے کا مطلب ہی بدل ڈالا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویلس کے عروج سے پہلے 80 کی دہائی کی جوشیلی فلموں کے ستارے ناقابل تسخیر ستون کی طرح بن چکے تھے۔ لیکن ویلس کا متاثر کرنے کا انداز جُدا تھا یعنی وہ مزاحیہ پن، کمزوری دکھانے اور انسانیت سے زیادہ قریب تھے۔ 

انہوں نے گورڈن اور سلور کے دیے گئے 50 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ کمائے۔ گورڈن نے 1988 میں نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’اس پاگل دنیا، جس میں ہم رہتے ہیں، بروس اس کردار میں مکمل پیسہ وصول تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پروجیکٹ کے کامیاب ہونے کے لیے، آپ کو یہ محسوس کرنا ہے کہ یہ کردار نہیں بچ سکے گا، لیکن بروس بڑے ستاروں سے زیادہ ایوری مین سینیما کے لیے بنے ہیں۔‘

یہ اعلان کہ ویلس افےزیا (aphasia)، دماغی نقصان کی ایک شکل جو زبان کے اظہار اور فہم متاثر ہوتی ہے، میں مبتلا ہیں اور اداکاری چھوڑ رہے ہیں ہر اس شخص کے لیے افسوسناک خبر ہے جس نے دہائیوں سے ان کی اداکاری کے آسان انداز کا لطف اٹھایا ہے۔ 

 چند فلم بین ایسے ہو سکتے ہیں جو ایسا نہ سوچتے ہوں۔ ان کا کام طویل، خاص مزاج کا حامل ہے اور مردانگی کے اظہار والے تصور سے بے باک ان کرداروں سے بھرا ہے جو آپ کسی بھی بڑے اداکار کو ادا کرتے نہیں دیکھیں گے۔ شاید اس کی بہترین مثال یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے ’ڈائی ہارڈ‘ کے بعد جان ٹراولٹا اور کرسٹی ایلی کے مزاحیہ رومانوی پروجیکٹ ’لوک ہو از ٹاکنگ‘ میں ایک بچے کی وائس اوور کی تھی۔

نوے کی دہائی میں ویلس نے مشکل ایکشن کرداروں اور دیگر رولز میں توازن برقرار رکھا۔ انہوں نے ٹونی سکاٹ کی پولیس فلم ’دا لاسٹ بائی سکاؤٹ‘ جیسے ایکشن سے بھرپور کردار کے ساتھ روبرٹ زمیکیس کی خوبصورتی پر سیٹائر ’دیتھ بیکمز ہر‘ جیسی فلم میں مزاحیہ رول بھی ادا کیا، جس میں انہوں نے مطیع کردار ڈاکٹر انرنسٹ مینویل کے طور پر اپنے حوالے سے بنے سٹریوٹائپ کو توڑا۔

ان کے مزاح میں تشدد اور ان کے تشدد میں مزاح تھا۔ 1994 کی فلم ’پلپ فکشن‘ میں بدنام زمانہ گمپ سین کے مقابلے میں شاید ہی کچھ بہتر مثالیں ہوں جب ویلس نے تاریکی کی گہرائیوں میں مسکرانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ 

ویلس نے 2013 میں مگزین ’جی کیو‘ کو بتایا: ’یہ زبردست تحریر اور خوفناک تشدد کا ملاپ تھا۔ ہر طرف صرف موت تھی۔ یہ ایک بہت ہی عجیب دن ہے‘ والے مذاق میں جو کچھ کہا گیا اور اس وقت جو ہوا وہ چلتا رہا۔ میرے لیے اس میں رومانس ہے۔ منشیات، تشدد اور زبردست تحریر۔‘

’پلپ فکشن‘ کی زبردست کامیابی نے قابل ذکر فلاپ فلمز ’دا بون فائر آف دا وینٹیز‘ اور ’ہڈسن ہاک‘ کے بعد ویلس کے کیرئیر کو نئے سرے سے زندگی بخشی لیکن وہ خطروں سے کھیلنے سے باز نہیں آئے۔ 

انہوں نے 1995 میں ٹیری گیلیم کی ’12 مونکیز‘ اور 1997 میں لوک بیسن کی ’دا ففتھ ایلیمنٹ‘ جیسی نہ سمجھ آنے والی سائنس فکشن فلموں میں کام کیا لیکن اس کے باوجود وہ مائیکل بے کی ’آرماگیڈن‘ جیسی بڑی بلاک بسٹر فلم میں خلا میں ڈرلنگ کرنا والے کا کردار نبھانے کا بھی وقت نکال سکے، جو 1998 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔

اگلے ہی سال ویلس نے ایک بار پھر انداز بدلا اور ایم نائٹ شیامالن کی ڈراونی نفسیاتی تھرلر فلم ’دا سکستھ سینس‘ میں بطور چائلڈ سائیکالوجسٹ اداکاری کے جوہر دکھا کر ناقدین سے اپنے کیریئر کے بہترین ریوو حاصل کیے۔ 

گذشتہ دہائی میں ویلس کی ڈائریکٹ ٹو ویڈیو، جن کو ناقص رائے ملی، جیسی فلموں میں نظر آنے کے فیصلے سے باکس آفس پر ان کا ستارہ مدھم ہوا لیکن پھر 2012 کی ’مون رائز کنگڈم‘ میں ویس اینڈرسن کے ساتھ کام کرنے جیسی قابل ذکر مثالیں موجود ہیں اور پھر انہوں نے سائنس فکشن ’ لوپر ‘ میں واپسی کی، یہ وہ فلم ہے جس کو ویلس کو اپنا بہترین کام سمجھتے ہیں۔ 

ویلس نے میگزین ’ای سکوائر‘ کو بتایا: ’میں نے جو کچھ بھی کیا ہے یہ ان سب سے بہتر ہے۔‘ ویلس ریان جانسن کی تعریف کر رہے تھے جنہوں نے آگے جا کر ’سٹار وارز: دا لاسٹ جیڈی‘ اور ’ناوئز آؤٹ‘ جیسی فلمیں بنائیں۔

انہوں نے کہا: ’ریان نے ایک حیرت انگیز کام کیا۔ انہوں نے ایک حقیقی کہانی کا تصور دیا۔ انہوں نے اسے لکھا، اسے بیچا، اس کے ساتھ کھڑے رہے، اس کی ہدایت کاری کی اور اسے مکمل کیا۔ اس شہر میں ایسا کرنا مشکل ہے۔‘

جانسن نے تعریف لوٹاتے ہوئے کہا: ’وہ خود اتنے زبردست اداکار ہیں۔‘

ہدایت کار نے ’ہالی وڈ رپورٹر‘ کو بتایا: ’حقیقت یہ ہے کہ وہ بروس ویلس ہی ہیں جنہوں نے اس کردار کو نبھانے کے لیے اپنی ایکشن سٹار شخصیت کو بہت دلچسپ طریقوں سے استعمال کیا۔‘

ایکشن ہیرو ہونے کا مطلب کیا ہے اس کے لیے ان کے ہم عصر ستاروں کے ایک پورے دور، جیسن سٹیتھم اور ون ڈیزل جیسی مردانگی سے بھرپور پفارمنس سے لے کر رائن رینلڈز کے لطیفوں تک، کے کام پر ویلس کی اس تبدیلی کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔

 تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ان کے بعد آنے والے اداکاروں میں سے کسی کا بھی فلموں کا مجموعہ ویلس کی طرح متنوع، دلچسپ اور کامل تفریح پر مبنی ہو گا۔

انہوں نے اپنا ایک الگ ہی سٹائل بنایا ہے جیسا کہ انہوں نے 2018 میں اپنے ہی ’کامیڈی سنٹرل روسٹ‘ میں اس دیرینہ تنازعے کو ختم کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا تھا کہ آیا ’ڈائی ہارڈ‘ کو کرسمس مووی سمجھا جانا چاہیے یا نہیں۔

انہوں نے خوش کن سامعین کے سامنے اعلان کیا:’ ڈائی ہارڈ کرسمس مووی نہیں ہے۔ یہ ایک بدتمیز بروس ویلس کی فلم ہے!‘


بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  

ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم