وزیر اعلیٰ پنجاب کے جلد انتخاب کی درخواست مسترد

 چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے سپیکر کی جانب سے 16اپریل کو اجلاس منعقد کرانے کا نوٹیفکیشن برقرار رکھا اور فریقین کو پہلے معاملہ خود طے کرنے کا حکم دیا لیکن جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو عدالت نے اب فیصلہ سنا دیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی کے اراکین 26 فروری 2009 کو لاہور میں ایک احتجاج کے دوران اسمبلی کے احاطے کے باہر نعرے لگا رہے ہیں(اے ایف پی)

لاہور ہائی کورٹ نے آج کی  سماعت میں وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب 16اپریل کو ہی کرانے کا حکم دے دیا۔
 چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے سپیکر کی جانب سے 16اپریل کو اجلاس منعقد کرانے کا نوٹیفکیشن برقرار رکھا اور فریقین کو پہلے معاملہ خود طے کرنے کا حکم دیا لیکن جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو عدالت نے اب فیصلہ سنا دیا۔

ڈپٹی سپیکر اور حمزہ شہباز کی درخواستوں پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مختصر فیصلہ سنایا اور قرار دیا کہ وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی، درخواستوں کو نمٹا دیا گیا۔

عدالت نے فریقین کو غیر جانبداری سے انتخاب کروانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے صوبائی اسمبلی کے تمام عملے کو الیکشن کروانے میں مکمل تعاون کی ہدایت دی نیز یہ قرار دیا گیا کہ بروز جمعہ 11 بجے سے قبل اسمبلی میں تمام توڑ پھوڑ کی مرمت کروائی جائے۔

پچھلی سماعت میں کیا ہوا

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وزیر اعلٰیٰ پنجاب کے انتخابات کے لیے دائر درخواست پر گذشتہ روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ 

منگل کو سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا تھا کہ گذشتہ سماعت کے دوران جاری عدالتی حکم پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اپنے آفس کا چارج سنبھال لیا ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے، جو خود بھی وزیر اعلی کے امیدوار ہیں، حزب اختلاف کے جلد وزیر اعلی کے انتخاب کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف اپوزیشن نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے۔

سماعت کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کو اسمبلی کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے، نہ ہی عدالتیں اور اسمبلی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں کیونکہ اگر ایسا کریں تو جھگڑا ہو سکتا ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ عدالت صرف آئین کے نفاذ کے لیے کیس سن سکتی ہے، صوبائی اسمبلی ایک ادارہ ہے جو قانون سازی کرتا ہے یہ کیس ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور آرٹیکل 69 کے تحت مجلس شوریٰ کے اقدام پر عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رولز آف بزنس کے تحت صوبائی اسمبلی کے امور میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی، اسی طرح صوبائی اسمبلی ہائی  کورٹ سے نہیں پوچھ سکتی کہ کیسز کیوں تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، کیونکہ عدالتیں اور اسمبلی ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت کریں تو ٹکراؤ ہوگا۔ 

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق اسمبلی رولز پر عمل نہیں ہو رہا جو اسمبلی کا اپنا معاملہ ہے۔ اگر سپیکرکہیں انہیں الیکشن نہیں کروانا تو یہ آئینی معاملہ ہے اس معاملے  پرعدالت کو سماعت کا اختیار ہے لیکن الیکشن کی تاریخ مقررکرنا آئینی معاملہ نہیں اس لیے عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں ہے۔ 

سماعت کے دوران چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ قانون  کے مطابق  قائدِ ایوان کا انتخاب جلد از جلد ہوگا، انتخاب سے ایک روز قبل کاغذاتِ نامزدگی کا عمل مکمل کرنا لازم ہے۔ 

اس پر بیرسٹرعلی ظفر کا کہنا تھا، ’وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہونے والا ہے، تین دن آگے یا پیچھے کرنے سے فرق نہیں پڑے گا۔ جہاں تک سپیکر کے اختیارات کتنے ہیں اور کیسے استعمال ہونے ہیں اس کا فیصلہ رولز کریں گے۔ عدالت مداخلت نہ کرے ہم وزیر اعلٰی کے انتخاب سے بھاگ نہیں رہے۔‘

چیف جسٹس امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ کے امیدوار سپیکر  پرویز الٰہی نے ڈپٹی اسپیکردوست محمد مزاری  کو دیے گئے اختیارات  واپس کیوں لیے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پر سپیکر کے وکیل امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سپیکر الیکشن کے دن اختیارات استعمال نہیں کریں گے، عدالت کو سماعت کا اختیار نہیں۔ چیف جسٹس نے جواب میں کہا، ’میں تو پہلے سے کہہ رہا ہوں کہ عدالت کے بجائے آپس میں بیٹھ کر معاملہ حل کریں۔‘

امتیاز صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا، ’انہوں نے اسمبلی سے باہر ہوٹل میں بیٹھ کر اجلاس بلا کر وزیرِ اعلیٰ بنوا لیا، مساوی حکومت بنانے کی کوشش کی، آئین سے انحراف کوئی مذاق نہیں، انہوں نے جسے ہوٹل میں وزیرِ اعلیٰ بنایا وہ کہتا ہے کہ مجھ سے احکامات لو۔‘

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حلف لینے سے پہلے ایسا انتخاب کیسے قانونی ہو سکتا ہے۔ اس پر حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کوئی نوٹیفکیشن ہی نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ امتیاز صدیقی نے کہا کہ دوسرے فریق نے عدالت کے سامنے حقائق نہیں رکھے، سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کا معاملہ آ چکا ہے، حمزہ شہباز اور ڈپٹی سپیکر کی درخواستیں خارج ہونی چاہئیں۔

چیف جسٹس نے کہا، ’16 اپریل یا کسی بھی تاریخ کو اجلاس کنڈکٹ کیسے ہوگا؟‘

اس پر سپیکر کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ سب رولز میں موجود ہے، سپیکر کا متبادل ڈپٹی سپیکر ہے، دونوں نہ ہوں تو ہاؤس کو پینل آف چئیر مین چلائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے جوابی دلائل میں کہا کہ سپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ بار نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، ارکان کے منحرف ہونے پر اب بھی سپریم کورٹ میں فیصلہ ہونا باقی ہے، سپریم کورٹ کو کہا گیا کہ اسمبلی کے معاملات میں مداخلت نہ کریں لیکن عدالت نے حل نکالا، قومی اسمبلی میں پینل آف چیئرمین میں تیسرے نمبر پر ایازصادق سے اجلاس کرایا، ایاز صادق سے پہلے دو ارکان سے اجلاس نہیں کرایا گیا کیونکہ اس سے پھر اختلاف ہونا تھا۔

انہوں نے دلائل میں کہا، ’سپریم کورٹ یہ معاملہ نہ دیکھتی تو اسلام آباد کی صورتِ حال کچھ اور ہوتی، سپیکر اس میں خود امیدوار ہیں اس لیے ڈپٹی سپیکر اب ان کے اختیارات استعمال کریں گے، وزیرِ اعلیٰ کے استعفے کے بعد گورنر پنجاب نے فوری اجلاس بلایا، کاغذاتِ نامزدگی کے اگلے دن الیکشن نہیں ہوا تو عدالت یہ معاملہ دیکھ سکتی ہے، ہماری کوشش تھی کہ کسی بھی  طور پر معاملہ حل ہو جائے۔‘ 

لاہور ہائی کورٹ میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی دے رکھی ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور سپیکر پرویز الہٰی نے بھی عدالتِ عالیہ میں درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست