18 سال تک شمسی توانائی ذخیرہ کرنے کا طریقہ دریافت

محققین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سیلف چارجنگ الیکٹرانکس کا باعث بن سکتی ہے جو بوقت ضرورت ذخیرہ شدہ شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔

جرمنی میں ایک شخص سولر پلانٹس نصب کر رہا ہے (اے ایف پی)

سائنسدانوں نے شمسی توانائی پیدا کرنے اور بوقت ضرورت استعمال کرنے سے قبل اسے تقریباً دو دہائیوں تک ذخیرہ کرنے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے۔

مالیکیولر سولر تھرمل انرجی سٹوریج (ایم او ایس ٹی) نامی نظام کا استعمال کرتے ہوئے سویڈن میں چلمرز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور چین کی شنگھائی جیاو ٹونگ یونیورسٹی کے محققین نے تھرمو الیکٹرک جنریٹر کے طور پر کام کرنے کے لیے ایک انتہائی پتلی چپ تیار کی ہے۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے چلمرز یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری اینڈ کیمیکل انجینئرنگ کے پروفیسر کاسپر موتھ پولسن نے کہا کہ ’یہ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا ایک بالکل نیا طریقہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص موسم، دن یا جغرافیائی محل وقوع کے بغیر بھی ہم بجلی پیدا کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘

یہ نظام ایک خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ مالیکیول کا استعمال کرتا ہے جو کہ سورج کی روشنی میں سورج کی توانائی کو محفوظ کرنے کے لیے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

سویڈن میں شمسی توانائی سے بھرنے کے بعد چلمرز یونیورسٹی نے اسے شنگھائی میں اپنے ساتھیوں کو بھیجا جہاں وہ اس کو بجلی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

چلمرز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنیادی طور پر سویڈن کی دھوپ کو دنیا کی دوسری طرف بھیجا گیا اور چین میں اس کو بجلی میں تبدیل کر دیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سیلف چارجنگ الیکٹرانکس کا باعث بن سکتی ہے جو بوقت ضرورت ذخیرہ شدہ شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ہی قابل تجدید اور اخراج سے پاک توانائی کی پیداوار کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

اس نظام کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے پہلے مزید تحقیق اور بہتری کی ضرورت ہے، چلمرز یونیورسٹی نے کہا کہ ’جب ابتدائی مرحلے کے دوران ہی اس کو پیش کیا گیا تو اس نے ’دنیا بھر میں بڑی توجہ‘حاصل کی ہے۔‘

چلمرز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ژی ہانگ وانگ نے کہا کہ ’جنریٹر ایک انتہائی پتلی چپ ہے جسے ہیڈ فونز، سمارٹ واچز اور ٹیلی فون جیسے الیکٹرانکس میں لگایا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اب تک ہم نے صرف تھوڑی مقدار میں بجلی پیدا کی ہے لیکن نئے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تصور واقعی کام کرتا ہے۔ یہ بہت امید افزا لگتا ہے۔‘

یہ تحقیق سیل رپورٹز فزیکل سائنس نامی جریدے میں ’چپ سکیل سولر تھرمل الیکٹریکل پاور جنریشن‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس