چارجنگ کے لیے آٹھ کلومیٹر سفر طے کرنے والی موبائل بیٹریاں

سندھ کے صحرائی ضلعے تھر پارکر سے تعلق رکھنے والے پریم کے گاؤں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں اور نہ ہی ان کے خاندان کے مالی حالات ایسے ہیں کہ وہ سولر پلیٹس خرید سکیں۔

سندھ کے صحرائی ضلعے تھر پارکر سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ پریم کے پاس ٹچ سکرین موبائل فون تو ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے دوستوں اور رشتےداروں سے بات کر سکتے ہیں، مگر ان کے لیے اس موبائل کو چارج کرنا کسی پریشانی سے کم نہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں اور نہ ہی ان کے خاندان کے مالی حالات ایسے ہیں کہ وہ سولر پلیٹس خرید سکیں۔

پریم کا گاؤں ’ہر پار‘ مٹھی شھر سے آٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ جہاں سے وہ اپنے گھر کے چند موبائل فونوں کی بیٹریاں اور اپنا ٹچ سکرین فون چارج کروانے شہر جاتے ہیں اور وہاں دکان پر دس روپے فی بیٹری چارج کرواتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئی پریم نے بتایا: ’میرا موبائل میرے لیے ٹی وی کا کام بھی کرتا ہے۔ میں اپنے موبائل پر ہی گانے، فلمیں اور انٹرنیٹ چلاتا ہوں، مگر اس کی چارجنگ میرے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ مجھے روازنہ آٹھ کلومیٹر سفر کرکے مٹھی شہر جانا پڑتا ہے جہاں اپنا اور گھر والوں کا موبائل چارج کرنا پڑتا ہے۔‘

پریم گاؤں جانے والی سڑک پر ایک کیبن چلاتے ہیں، جہاں سے اتنی کمائی نہیں ہوتی کہ وہ ایک پاور بینک ہی خرید سکیں جو ان کے پاس دو دن تک چل سکے۔

دوسری طرف منگل سنگھ راجپوت ہیں، جن کا ڈیپلو موڑ پر جنرل سٹور ہے اور ان کی دکان میں ایک ہی وقت میں سو سے زیادہ موبائل کی بیٹریاں چارج کرنے کی سہولت موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل سنگھ کی دکان میں ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے، جس میں ایک سو سے زیادہ ساکٹ لگائے گئے ہیں جن میں ہر وقت 20 سے 25 بیٹریاں بٹر فلائی چارجر کی مدد سے چارج ہوتی رہتی ہیں۔

منگل سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’جب کوئی ہمارے پاس بیٹری چارج کروانے آتا ہے تو سب سے پہلے میں بیٹری پر مارکر سے ان کا نام لکھتا ہوں۔ بعد میں وہ بیٹری چارجنگ پر لگائی جاتی ہے۔ ایک گھنٹے میں بیٹری چارج ہو جاتی ہے۔ جب بیٹری کا مالک واپس آتا ہے تو وہ اپنا نام بتاتا ہے اور ہم اس سے دس روپے وصول کرکے بیٹری دے دیتے ہیں۔‘

منگل سنگھ کا کہنا ہے کہ موبائل بیٹریاں چارج کروانے والے لوگوں کا تعلق ایسے دیہات سے ہے جہاں پر سرکار نے ابھی تک بجلی کا کوئی انفراسٹرکچر نہیں رکھا، یہی وجہ ہے کہ مزدور طبقے کے یہ لوگ روزانہ مزدوری کی غرض سے شہر آتے ہیں اور شام کو اپنے موبائل فون شہر کی دکانوں سے چارج کروا کر گھر لے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا: ’بڑے دیہات میں بجلی موجود ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ آٹھ یا دس خاندان آ کر کسی ریت کے ٹیلے پر آکر بس جاتے ہیں تو ان کے لیے بجلی فراہم کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اتنے تو وسائل سرکار کے پاس ہیں بھی نہیں کہ وہ ہر آدمی کو ہر جگہ بجلی فراہم کرے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا