شمالی کوریا کے ’ابدی صدر‘ کی 110 ویں سالگرہ تقریبات

15 اپریل کا دن جوہری ہتھیاروں سے لیس شمال میں سورج کے دن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس روز کم ال سنگ کی سالگرہ منائی جاتی ہے جو موجودہ رہنما کم جونگ اُن کے دادا تھے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا سی ٹی وی نے تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں ملک کے رہنما کم جونگ اُن کو جمعے کو پیانگ یانگ کے کم ال سنگ سکوائر میں ہونے والی بڑی پریڈ میں شرکت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

شمالی کوریا میں اس کے بانی رہنما کی سالگرہ کے موقع پر پیانگ یانگ میں ہونے والی تقریبات کو براہ راست نشرکیا گیا جو کم ہی کیا جاتا ہے۔

یہ تقریب شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ کے 110 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد کی گئی۔ شمالی کوریا میں یہ دن ہرسال سال منایا جاتا ہےاسے سورج کا دن کہا جاتا ہے۔

15 اپریل کا دن جوہری ہتھیاروں سے لیس شمال میں سورج کے دن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس روز کم ال سنگ کی سالگرہ منائی جاتی ہے جو موجودہ رہنما کم جونگ اُن کے دادا تھے۔ یہ دن پیانگ یانگ کے سیاسی کیلینڈر میں سب سے اہم تاریخوں میں سے ایک ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات میں جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ براہ راست نشریات ہیں، دکھایا گیا کہ ملک کے نوجوانوں کی بڑی تعداد  کم ال سنگ سکوائر میں سالگرہ کی تقریب کے سلسلے میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس موقعے پر آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔

رنگ برنگے روایتی لباس میں ملبوس خواتین اور سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنے مردوں نے پیانگ یانگ کی پروپیگنڈا موسیقی پر رقص کیا جو کوریا کے روایتی رقص اور مغربی والٹز کا امتزاج تھا۔

ایک کمنٹیٹرنے آتش بازی کی فوٹیج کے بارے میں کہا: ’ہم اس سوشلزم سے بے انتہا محبت کرتے ہیں جسے ہم نے منتخب کیا۔‘

بعد میں کے سی ٹی وی نے شمال کے خوبصورت دریائے تائیڈونگ اورکم ال سنگ سکوائر کے قریب رنگارنگ آتشبازی کا مظاہرہ دکھایا ملک کے دارالحکومت میں روشنییوں کی مدد سے میزائل اور ٹینکوں کی تصاویر بنائی گئیں۔

 سرکاری ذرائع ابلاغ نے جمعے تک ان تقریبات کو مسلسل نشر کیا جن میں یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا چراغاں کے تہوار، رقص کی پارٹیاں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے خراج تحسین پیش کرنا شامل ہے۔

پیانگ یانگ میں 40 سالہ ڈاکٹر ری بوم چول کہا کہ’میں اپنی بیٹی کے ساتھ چراغاں دیکھنے آیا۔ آج اسے دیکھ  رہاں ہوں۔ یہ واقعی بہت اچھا ہے۔ اس موقعے کی خاص اور متاثر کن بات خود انحصاری کا اظہار ہے۔‘ 

سالگرہ کی تقریبات شمالی کوریا کی جانب سے اب تک کے اپنے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے تین ہفتے بعد کیا گیا۔ 2017 کے بعد پہلی بار طاقتور ترین ہتھیاروں کو پوری صلاحیت کے ساتھ  داغا گیا۔ اس میزائل تجربے اس سال پابندیوں کو ہوا میں اڑانے والے ریکارڈ توڑ تجربات کے سلسلہ  اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس تجربے نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور جوہری تجربات پر خود ساختہ پابندی کے خاتمے کی جانب اشارہ کیا۔

تجزیہ کاروں سمیت جنوبی کوریا اور امریکی حکام کو بڑی حد تک توقع کی تھی کہ پیانگ یانگ 15 اپریل کو پریڈ کے موقعے پر نئے ہتھیاروں کی نقاب کشائی یا ملک کے ممنوعہ جوہری ہتھیاروں کا تجربہ بھی کرے گا لیکن اس سرکاری میڈیا نے جمعے اس طرح کے کسی بھی واقعے کا ذکر نہیں کیا۔

جمعے کو علی الصبح جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں قائم سپیشلسٹ سائٹ این کے نیوز نے کہا کہ شمالی کوریا میں اس کے ذرائع نے جمعے کو صبح سویرے ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کو پیانگ یانگ کی فضا میں نچلی پرواز کرتے ہوئے سنا جو فوجی پریڈ کا اشارہ دے رہے تھا لیکن بعد میں سیٹلائٹ کی تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ کوئی فوجی پریڈ نہیں ہوئی۔

’محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے‘

ایک اور ماہر کا کہنا تھا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ پیانگ یانگ کی مرکزی فوجی پریڈ 25 اپریل کو ہو گی  جو شمالی کوریا کی فوج کے قیام کی سالگرہ ہے۔

یونیورسٹی آف نارتھ کورین سٹڈیز کے پروفیسر یانگ مو جن نے اے ایف پی کو بتایا: ’چوں کہ سالگرہ کی دونوں مواقع میں صرف 10 دن کا وقفہ ہے اس لیے دونوں مواقع پر پریڈ کا انعقاد قدرے مشکل لگتا ہے۔‘

سالگرہ کے گذشتہ مواقع پر پیانگ یانگ نے تقریبات منعقد ہونے کے کئی گھنٹے بعد سرکاری ٹی وی پر فوجی پریڈ کی فوٹیج نشر کی اور سرکاری اخبارات میں ان کے بارے میں پیشگوئی کچھ نہیں بتایا۔

سیئول کے فوجی حکام نے کہا کہ ان کے پاس پیانگ یانگ میں ممکنہ پریڈ کے بارے میں شیئر کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی معلومات نہیں ہیں لیکن تاہم وزارت اتحاد نے کہا کہ وہ صورت حال کی قریب سے نگرانی کر رہی ہے۔

شمالی کوریا کے بانی کم ال سنگ 1994 میں چل بسے تھے لیکن وہ ملک کے’ابدی صدر‘ہیں۔ ان کی محفوظ کی گئی لاش دارالحکومت کے مضافات میں واقع کمسوسن پیلس آف دی سن میں سرخ روشنی والے چیمبر میں رکھی گئی ہے۔

شمالی کوریا کے شہریوں کو پیدائش سے ہی کم ال سنگ اور ان کے بیٹے کم جونگ ال کی تعظیم کرنا سکھایا جاتا ہےاور تمام بالغ افراد ایک یا دونوں  کی تصویر والے بیج لگاتے ہیں۔

33 سالہ ری گوانگ ہائیوک نے پیانگ یانگ کم ال سنگ اور کم جونگ ال کے مجسموں کو دیکھتے ہوئے کہا: ’جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں عظیم رہنما کے لیے محبت میں اضافہ ہو رہا ہے بڑھتی جا رہی ہے۔ محبت ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا