پی ٹی آئی حکومت نے قرضوں سے دفاعی اخراجات کیے: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ہمارے دور کے منصوبے تعطل کا شکار رہے جبکہ ملک کے دفاعی اخراجات بھی قرضوں سے کیے جاتے رہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ان کے دور کے منصوبے تعطل کا شکار رہے جبکہ ملک کے دفاعی اخراجات بھی قرضوں سے ادا کرتے رہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں پشاور موڑ تا اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو بس منصوبے کے افتتاح کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو بس منصوبہ چار سال تعطل کا شکار رہا جس کی وجہ سے اس کے اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ آج کی بات نہیں ایسا ہمیشہ سے ہے کہ قومی آمدن سے کچھ اخراجات بہت مشکل سے پورے ہوتے ہیں جن میں قرضوں پر سود کی ادائیگی اور تنخواہیں شامل ہیں۔ ’اس سے قبل دفاع کے اخراجات قومی آمدن سے ادا ہوتے تھے لیکن پی ٹی آئی کے آنے کے بعد دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں سے پورا کیا جا رہا ہے۔‘

وزیراعظم نے موجود صورت حال کو گمبھیر قرار دیا اور کہا کہ ترقیاتی منصوبے انہیں بدقسمتی سے قرضوں سے ہی پورا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’رمضان میں اس ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے والے مفت سفر کر سکیں گے۔‘

تحریک انصاف حکومت پت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے وزرا کے پاس بڑی آرامدہ اور بلٹ پروف گاڑیاں تھیں اور انہیں اس بات کی فکر نہیں تھی کہ کسی بچے نے سکول جانا ہے، کسی بیوہ نے مشقت کر کے اپنے بچوں کو رزق حلال کھلانا ہے، اگر انہیں اس بات کا احساس ہوتا تو یہ منصوبہ چار سال چھوڑ چار گھنٹے تاخیر کا شکار نہ ہوتا۔

ان کا کہنا تھا ’یہ منصوبہ چار سال ابدی نیند سوتا رہا لیکن میں نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اس کو چار دن میں مکمل کَر کے اس کا افتتاح کر دیا۔‘

شہباز شریف نے کہا  کہ میں اسی رفتار سے کام کروں گا جس رفتار سے ہمیشہ سے کام کرتا رہا ہوں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سابق وزیر اعظم کو گھبراہٹ ہوگی لیکن عوام کی گھبراہٹ ختم ہوگئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’سابق وزیراعظم پر گھبراہٹ طاری ہے کہ اتحادی حکومت نے شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب کیا ہے۔‘

شہباز شریف کے مطابق تحریک انصاف نے وکلا کے ذریعے لاہور کی اورنج لائن منصوبے کو بھی ایک سال کے تعطل کا شکار کروایا۔ سپریم کورٹ میں اس کیس پر آٹھ مہینے تک فیصلہ محفوظ رہا جس کی وجہ اس منصوبے میں کافی تاخیر ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اورنج لائن کا افتتاح کیا گیا تو میں اس وقت جیل میں تھا۔ جبکہ گذشتہ چار سال کے دوران منصوبوں میں تاخیر کر کے قومی وسائل کا نقصان کیا گیا۔

انہوں نے اس موقعے پر پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے پر چین اور ترکی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بہترین دوست چین اور ترکی نے اس پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں براہِ راست اور بالواسط تعاون کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین بہترین دوست ہے جوہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور چینی قیادت نے تمام تر بین الاقوامی فارمز پر پاکستان سے تعاون کیا اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں معاونت کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم چینی صدر شی جن پنگ کے بہت مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں سی پیک کا تحفہ دیا، یہ ایک گیم چینجر ہے اور مستقبل میں بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔

طیب اردوغان کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ ایک جدت پسند رہنما ہیں جنہوں نے ترک معیشت کو مضبوط کیا اور ترکی نے مشکل اور امن کے اوقات میں پاکستان کی مدد کی ہے جس کے لیے وہ صدر طیب اردوغان اور ترکی کے شہریوں کے بے مشکور ہیں۔

حکام کو توقع ہے کہ بس سروس روزانہ ہزاروں مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات فراہم کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان