خالد مشعل، جو حماس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، نے وحہ میں ایک کانفرنس میں کہا کہ ’مزاحمت قبضے میں رہنے والے لوگوں کا حق ہے۔ ایسی چیز جس پر قومیں فخر کرتی ہیں۔‘
حماس
ابو شباب پر الزام تھا کہ انہوں نے دو سالہ غزہ پر جاری نسل کش جارحیت کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا، امدادی سامان لوٹا اور فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ حماس کے جنگجوؤں کو بھی قتل یا اغوا کیا۔