خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 2022 میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں ’کوئی ذاتی طور‘ پر عاصم منیر کو نہیں جانتا تھا۔