یہ طالبان حکام کی پہلی اعلیٰ سطحی شرکت ہے، جو روس کی جانب سے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہوئی۔
خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اپنے دورے کے دوران پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔