آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی: ’اخراجات، ترقیاتی فنڈز روکنا ہوں گے‘

پاکستان اس وقت منتظر ہے کہ آئی ایم ایف جولائی 2019 میں طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے ریسکیو پیکج کے ساتویں جائزے پر بات چیت شروع کرے۔

11 جنوری 2022 کو لی گئی اس تصویر میں کراچی میں ایک منی ایکسچینج ڈیلر امریکی ڈالر گن رہا ہے۔ اگر نظرثانی کا عمل منظور ہو جاتا ہے تو آئی ایم ایف پاکستان کو 900 ملین ڈالر سے زیادہ جاری کرے گا اور دیگر بیرونی فنڈنگ کو بھی گرین سگنل دے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

نومنتخب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کو بحال کرنے کے لیے اخراجات اور ترقیاتی فنڈز میں کمی کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا: ’ہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی کوشش کریں گے۔ انشاء اللہ ہم بیلٹ کس لیں گے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ فنڈز (پی ایس ڈی پی) میں کمی کریں گے۔‘

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وہ آئی ایم ایف کے اجلاس میں شرکت کے لیے آج واشنگٹن جائیں گے، جس میں پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر رضا باقر بھی شرکت کریں گے، جو پہلے سے ہی وہاں موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان اس وقت منتظر ہے کہ آئی ایم ایف جولائی 2019 میں طے پانے والے چھ ارب ڈالر کے ریسکیو پیکج کے ساتویں جائزے پر بات چیت شروع کرے۔

اگر نظرثانی کا عمل منظور ہو جاتا ہے تو آئی ایم ایف 900 ملین ڈالر سے زیادہ جاری کرے گا اور دیگر بیرونی فنڈنگ کو بھی گرین سگنل دے گا۔

بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور غیر ملکی ذخائر کے 10.8 ارب ڈالر تک گرنے کے معاشی تناظر میں، پاکستان کو اس وقت بیرونی مالیاتی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایک خط دکھانا چاہتے ہیں۔ ’یہ خط پی ٹی آئی کی حکومت کی نااہلی کو ثابت کرتا ہے۔ اس سال بجٹ کا خسارہ 5600 ارب روپے ہو گیا۔ آج تک تمام حکومتوں نے مل کر 25 ہزار ارب روپے قرضہ لیا۔ ہم مہنگائی 2.3 فیصد پر چھوڑ کر گئے اب 10 فیصد ہو گئی ہے۔ ہم دو کروڑ لوگوں کو خط غربت سے اوپر لائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کوعمران خان واپس خط غربت سے نیچے لے گئے اور ان کی پالیسیوں سے غربت بڑھی۔ بقول مفتاح اسماعیل: ’اب حکومت پچھلے دور میں روپے کی قدر کو اور معیشت کو ٹھیک کرکے دکھائے گی۔‘

وزیر خزانہ نے مزید کہا: ’عمران خان نے ایک سکول نہیں بنایا، برآمدات ضرور بڑھیں لیکن مہنگائی بھی بڑھ گئی ہے، برآمدات سے زیادہ درآمدات بڑھ گئی ہیں۔ ایس این جی پی ایل میں 200 ارب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، گیس سیکٹر کا اس سے پہلے کوئی سرکلر ڈیبٹ نہیں تھا، آج 15سو ارب روپے کا سرکلر ڈیبٹ گیس سیکٹر میں ہے۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان کے ہٹائے جانے کے بعد سے پاکستان میں اس وقت سیاسی منظر نامہ تبدیل ہورہا ہے۔

نئی حکومت کو اس وقت بہت زیادہ معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے اور حکومت کے مطابق جون میں مالی سال کے اختتام پر مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 10 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جب سالانہ بجٹ پیش کیا جانا ہے۔

دوسری جانب حماد اظہر، جو عمران خان کی حکومت میں توانائی کے وزیر اور اب ان کی پارٹی کے معیشت پر فوکل پرسن ہیں، نے مفتاح اسماعیل کے نمبروں کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی نئی حکومت کو دوہری مہنگائی اور معیشت کی سست شرح نمو سے بھی نمٹنے کی ضرورت ہے، جس کے بارے میں آئی ایم ایف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پہلے 4.8 فیصد کے تخمینے کے مقابلے میں اب شرح نمو چار فیصد رہنے کا امکان ہے۔

تمام معاشی چیلنجز میں سب سے مشکل مطالبہ تیل اور بجلی کی سبسڈی کو واپس لینا ہوگا جبکہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں جو ٹیکس معافی دی تھی، اس کا دفاع کرنا بھی شامل ہیں۔ ان اقدامات کو مفتاح اسماعیل نے نئی حکومت کے لیے ’بارودی سرنگیں لگانے‘ کے مترادف قرار دیا۔

شریف حکومت نے فی الحال عوامی فنڈز پر دباؤ کے باوجود تخمینہ 373 بلین روپے (2.1 ارب ڈالر) کی سبسڈیز کو واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اقتدار سنبھالنے کے چند دنوں بعد ہی فیول کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت