’ایک سال تک جس کو بیوی سمجھتا رہا وہ مرد نکلا‘

ضلع سوات میں 17 اپریل کو ایک شخص نے تھانے میں درج کروائے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک سال تک جسے اپنی بیوی سمجھتے رہے، وہ دراصل مرد تھا۔

تھانہ مٹہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مدعی تمام میڈیکل رپورٹس ثبوت کے طور پر پیش کرچکے ہیں، جن کے مطابق (ع) پیدائشی مرد ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ایک شخص نے تھانے میں درج کروائے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ایک سال تک جسے اپنی بیوی سمجھتے رہے، وہ دراصل مرد تھا۔

سوات کے رہائشی عبدالرحمٰن نامی شخص نے17 اپریل کو مٹہ پولیس سٹیشن میں دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا، جن کا کہنا تھا کہ ان کے ساس سسر نے حقیقت کا علم رکھنے کے باوجود اپنے بیٹے (ع) کی شادی ایک مرد سے کروائی۔

تھانہ مٹہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مدعی تمام میڈیکل رپورٹس ثبوت کے طور پر پیش کرچکے ہیں، جن کے مطابق (ع) پیدائشی مرد ہے۔

محرر فیاض علی کے مطابق (ع) اور ان کے والدین کے خلاف دھوکہ دہی کے مقدمات درج کروا کر انہیں اور ان کے والد کو جیل بھیج دیا گیا ہے جب کہ والدہ کو عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے عبدالرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک سال قبل ان کی شادی بظاہر ایک ’خاتون‘ کے ساتھ ہوئی تھی، تاہم وہ ایک سال تک اس کی اصلیت سے لاعلم رہے۔

انہوں نے بتایا: ’خاتون نے پہلے ہی دن سے بیماری کا بہانہ کر تعلقات استوار نہ کیے۔ میں چونکہ 2010 سے ملائیشیا میں محنت مزدوری کرتا ہوں، لہذا شادی کے بعد 18 دن تک میں ہسپتالوں کے چکر کاٹتا رہا تاکہ ’بیوی‘ کا علاج کروا سکوں۔ حتیٰ کہ میں واپسی کی فلائٹ سے ملائیشیا چلا گیا۔‘

عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’شادی کے اخراجات سمیت بیوی کے علاج پر میں نے 13 لاکھ روپے خرچ کیے، کیونکہ وہ رسولی کا بہانہ بناتی رہی۔ ایک ایک ٹیسٹ ہزاروں روپے میں تھا۔ میں ملائیشیا میں لوہے کا سخت کام کرکے خون پسینے کی کمائی پاکستان بھیجتا اور اس پر ان کا علاج ہوتا رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ خاتون ان کی دور پار کی رشتہ دار تھیں، جن کے ساتھ ان کی یہ دوسری شادی تھی، کیونکہ پہلی بیوی سے ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی۔

انہوں نے کہا: ’اگرچہ وہ ظاہری طور پر لڑکیوں کی طرح تھیں لیکن ان کے والدین کو ہمیشہ سے معلوم تھا کہ وہ لڑکی نہیں ہے۔ پھر بھی انہوں نے صرف ظاہری علامات پر اسے لڑکی قرار دے کر اس کی شادی کروائی۔‘

’جب آغا خان ہسپتال سے ٹیسٹ کروایا گیا تو وہیں سے ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل وہ لڑکا ہے۔ تب میں ملائیشیا میں تھا اور مجھے بھائی نے اطلاع دی۔‘

دوسری جانب خاتون، جن کی حقیقت فائنل رپورٹ کے بعد سسرال اور گاؤں کے سامنے آشکار ہو چکی تھی، نے اپنا نام تبدیل  کرکے (ع) خان رکھ لیا۔

انہوں نے پولیس کو بتایا کہ شادی سے قبل والدین کو انہوں نے عبدالرحمٰن سے شادی کرنے سے یہ کہہ کر بار بار منع کیا تھا کہ وہ ایک مرد ہے، لیکن والدین نے ان کی ایک نہیں مانی۔

تاہم پولیس نے انہیں ایک سال تک اپنی حقیقت عبدالرحمٰن سے چھپانے پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا ہے۔

اندپینڈنٹ اردو نے (ع) کے گھر والوں کا موقف سننے کے لیے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہ ہوسکا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی