حیدرآباد دکن میں ہاتھ سے بنی سویوں کی دھوم

بھارتی شہر حیدرآباد میں ہاتھ سے بنی سویوں کے کاروبار سے کئی خاندان نسلوں سے جڑے ہوئے ہیں، اور رمضان کی آمد پر ان سویوں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

رمضان شروع ہوتے ہی بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد دکن میں ہاتھ سے بنی سویوں کی تیاری کا کام زور وشور سے شروع ہو جاتا ہے۔

یہاں ہاتھ سے بنی سویوں کے کاروبار سے کئی خاندان نسلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد کے علاقے چادر گھاٹ میں سلیم خان کا خاندان بھی ان دنوں ہاتھ سے بنی سویاں بنانے میں مصروف ہے۔

ان کے مطابق ساتویں نظام میر عثمان علی خان المعروف نظام دکن کے دور سے ان کا خاندان یہ کام کر رہا ہے۔

سلیم خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہم رمضان سے دو ماہ قبل سویوں کی تیاری شروع کرتے ہیں کیونکہ ان کی تیاری ایک طویل اور صبر آزما عمل ہے، جس کا انحصار موسمی حالات پر بھی ہوتا ہے۔‘

انہوں نے سویاں بنانے کی ترکیب بتائی کہ یہ میدے، آٹے اور نمک سے تیار ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’آٹے کو گوندھنے کے بعد اس میں نمک پانی ملا کر گھی میں بھونا جاتا ہے اور پھر اس کو تیار کرنے کے بعد رسی یا تار پر سکھانے کے لیے لٹکا دیا جاتا ہے۔‘

سلیم کے بقول ان کے خاندان کی چوتھی نسل اس کام سے منسلک ہے۔ ’یہ میرے باپ دادا کی نشانی ہے اور مجھے فخر ہے کہ میرے بچے بھی اس روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’میرے دو بیٹے ہیں جو کالج سے آنے کے بعد اس کام میں میری مدد کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ رمضان سے پہلے ہی انہیں بہت سارے آرڈر مل جاتے ہیں لیکن بعض اوقات سب آرڈر پورے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

وہ کہتے ہیں عید قریب آنے کے ساتھ ساتھ سویوں کی خریداری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ عید الفطر کے موقعے پر مختلف پکوان کے ساتھ ساتھ شیرخرمہ تیار کیا جاتا ہے۔

شیر خرمہ کے لیے زیادہ تر ہاتھ سے تیار کردہ سویوں کا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ ان سے تیارکردہ شیرخرمے کا مزا منفرد ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’دور دور سے لوگ اسے خریدنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں لوگ سویاں سپلائی کرتے ہیں۔ دبئی کے کچھ گاہک ہیں۔ انہیں بھی ہمیں ہاتھ کی سویاں بھیجنی پڑتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ہاتھ سے بنی سویوں کی خاص بات یہ ہے کہ اس کو دو سال تک بھی رکھیں تو اس کے ذائقے میں فرق نہیں آتا۔

اس کاروبار سے منسلک شعیب خان نے بتایا کہ وہ 10 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میں کالج کا طالب علم ہوں اور یہ کام بھی کرتا ہوں، اس میں بہت محنت لگتی ہے، روزے ہوتے ہیں صبح سویرے اٹھنا اور آٹھ بجے کام پر آنا، اسے دن میں کڑی دھوپ میں تیار کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ صرف مسلمان ہی اسے کھاتے ہیں۔ ’اسے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘

سمیر خان بھی ہاتھ سے سویاں بنانے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اسے پورے حیدر آباد میں سپلائی کرتے ہیں۔ ’بہت زیادہ محنت لگتی ہے اسی وجہ سے اس کی قیمت باقی سویوں سے زیادہ رہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’رمضان میں اس کی قیمت 400 روپے کلو ہوتی ہے لیکن اس کی تھوک قیمت 250 سے 300 روپے کلو ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ مشین سے بنی سویوں کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے کیونکہ ان میں نمک نہیں ہوتا، ہاتھ کی سویوں میں نمک کا استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشین کی سویاں ہر موسم میں بنا سکتے ہیں لیکن ہاتھ کی سویوں کے لیے دھوپ ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا