سندھ: محمد بن قاسم کی تعمیر کردہ 1300 سال قدیم مسجد

صوبہ سندھ کے علاقے اروڑ میں ایک مسجد ہے جسے محمد بن قاسم نے تعمیر کروایا تھا اور اس کے چند آثار اب بھی وہاں موجود ہیں۔

صوبہ سندھ کے ضلع سکھر کے علاقے اروڑ میں ایک مسجد ہے جسے محمد بن قاسم نے تعمیر کروایا تھا اور اس کے چند آثار اب بھی وہاں موجود ہیں۔

مگر یہ عظیم قومی ورثہ مختلف اداروں کی چشم پوشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مختلف ادوار میں اس مسجد کی تعمیر نو کے لیے بہت سے منصوبوں کا اعلان ہوا، کام بھی شروع ہوا مگر ناگزیر وجوہات کی بنا پر کام بند کروا دیے گئے۔

مسجد محمد بن قاسم کے خطیب مولانا نبی بخش بھٹی گذشتہ 14 سالوں سے اس مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسجد کی بنیاد 93 ہجری میں رکھی گئی یعنی 712 عیسوی۔ 

ان کے مطابق اس مسجد میں پانچ وقت باجماعت نماز اور نماز جمعہ کا اہمتام کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کو دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب اس مسجد کے چند آثار ہی باقی رہ گئے ہیں۔ مقامی تنظیم فکر و نظر سندھ اس کی دیکھ بھال کرتی ہے اور اس نے مسجد کے صحن پر چھت اور چار دیواری تعمیر کروائی ہے۔

70 سالہ نبی بخش کے مطابق وہ اسی علاقے میں پیدا ہوئے اور روز اول سے اس مسجد کو اسی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ 

ان کے مطابق مختلف ادوار میں محکمہ آثار قدیمہ کے حکام دورہ کرتے رہے ہیں اور اس مسجد کی تعمیر نو کا اعلان بھی کر چکے ہیں مگر پھر یہاں کوئی کام نہ ہوسکا۔

’دو بار اس مسجد کا کام بھرپور انداز میں شروع ہوا مگر افسوس کہ سرکاری ادارے خود کچھ کرتے ہیں نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔‘

مولانا نبی بخش کے مطابق انہیں اس وقت بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے جب ملک بھر سے آنے والے سیاح یہاں آکر اس کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

تنظيم فکر و نظر سندھ کے صدر پروفیسر اصغر مجاہد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہماری تنظیم نے اپنے قیام سے لے کر آج تک صدیوں سے ویران اس تاریخی مسجد محمد بن قاسم اروڑ کی تعمير کے سلسلے میں تاريخ ساز جدوجہد کی ہے۔‘

’اس ملک کے صدر اور تمام وزرائے اعظم، سندھ کے گورنر صاحبان اور پاکستان کی اعلیٰ بیروکریسی کو تاریخی مسجد بن قاسم کی ازسرنو تعمير کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ حکومت سندھ نے محکمہ ثقافت کے لیے تین کروڑ منظور کر کے ایک کنٹریکٹر منظور سومرو کو مقرر کیا تھا، وہ تعمير کے سلسلے میں تیاری کر رہے تھے کہ وزیر ثقافت سندھ سردار علی شاہ نے تاریخی مسجد کا معاٸنہ کیا، وعدہ کیا کہ مسجد کا کام جلد شروع کیا جائے گا لیکن مسجد کی تعمير کا تاحال کام نہیں ہوسکا۔

’ایک منظور شدہ سکیم پر تعمیراتی کام نہیں ہو سکا۔ اب تنظيم فکر و نظر سندھ کے صدر کی حیثیت سے پھر اپیل کرتے ہیں کہ مسجد محمد بن قاسم  کی تاریخی اہميت کے پیش نظر تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے۔

سندھ کے معروف صحافی اور محقق ممتاز بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مسجد کی حوالے سے کہا کہ جب اروڑ کا قلعہ فتح ہوا تو اس کی دیواروں کو مسمار کر دیا گیا تھا، پھر اس کی اینٹوں سے مسجد تعمیر کروائی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ قلعے کی دیواروں اور اس مسجد کی اینٹیں ایک جسی ہیں، بلکہ اس مسجد کے علاوہ سکھر میں بھی قلعے کی اینٹین استعمال کی گئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا