بلوچستان ریلوے کی پٹریاں مرمت کرنے والے محنت کش

بم دھماکوں کے بعد فوراً ریلوے لائینوں کی بحالی انتظامیہ کے لیے کسی چیلنچ سے کم نہیں، لیکن روشن علی اور ان کے عملے کے لیے یہ پہلی ترجیح ہے۔

بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے امن وامان کی صورتحال خراب رہی ہے جس دوران بلوچ شدت پسند کئی بار کوئٹہ سے اندرون ملک چلنے والی ٹرینوں کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔ بم دھماکوں کے بعد فوراً ریلوے لائینوں کی بحالی انتظامیہ کے لیے کسی چیلنچ سے کم نہیں۔

بم دھماکوں، سیلاب اور حادثات کے بعد ٹریک کی بحالی میں حصہ لینے والا عملہ اتنا زیادہ مہارت تو نہیں رکھتا مگر اس کے باوجود فوری طور پر ٹرینوں کی آمد ورفت کو بحال کرنا ان کی ذمہ دراریوں میں شامل ہے۔ 

اس طرح کے واقعات کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے دشت، ضلع کچھی کے مختلف علاقوں بولان اور ضلع سبی، ضلع نصیر آباد میں رونما ہوئے ہیں۔ 

روشن علی گذشتہ 32 سالوں سے محکمہ ریلویز میں ملازم ہیں اور ریلوے ٹریک کی حفاظت اور بحالی کے کام کے انچارج ہیں۔ ان کی زیر نگرانی دس مزدور کام کرتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ جب بھی کسی واقعہ کی اطلاع ملتی ہے تو ان کا پہلا اور آخری کام متاثرہ ٹریک کو جلد سے جلد بحال کرنا ہوتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلے ریلوے ٹریک پر دھماکے یا کسی اور ذریعے سے نقصان پہنچنے کی اطلاع دیر سے ملتی تھی، مگر آج جدت نے یہ کام آسان کردیا ہے۔

اب جب کبھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وہ جائے وقوعہ اور فاصلے کی معلومات حاصل کرکے عملے سمیت وہاں پہنچ کر ٹریک کو بحال کردیتے ہیں جس میں بس چند گھنٹے لگتے ہیں۔
 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل ضلع  نصیر آباد اور جعفر آباد سمیت ملحقہ علاقوں میں ریلوے ٹریک کو اڑانے کے واقعات تسلسل سے ہوتے تھے جن میں اب کمی آئی ہے۔

دھماکوں سے متاثرہ ریلوے ٹریک کی مرمت کرنے کے ماہر ہونے کے باوجود روشن کو آج بھی ایسے واقعات کی اطلاع ملنے پر خوف محسو س ہوتا ہے کہ کہیں وہ وہاں پہنچے اور دوسرا دھماکہ نہ ہو جائے۔ 

روشن کے بقول اگر دھماکے کی شدت زیادہ ہوتو ٹریک کا بڑا حصہ اڑجاتا ہے جسے کمبے کہتے ہیں۔ ایک کمبے میں 16 لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ مرمت میں کبھی انہیں پورا دن بھی لگ جاتا ہے اور بغیر کسی وقفے کے یہ کام انجام دینا پڑتا ہے۔  

حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں ریلوے ٹریک پر تین مختلف جگہوں پر دھماکے ہوئے۔ ان تینوں واقعات میں ٹریک کی بحالی کا کام روشن نے اپنے عملے کے ہمراہ کیا۔  

ان کو ٹریک کی مرمت کرنے کی تربیت ان کے استاد نے دی اور آج وہ بحیثیت جمعدار دوسروں کو یہ تربیت دے رہے ہیں۔  

روشن کے مطابق یہ کام ایک دن میں نہیں سیکھا جاسکتا، پہلے ’کی مین‘ بنتا ہے اور پھر مہارت حاصل کرنے کے بعد کی مین کو ترقی ملتی ہے۔  

 گوکہ روشن اور ان جیسے دوسرے ریلوے ورکرز نے ٹریک کی بحالی کی کوئی باقاعدہ تربیت تو نہیں لی مگر دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے باعث بار بار ٹریک کو بحال کرتے یہ مزدور اب اس کام ماہر ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو