توہین مذہب مقدمہ: شہباز گل کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

سماعت كے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ كا كہنا تھا کہ توہین مذہب کے مقدمات درج کرانے کا ایک طریقہ کار مقرر ہے، جس كے تحت وفاقی یا صوبائی حکومت کی ہدایت پر مجاز افسران ہی اس قسم کے مقدمات درج کروا سکتے ہیں۔ 

شیخ رشید اور شہباز گل دونوں توہین مذہب کیس میں نامزد ہیں (تصاویر: اے ایف پی، سکرین گریب ہم نیوز)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاكستان تحریک انصاف كے رہنما ڈاكٹر شہباز گل كی توہین مذہب كے مقدمے میں گرفتاری سے قبل حفاظتی ضمانت میں نو مئی تک توسیع کر دی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی ضمانت قبل از گرفتاری کےلیے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

ڈاكٹر شہباز گل کو گذشتہ روز کار حادثے میں زخمی ہونے كے باعث توہین مزہب کیس میں آئندہ سماعت پر حاضری سے بھی استثنیٰ مل گیا ہے، جبکہ شیخ رشید کی درخواست پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مختصر سماعت  کی اور 18 مئی تک ان کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعے کو شہباز گل كی حفاظتی ضمانت كی درخواست پر سماعت ہوئی۔ پی ٹی آئی رہنما توہین مذہب کے حوالے سے درج کیس میں نامزد ہیں۔ 

اس کے علاوہ عدالت نے شیخ رشید اور ان کے بھتیجے راشد شفیق کی جانب سے مقدمات کے اندراج کے لیے دائر درخواستوں پر فریقین کو نوٹس بھی جاری کردیے۔

واضح رہےکہ شیخ رشید پر فیصل آباد، گوجرخان، راولپنڈی اور اٹک سمیت نو شہروں میں توہین مذہب کے مقدمات درج ہیں جب کہ ان کہ بھتیجے شیخ راشد شفیق کو پہلے ہی پولیس گرفتار کرچکی ہے۔

چند روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور ان سے ساتھ حکومتی وفد كے سعودی عرب میں مسجد نبوی میں موجودگی كے دوران سیاسی نعرے بازی ہوئی تھی، جس کے بعد فیصل آباد میں ایک پاكستانی شہری نے پاكستان تحریک انصاف كے رہنماؤں اور كاركنوں سمیت 150 افراد كے خلاف توہین مذہب كا مقدمہ درج كیا تھا۔ 

ڈاكٹر شہباز گل نے اسی مقدمے میں حفاظتی ضمانت كی درخواست اسلام آباد ہائی كورٹ میں جمع كروائی تھی۔ 

سماعت كے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ كا كہنا تھا کہ توہین مذہب کے مقدمات درج کرانے کا ایک طریقہ کار مقرر ہے، جس كے تحت وفاقی یا صوبائی حکومت کی ہدایت پر مجاز افسران ہی اس قسم کے مقدمات درج کروا سکتے ہیں۔ 

ڈاكٹر شہباز گل نے عدالت کو مخاطب کر کے کہا: ’میرا آپ سے پہلا رابطہ وکلا تحریک میں ہوا تھا، ہر روز مظاہرے میں شامل ہوتا تھا۔ ہمیشہ قانون کا احترام کیا، پولیس کی لاٹھی سے انگلی ٹوٹ گئی تھی۔‘ 

انہوں نے مزید كہا كہ وہ سركاری ٹاٹ والے سکول سے پڑھ کر امریکہ کی دوسری بڑی یونیورسٹی میں جا کر پڑھا رہے ہیں۔ 

تحریک انصاف كے رہنما كا مزید كہنا تھا كہ ان کی جماعت كی حکومت کے خاتمے پر جس پہلے شخص پر حملہ ہوا وہ وہ خود ہیں۔  

اس سلسلے میں انہوں نے مسلم لیگ ن كی نائب صدر مریم نواز كے بیان كا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کچلنے كا ذكر كیا تھا۔  

شہباز گل نے جذباتی انداز میں عدالت میں كہا: ’پتہ نہیں اگلی سماعت پر میں آپ کے سامنے موجود بھی ہوں یا نہیں۔‘  

شہباز گل نے مزید کہا كہ انہوں نے کبھی کسی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا، نہ كبھی پیکا آرڈیننس کا سہارا لیا۔  

انہوں نے چیف جسٹس اطہر من اللہ كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ ان كے فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں، وہ حق میں ہوں یا خلاف، ان کے ساتھ کھڑا ہوا۔  

اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے كہا كہ سوال اٹھتا ہے كہ كیا وكلا تحریک كے مقاصد حاصل ہو سكے كیونكہ اس كا مقصد صرف ججوں كی بحالی نہیں، بلكہ آئین کی حکمرانی تھا۔   

انہوں نے كہا كہ عدالیہ تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے، لیکن اگر آئین اور اداروں کا احترام نہیں ہو گا تو پھر افراتفری ہو گی۔  

’اپنی مرضی کا فیصلہ آئے تو ٹھیک، خلاف آنے کی صورت میں اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کا رویہ انتشار پھیلائے گا۔ سیاسی جماعتیں رائے عامہ ہموار کرتی ہیں، سیاسی لیڈر کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ اگر ساری چیزیں سیاسی بیانیے پر چلنی ہیں تو اس کا اختتام انتشار پر ہی ہو گا۔‘ 

یاد رہے كہ جمعرات كو پاكستان تحریک انصاف كے رہنما ڈاکٹر شہباز گل اسلام آباد اور لاہور كے درمیان موٹر وے (ایم ٹو) پر خانقاہ ڈوگراں کے قریب حادثے میں زخمی ہوئے تھے۔  

انہوں نے حادثے كو خود پر قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا، جبكہ موٹروے پولیس کے ترجمان نے فوری بیان میں واقعے میں کسی اور گاڑی کے ملوث ہونے کے شواہد ملنے كی تردید كی تھی۔   

 

تاہم بعد ازاں پولیس نے شہباز گل کی گاڑی سے ٹکرانے والی گاڑی کے مالک اور ڈرائیور كی گرفتاری كا دعویٰ كیا تھا۔   

پولیس کے مطابق گاڑی کا مالک طاہر نذیر مریدکے کا رہائشی ہے، جس نے گرفتاری کے بعد بیان میں بتایا کہ اس نے وہ کار وجاہت علی نامی شخص کو کرائے پر دی تھی جو اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔ 

حادثے کا شکار ہونے والی کار اور ڈرائیور وجاہت علی کو تھانہ مریدکے لایا گیا جہاں کار ڈرائیور وجاہت علی نے بتایا کہ وہ جائے حادثہ پر کچھ دیر رکے لیکن جونہی شہباز گل کو گاڑی سے نکلتے دیکھا تو ڈر کے مارے جائے حادثہ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ 

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ کے شواہد اور وجاہت علی سے تفتیش کے مطابق یہ ایک عام کار حادثہ ہے جو وجاہت علی کی غفلت کے باعث پیش آیا لیکن شہباز گل کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش نہیں گئی جیسے وہ کہہ رہے ہیں۔ 

وجاہت علی کو مزید تفتیش کے لیے حافظ آباد پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے چونکہ حادثے کا علاقہ ان کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ 

حادثے سے چند گھنٹے بعد شہباز گل نے اپنے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا کہ ان کی گاڑی کا پیچھا کیا گیا اور جان بوجھ کر ’ایک سازش کے تحت‘ مارا گیا۔ 

انہوں نے مزید كہا تھا: ’میں [عمران] خان کے ساتھ کھڑا ہوں اور كھڑا رہوں گا… میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ خان پر بھی حملہ کریں گے۔ وہ ہمیں ہر قیمت پر خاموش کرانے کی کوشش کریں گے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان