پنجاب: وزیراعلیٰ کے بعد کابینہ کی حلف برداری کیسے ہوگی؟

پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما مخدوم عثمان محمود کے مطابق صوبائی کابینہ بھی مرکزی قیادت اور وزیراعظم کےساتھ مل کر طے کی جا رہی ہے۔

پنجاب اسمبلی میں کابینہ کی حلف برداری کے لیے نامزدگیوں پر مشاورت کی جا رہی ہے اور اس کے بارے میں حتمی اعلان جلد متوقع ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو / فاطمہ علی)

صوبہ پنجاب میں حکومت تبدیل تو ہوگئی مگر نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے حلف اٹھانے کے بعد عہدہ تو سنبھال لیا مگرکابینہ تشکیل نہ دیے جانے کی وجہ سے حکومتی ڈھانچہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

حکمران اتحاد کو ایک طرف مشترکہ کابینہ میں وزرا کی نامزدگیوں کا معاملہ درپیش ہے جو ابھی تک طے نہیں ہوسکا، دوسری جانب وزیر اعلیٰ کے بعد کابینہ کے اراکین سے حلف لینے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

مرکز کی طرز پر پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن نے اپنی کم نشستوں کو اکثریت میں تبدیل کرنے کے لیے اتحادیوں کا سہارا لیا تھا اس لیے وزارتوں میں بھی انہیں بھی حصہ دینا ہے۔ یہ کام بھی فامولے کے تحت کیا جانا ہے۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما مخدوم عثمان محمود کے مطابق صوبائی کابینہ بھی مرکزی قیادت اور وزیر اعظم کے ساتھ مل کر طے کی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے بقول کابینہ میں شامل کرنے کے لیے ناموں کو حتمی شکل دے کرایک دو روز میں اعلان کردیا جائے گا۔

دوسری جانب گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کابینہ کا حلف لینے کو بھی تیار نہیں ہیں اس صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کابینہ اراکین کی نامزدگیاں کب تک ہوں گی؟ اور کیا ایک بار پھر پنجاب میں سیاسی ماحول گرم ہوسکتا ہے؟

کابینہ کی نامزدگیاں

مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کابینہ کی نامزگیاں اتحادیوں سے مل کر کی جارہی ہیں۔ مشاورت سے کابینہ تشکیل دی جائے گی، کافی حد تک نام فائنل ہوگئے ہیں ایک دو روز میں کابینہ کا اعلان کردیا جائے گا۔‘

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم عثمان محمود کے مطابق وفاق کی طرح پنجاب میں بھی وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی نامزدگیاں اعلیٰ قیادت کی جانب سے کی جارہی ہیں۔

ان کے مطابق: ’پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود اور قمر الزماں کائرہ وزیراعظم شہباز شریف سے مل کر پنجاب کابینہ تشکیل دے رہے ہیں اس معاملے میں پنجاب کے ارکین اسمبلی اپنی قیادت کی ہدایات کے منتظر ہیں۔‘

عظمی بخاری نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی قیادت ہمارا ساتھ دینے والے دھڑوں سمیت اپنے پارٹی اراکین کو وزارت کے لیے نامزد کر رہی ہے۔

’اس معاملے کو بھی پہلے کی طرح خوش اسلوبی سے نمٹایا جارہا ہے ہم نے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا قیادت جو بہتر سمجھے گی ان محکموں کو اہل اراکین کو سونپنے کا اعلان کرے گی۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما عمران نذیر نے کہا کہ ’وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہی کابینہ میں شمولیت کے لیے کافی نام تو پہلے سےفائنل ہیں، دو چار نامزدگیاں رہتی بھی ہوں تو جلد ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز قطر کے دورے سے واپسی پر اس معاملے پر مشاورت کر کے کابینہ کا اعلان کریں گے۔‘

کابینہ کے حلف کا چیلنج

مسلم لیگ ن پنجاب کے رہنما عمران نذیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گورنر پنجاب کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے حلف کا معاملہ رکھا تھا۔ عدالتِ عالیہ نے وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو کابینہ کے حلف کی بھی ہدایت کی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ گورنر جس طرح پارٹی پالیسی کے مطابق بلاوجہ روکاوٹیں ڈال رہے ہیں اس کا حل یہی ہے کہ کابینہ سے حلف بھی راجہ پرویز اشرف ہی لیں۔

عثمان محمود نے کہا کہ صدر پاکستان اور گورنر نے آئینی عہدوں کو متنازع بنا دیا ہے ایسی صورتحال میں عدالتوں کو پارلیمانی امور میں مداخلت کرنی پڑ رہی ہے آئینی کردار کا بھی صدر اور گورنر کو عدالتوں کے ذریعے سمجھایا جارہا ہے۔

ایسی صورتحال میں کابینہ کا حلف بھی وزیر اعلیٰ کے حلف کی طرح سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے ہی لیے جانے کا امکان ہے۔

مخدوم عثمان کے بقول آئینی طریقے سے تبدیل ہونے والی حکومت کو تسلیم نہ کرنے والوں نے مسائل کھڑے کر رکھے ہیں۔ تاہم جلد ہی حکومت مکمل طور پر تشکیل پا جائے گی اور عوامی مسائل کے حل پر فوری کام شروع کردیا جائے گا۔

انہوں نےکہا کہ ’مخالفین کی جانب سے مشکلات درپیش ہیں جس سے صورتحال کو قابو کرنے میں وقت لگ رہا ہے بلاوجہ کی روکاوٹوں سے عوام کو نقصان ہورہا ہے اس کے بعد ایوان میں بھی سپیکر پرویز الٰہی غیر جمہوری انداز سےعہدے کا غلط استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

واضع رہے کہ پنجاب میں گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے لیے وزیر اعظم صدر پاکستان کو سمری بھجوا چکے ہیں اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے خلاف بھی حکمران اتحاد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کر دی گئی ہے۔

مگر پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کی گئی ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ بھی نہیں ہوسکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست