ٹرمپ کا فلسطین امن معاہدہ عربوں کو قبول نہیں

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ جزوی طور پر بحرین میں پیش کیا گیا جسے عرب اور اسلامی ممالک نے  خوش دلی سے قبول نہیں کیا ۔

 فلسطینی عوام  بحرین میں جاری امن اجلاس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے پیش کیے جانے والے منصوبے کی تفصیلات جزوی طور پر بحرین میں پیش کی گئیں جنہیں عرب اور اسلامی ممالک نے  خوش دلی سے قبول نہیں کیا ۔

اسرئیل اور فلسطین  کے درمیان تنازعے کو ختم کرنے کے لیے پیش کیا گیا یہ معاہدہ جس پردو سال سے کام چل رہا تھا اور جسے ’ڈیل آف دا سینچری‘ کہا جارہا تھا،  اسے  کچھ ہی گھنٹے پہلے بحرین میں جاری ایک امن اجلاس میں  پیش کر دیا گیا۔ مشرق  وسطیٰ اور عرب ممالک میں  اس معاہدے کے بارے میں کوئی خاص گرم جوشی نہیں پائی گئی۔

کئی دہائیوں سے دنیا میں موجود اس اہم تنازعے کو حل کرنے کے لیے امن منصوبہ بنانے کی ذمہ داری امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی معاون جیریڈ کشنر کے کندھوں  پر تھی۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقہ جات پر قبضہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، غزہ کی پٹی کا محاصرہ، فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے سے روکنا اور ان کو آزادی کے حق سے محروم رکھنا،  پچھلے 70 برس سے یہ تمام مسائل عرب اور اسلامی ممالک کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مغربی ممالک اور امریکہ بھی اس تنازعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

فلسطین کی خوشحالی کے لیے ہونے والا یہ امن اجلاس امریکہ کی جانب سے’ڈیل آف دا سینچری‘ پیش کرنے کے لیےکیا  گیا تھا اور بحرین کے دارالحکومت مانامہ میں 25 اور 26 جون کو منعقد کیا گیا تھا مگر اجلاس کے پہلے دن ہی عرب ممالک نے اس سے بے توجہی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔

فلسطین نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان شروع ہی میں کر دیا تھا جب کہ اسرائیل کا وفد آنے کی توقع کی جاری تھی۔ حیران کن طور پر اسرائیلی میڈیا کے وہاں سے بھی اس اجلاس میں کوئی خاص نمائندگی نظر نہیں آئی۔ اسرائیل کے اقتصادی یا تجارتی ماہرین نے بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

صدر ٹرمپ کی یہ ’ڈیل آف دا سینچری‘ جس کا شور امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے بہت زیادہ مچایا جا رہا تھا، اس میں مذکورہ شق کے علاوہ کچھ خاص بات نہیں تھی کہ خوشحال عرب ممالک پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں تاکہ فلسطینی علاقوں میں اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس منصوبے میں سیاسی مسائل کا حل اور اسرائیل- فلسطین امن کے قیام کے لیے روڈمیپ  اب بھی غیر واضح  ہیں۔  جیریڈ کشنر کے مطابق، اس منصوبے کے باقی حصے کچھ مہنیوں میں عوام کے سامنے پیش کردیے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس چیز پر مزید توجہ سے بات ہونی چاہیے وہ اس منصوبے کا سیاسی لائحہ عمل ہے۔ دونوں قوموں کے درمیان امن کا قیام اور اسرائیل کے برابر میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام!

جہاں اس منصوبےمیں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں  رہنے والے فلسطینیوں کی معاشی صورتحال میں بہتری لانے کی بات کی گئی ہے، وہیں سیاسی حل کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں۔

اسرائیل کے مقبوضہ علاقے، فلسطینیوں کی واپسی، فلسطین کے دارالحکومت اور آزاد ریاست  کا قیام، یہ سب مسائل جب تک حل نہیں ہوں گے تب تک عرب اور اسلامی ممالک امریکہ کے ساتھ  تعاون کرنے سے کتراتے رہیں گے۔

اگرچہ اس اجلاس کا میزبان بحرین ہے، پھر بھی نہ تو اس نے اور نہ ہی عرب ممالک نے اس منصوبے کو  خوش دلی سے قبول کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان فلسطین اور دیگر سکیورٹی معاملات پر  بڑھتی قربتوں اور مذاکرات کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ فلسطین  کے مسئلے کو بھلا دیا گیا ہے یا پھر دیگر اہم مطالبات جیسے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ یا مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا یا فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔

اگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ عرب ممالک  اسرائیل کے  ساتھ مذاکرات کے لیے  تھوڑے بہت تیار ہوگئے ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی داخلی سیاست ہے کیونکہ ان کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات نے انہیں اتنا پریشان کردیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے اسرائیل کے ساتھ  قربت میں ہی بہتری سمجھتے ہیں۔  

دوسری جانب فلسطینی حکام اور عوام بھی امریکی صدر کو اس اعتماد کے قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ان کے اور اسرائیل  کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے کروا سکیں گے یا کوئی منصوبہ تجویز ہی کر پائیں گے۔

اس صورتحال میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ جیریڈ کشنر کا پیش کردہ یہ منصوبہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ پائے گا، کم از کم جب تک اسے کوئی اور ثالث بہتر طریقے سے پیش نہ کر دے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ