عزت نہ ملنے پر آئی پی ایل چھوڑی: کرس گیل

گیل کے مطابق گذشتہ چند سال سے جس طرح آئی پی ایل کروائی جا رہی ہے اس سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا گیا۔

کرس گیل چار جولائی، 2019 کو لیڈز میں آئی سی سی ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف میچ کے دوران ایکشن میں (اے ایف پی)

ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل نے کہا ہے کہ وہ اس سال انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ڈرافٹنگ سے اس لیے الگ ہوئے کہ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے دو سابق سیزنز میں انہیں ’کم عزت‘ دی گئی۔

بڑا سکور کرنے والے اور خود کو ’یونیورس باس‘ کہنے والے گیل طویل عرصے تک آئی پی ایل میں مقبول رہے ہیں۔ انہوں نے لیگ میں سب سے زیادہ 357 چھکے مارے ہیں۔

آئی پی ایل کے کووڈ سے متاثرہ سابق ایڈیشن میں گیل نے پنجاب کنگز کے لیے 10 میچ کھیلے جس کے بعد وہ ‘بائیو سکیور ببل‘ کی وجہ سے ہونے والی تھکاوٹ کے باعث جانے پر مجبور ہو گئے۔

برطانوی اخبار دا مرر کے مطابق گیل کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ چند سال سے جس طرح آئی پی ایل کروائی جا رہی ہے اس سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا گیا۔‘

’اس لیے میں سوچا کہ ٹھیک ہے۔ کھیل اور آئی پی ایل کے لیے اتنا کچھ کرنے کے بعد آپ (گیل) کو وہ عزت نہیں ملتی جو آپ کا حق ہے۔‘

’اس لیے میں نے کہا کہ اوکے۔ یہی بات ہے۔ میں ڈرافٹ میں حصہ لینے کی زحمت نہیں کروں گا۔ لہٰذا میں نے ویسا ہی چھوڑ دیا جیسا وہ ہے۔ کرکٹ کے بعد زندگی ہمیشہ باقی رہتی ہے اس لیے میں اپنے آپ کو عام حالات میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گیل نے آئی پی ایل کے حالیہ سیزن کی نیلامی کے لیے اپنا نام پیش نہیں کیا تھا جس میں دنیا بھر کے کرکٹ کے ٹاپ کھلاڑی شامل ہیں۔

 15.2 لاکھ ڈالرز کے سب سے مہنگے کھلاڑی برطانیہ کے لیام لِونگ سٹون ہیں جو پنجاب کنگز کے لیے کھیل رہے ہیں۔

تاہم جمیکا کے 42 سالہ کھلاڑی گیل، جنہوں نے 2013 میں آئی پی ایل میں 175 رنز کا ریکارڈ سکور کیا، چاہتے ہیں کہ پیسے کی ریل پیل والے ٹورنامنٹ کے اگلے سیزن میں ان کی واپسی ہو جائے۔ گیل کے بقول: ’میں اگلے سال واپس آ رہا ہوں۔ انہیں میری ضرورت ہے۔‘

گیل کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی پی ایل کی تین ٹیموں کولکتہ، آر سی بی (رائل چیلنجرز بنگلور) اور پنجاب کی نمائندگی کی۔ آر سی بی اور پنجاب کے درمیان، میں دونوں ٹیموں میں سے کسی ایک کے ساتھ اعزاز حاصل کرنا پسند کروں گا۔‘

بائیں سے کھیلنے والے بیٹر اور آف سپنر ویسٹ انڈیز کے لیے 103 ٹیسٹ، 301 ایک روزہ اور 79 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے قومی ٹیم کے لیے آخری ٹی ٹوئنٹی میچ گذشتہ سال نومبر میں کھیلا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ