ناکامی کس کی ہو گی؟

بہتر یہی ہوتا کہ کُل پاکستان کے 70 فیصد ووٹوں پر مشتمل، نئی آنے والی قومی متحدہ حکومت کو مدت پوری کرنے دی جاتی اور بھروسے کے فقدان کو سمیٹنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جاتے تاکہ سسٹم کو بھی یقین ہو جاتا کہ اس بار تبدیلی واقعی نیوٹرل ہے۔

ملتان میں 20 مئی 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ۔ عمران خان کے جلسوں کا تسلسل مکمل ہو چکا جس میں توقع کی جا رہی تھی کہ لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا، اور تاریخ دینے کے لیے اگلی تاریخ دے دی گئی۔ (اے ایف پی)

حالات جس نہج پر جا رہے ہیں اس وقت غالب امکان یہی ہے کہ جون جولائی میں الیکشن کا اعلان کر دیا جائے۔ اگلے تین ماہ نگران حکومت اور پھر سال کے آخر میں انتخابات کروا دیے جائیں۔

عمران خان کے جلسوں کا تسلسل بھی گذشتہ روز ملتان میں مکمل ہو چکا جس میں توقع کی جا رہی تھی کہ لانگ مارچ کی تاریخ دی جائے گی لیکن ایسا ہو نہ سکا اور تاریخ دینے کے لیے اگلی تاریخ دے دی گئی۔

سننے میں آ رہا ہے کہ عین ممکن ہے عمران خان لانگ مارچ کریں ہی نہ اور اسی دوران انتخابات کی یقین دہانی کروا دی جائے۔ یہ خبر اس حوالے سے بھی مضبوط معلوم ہوتی ہے کیونکہ عمران خان نے اچانک لانگ مارچ کا اعلان کرنے سے یُوٹرن لیتے ہوئے مزید وقت مانگ لیا اور ملتان جلسے کے بعد مشاورت کے لیے اہم مقام روانہ ہو گئے۔

اپنے گذشتہ کالم میں بھی تحریر کیا تھا کہ عمران خان کو لانگ مارچ کا قطعاً کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔ عمران کے ساتھ جو عوام ہے اس کا خمیری مزاج انقلاب کے لیے گرمی، سردی، دھوپ، بارش، بھوک پیاس، دھکے کوڑے کھانے والا نہیں۔ یہ عوام چند گھنٹوں کے لیے جلسوں میں تو خوب رونق جماتی ہے مگر طویل مدتی آزمائش ان کے بس کی بات نہیں۔

یوں بھی 2014 کے آزادی مارچ کا آغاز اور انجام بھی ابھی یادداشتوں سے محو نہیں ہوا۔ بیس پچیس لاکھ بندہ تو بہت بڑی بات، عمران خان کے ساتھ پانچ ہزار لوگ بھی اسلام آباد آ جائیں تو ان کی رہائش، کھانے پینے، روزمرہ ضروریات اور حاجات کا بندوبست کرنا ایک بڑی مشکل ہو جائے گی۔

ان سب مشکلات اور رکاوٹوں کا عمران خان کو بھی بخوبی اندازہ ہے اسی لیے وہ فی الحال نفسیاتی اعتبار سے اپنے سیاسی مخالفین اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک فُٹ پر ڈالنا چاہتے ہیں جن میں کم از کم ایک فریق کی حد تک عمران خان کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔

اس وقت تک بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ عمران خان حکومت سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانا چاہ رہے ہیں اور اسی کے نتیجے میں حکومت پر فوری الیکشن کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اول تو نیوٹرل ہونے کے دعوے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت سے الیکشن کا مطالبہ کرنا یا پریشر ڈالنا ہی بذاتِ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوئم، ایک آئینی، جمہوری، پارلیمانی، صاف شفاف طریقے سے آئی حکومت کے لیے لازم ہےکہ اسے ہر حال میں مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔

بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں اصل عوامی فارمولے سے ہٹ کر جس نے بھی زبردستی کے فارمولے سے کچھ نیا ایجاد کرنا چاہا، ناکامی اس کا مقدر بنی۔ 2018 کے تجربے کے بعد تو اصولی اعتبار سے اس تجربہ گاہ کو مکمل طور پر تالے لگا دینے چاہیے تھے لیکن لگتا ایسا ہے کہ تابکاری محلول کے اثرات تاحال زائل نہیں ہوئے۔

گذشتہ ساڑھے تین سال کی بدترین ناکامی کے جو داغ ملبوسِ خاک پر ڈالے گئے ہیں وہ نہ تو کسی نیوٹرل کیموفلاج سے چھپ سکتے ہیں نہ ہی کسی خفیہ فارمولا ڈیٹرجنٹ سے دھوئے جا سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ کُل پاکستان کے 70 فیصد ووٹوں پر مشتمل، نئی آنے والی قومی متحدہ حکومت کو مدت پوری کرنے دی جاتی اور بھروسے کے فقدان کو سمیٹنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جاتے تاکہ سسٹم کو بھی یقین ہو جاتا کہ اس بار تبدیلی واقعی نیوٹرل ہے۔

اب بھی وقت موجود ہے، جس دوران سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزارتِ عظمی پر ایک ایسا شخص موجود ہے جس کی ساکھ ہی کارکردگی ہے۔ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب، شہباز شریف کی کامیابیوں کی گواہی تو ان کے بدترین مخالف بھی کھلے دل سے ادا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ رہا کہ پنجاب میں شہباز شریف کو نہ صرف واضح مینڈیٹ بلکہ بِلاشرکت غیرے اختیار بھی حاصل رہا۔

بطور وزیراعظم، شہباز شریف کے ہاتھ جہاں مخلوط حکومت کی مجبوریوں سے بندھے ہیں وہاں کئی ریاستی و ملکی معاملات میں دیگر اداروں کی لازم شراکت کے بھی پابند ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاستی اداروں کا بھی آئینی، قانونی، اخلاقی فرض ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری پوری کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئینی حدود کی بھی حتی الامکان پابندی ملحوظِ خاطر رکھیں۔

فی الوقت پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع ہے کہ ماضی کی غلطیاں درست کر لی جائیں اور ایک نئی واضح مشترکہ سمت کی طرف گامزن ہوا جائے جس کا واحد مقصد عوامی فلاح اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی ہو، جس کے لیے متحدہ قومی حکومت ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاستی اداروں کے ذریعے سے ریاست اور عوام کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں اور ان میں تمام سیاسی جماعتوں بشمول پاکستان تحریکِ انصاف کو شامل کیا جائے۔ اس وقت بھروسے کی ایک بڑی خلیج ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان موجود ہے اور اس خلیج کو پُر کرنے کی کوششوں کے بغیر اگر نظام پر زور زبردستی کرنے کی کوشش کی گئی تو خدانخواستہ ملک عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو کر خونی حالات کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

چند بنیادی اصلاحات اور بہتریاں لائے بغیر اگر فوری الیکشن کی بچگانہ سوچ کے دباؤ میں آ کر نظام کے ساتھ زبردستی کی گئی تو پاکستان کی تاریخ کے انتہائی متنازع اور خاکم بدہن خونی انتخابات کے لیے ازخود راہ ہموار کی جائے گی۔

پاکستان میں حقیقی عوامی فیصلے نہ تسلیم کیے جانے کی خونی روایات ماضی کا تلخ حصہ ہیں اور اگر ایک بار پھر ایسی کوشش کی گئی تو 2018 کی تجربہ گاہ کے تمام محلول آپس میں گڈمڈ ہو کر زہریلے اثرات کے ساتھ پھٹ پڑیں گے جن سے تجرباتی سائنس دانوں کے چہرے سب سے پہلے مسخ ہونے کا خوفناک خدشہ موجود ہے۔

اس وقت سسٹم کی بہتری کے لیے سسٹم کا جاری رہنا ہی واحد موزوں اور دانش مند آپشن ہے جس کے ساتھ ساتھ متحارب فریقین کو بذریعہ ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے دیا جانا مناسب حل ہے اور اسی دوران نظام کی بہتری کی گنجائش بھی نکالی جا سکتی ہے۔

کالم کے اختتام پر اشارے کنایے میں ایک اہم بات، اس امید کے ساتھ کہ پڑھنے والے سمجھدار قارئین کے واسطے اشارہ ہی کافی ہے، عسکری نظریات میں ایک دلچسپ نظریہ ’گولڈن بریج‘ کا ہے، جس کے مطابق دورانِ جنگ فریقِ مخالف کے لیے ایک ایسا آپشن یا ایسا تخیلاتی ’سُنہرا پُل‘ قائم رکھنا بہت ضروری ہے کہ جہاں سے واپسی کا راستہ باقی رکھا جا سکے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فریقِ مخالف جنگ کے دوران ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے جس میں سب کا نقصان ہو اور واضح جیت رکھنے والے فریق کے لیے بھی شکست اور ناکامی مقدر ہوجائے۔

لہذا موجودہ حالات میں ہر ایک کو اپنے واسطے ’گولڈن بریج‘ برقرار رکھنا ضروری نظر آتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ