حیدرآباد: رات ایک بجے فروخت ہونے والی حلوہ پوری میں خاص کیا ہے؟

سندھ کے ضلع حیدرآباد میں قاسم آباد شہر کے نسیم نگر چوک پر ایسی ہی ایک دکان ہے، جہاں ناشتہ رات ایک بجے سے فروخت کیا جاتا ہے اور اکثر لوگ رات ایک بجے کے بعد ہی حلوہ پوری کا ناشتہ کرنے آتے ہیں۔

ولی محمد بتاتے ہیں کہ ان کے یہاں ناشتہ کرنے کے لیے پورے حیدرآباد شہر سے لوگ آتے ہیں  (فوٹو: ویڈیو سکرین گریب)

ہم میں سے بیشتر لوگ ناشتے کا اہتمام صبح سویرے کرتے ہیں اور دکانوں اور ریسٹورنٹس پر بھی ناشتے کا انتظام زیادہ تر صبح کے اوقات میں ہوتا ہے، لیکن کیا آپ نے سنا ہے کہ رات کے وقت بھی کہیں ناشتہ دستیاب ہو؟

سندھ کے ضلع حیدرآباد میں قاسم آباد شہر کے نسیم نگر چوک پر ایسی ہی ایک دکان ہے، جہاں ناشتہ رات ایک بجے سے فروخت کیا جاتا ہے اور اکثر لوگ رات ایک بجے کے بعد ہی حلوہ پوری کا ناشتہ کرنے آتے ہیں۔

دکان کے مالک ولی محمد لغاری گذشتہ 11 سال سے ویسے تو حلوہ پوری صبح کے وقت فروخت کیا کرتے تھے لیکن کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے بعد وہ ایک نیا آئیڈیا لے کر آئے اور انہوں نے حلوہ پوری کا ناشتہ رات ایک بجے کے بعد فروخت کرنا شروع کردیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے اس کی وجہ بتائی کہ کرونا وائرس کے باعث جب ان کا روزگار بیٹھ گیا تو انہیں اچانک خیال آیا کہ اس علاقے میں طلبہ کی اکثریت رہائش پذیر ہے اور وہ اکثر رات دیر تک جاگتے ہیں تو کیوں نہ ان کے لیے یہی ناشتہ رات کے وقت کھولا جائے۔

ان کے مطابق نوجوان طالب علم اکثر رات دیر تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور جب انہیں بھوک لگتی ہے تو ان کے لیے رات کے وقت اس علاقے میں کھانے کا کوئی ایسا بندوست نہیں تھا اور یہی ان کے اس وقت ناشتہ فروخت کرنے کی وجہ بنی۔

وہ بتاتے ہیں: ’حیدرآباد کے اس علاقے میں کوئی اور حلوہ پوری والا نہیں تھا تو ہم نے رات کو یہ ناشتہ شروع کیا۔ اس میں چھولے، پوری اور حلوہ پیش کرتے ہیں، یہاں پر یہ بہت زبردست چلتے ہیں اور اچھی کمائی ہو جاتی ہے۔‘

حلوہ پوری کی تیاری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلے چھولوں کو ابالا جاتا ہے، پھر اسے پکاتے ہیں۔ اس کے بعد اس میں مرچ، اجینو موتو، زیرا، قورمہ مصالحہ اور نمک ڈال کر چھولے بنائے جاتے ہیں۔ ہمارے چھولے بہت مشہور ہیں۔

مزید پڑھیے:  دادو کا مشہور اگھم حلوہ جو ’تین ماہ تک خراب نہیں ہوتا‘

ان کے مطابق: ’ہمارا یہ ناشتہ پوری رات چلتا ہے۔ ہم رات کو 11 بجے آتے ہیں اور تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ رات کو ایک بجے کے بعد ہم ناشتہ فروخت کرنا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک بجے سے لے کر صبح چھ سے سات بجے تک لوگوں کا رش ہوتا ہے۔‘

ولی محمد بتاتے ہیں کہ ان کے یہاں ناشتہ کرنے کے لیے پورے حیدرآباد شہر سے لوگ آتے ہیں۔ ’انہیں معلوم ہے کہ رات کے وقت ناشتہ ادھر ہی ملے گا، اس لیے ایک سال سے جب سے یہ کھلا ہے لوگ ہمارے پاس ہی آتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ دکان کی شروعات انہوں نے دو کلو آٹے اور ایک یا آدھا کلو چھولے خرید کر کی تھی، جو پھر آہستہ آہستہ بڑھتا گیا۔  بقول ولی محمد: ’اب اللہ کا شکر ہے۔ لوگوں سے بھیک مانگنے سے بہتر ہے کہ اپنا کچھ شروع کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا