ملتان سے کراچی سفر کرنے والی خاتون کا ٹرین میں ’گینگ ریپ‘

پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس میں سوار خاتون کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کرنے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پاکستان ریلوے کے مطابق زکریا ایکسپریس نجی مینجمنٹ ایس ایس آر گروپ کے تحت چلتی ہے (تصویر: ایس ایس آر گروپ)

پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس میں سوار خاتون کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کرنے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترجمان پاکستان ریلوے کے مطابق تینوں ملزمان زکریا ایکسپریس جو نجی مینجمنٹ ایس ایس آر گروپ کے تحت چلتی ہے کے ملازم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نجی کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور اگر سات دن میں جواب نہ آیا تو کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان بابر رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لڑکی کی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا خاندان ایسا نہیں چاہتا۔

ان کے مطابق یہ واقعہ 27 مئی کی شب پیش آیا جب متاثرہ خاتون جو کراچی کے ایک علاقے کی رہائشی ہیں ملتان سے کراچی آرہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ روہڑی سٹیشن کے بعد ٹرین کے عملے میں سے زاہد نامی ایک شخص نے انہیں ان کے ساتھ اے سی بزنس کمپارٹمنٹ میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ ’جب وہ خاتون کمپارٹمنٹ میں پہنچیں تو وہاں ٹرین مینیجر عاقب پہلے سے موجود تھا۔‘

’زاہد، عاقب اور عملے کے تیسرے رکن ذوہیب نے خاتون کا مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘

پاکستان ریلوے کے ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ کراچی سٹی سٹیشن پہنچنے پر متاثرہ خاتون پلیٹ فارم پر بیٹھ گئیں، جس پر وہاں ڈیوٹی پر موجود ریلوے پولیس اہلکار ان کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ وہ وہاں کیوں بیٹھی ہیں یا اگر انہیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ بیان کریں لیکن متاثرہ خاتون نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔‘

’جب متاثرہ خاتون کو بینچ پر بیٹھے زیادہ دیر ہو گئی تو ریلوے لیڈی پولیس انہیں پولیس سٹیشن ہیلپ سینٹر لے آئیں۔ جہاں سے ان کی بہن کو کال کی گئی اور وہ اپنے شوہر کے ہمراہ آئیں اور اپنی بہن کو لے کر چلی گئیں۔‘

ترجمان کے مطابق اس وقت تک متاثرہ خاتون نے اپنے ساتھ ہونے والا کسی قسم کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا تھا نہ ہی انہوں نے کوئی قانونی کارروائی کی درخواست کی۔

تاہم بعد میں ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد ڈویژنل سپریٹینڈنٹ کراچی نے متاثرہ خاتون سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے ساتھ پیش آنے والا معاملہ رپورٹ کرنے کی درخواست کی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد متاثرہ خاتون کا ڈی سی او ریلوے اور لیڈیز پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کروایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور اس وقت تینوں نامزد ملزمان ذوہیب، عاقب اور زاہد پولیس کی حراست میں ہیں۔

ریلوے کے سی ای او کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں ایکشن ہوتا نظر آئے گا اور اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو چھوڑا نہیں جائے گا۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان بابر رضا نے مزید بتایا کہ ریلوے انتظامیہ نے زکریا ایکسپریس کو چلانے والی نجی کمپنی کے ٹھیکیدار کو اظہار وجوہ (Show Cause Notice) جاری کر دیا ہے۔ اب ان کے پاس جواب دینے کے لیے سات دن ہیں، سات دن میں جواب نہ آیا تو ریلوے انتظامیہ مزید کارروائی کرے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ ریلوے انتظامیہ کو یہ بھی حکم جاری کیا گیا ہے کہ وہ ٹرینوں میں موجود نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے تمام ملازمین کی ایجنسیوں کے ذریعے دوبارہ جانچ پڑتال کروائیں۔ 

اس واقعے کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے ایس ایس آر گروپ سے بھی رابطے کرنے کی کوشش کی مگر ان سے رابطہ فی الحال ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان