توہین آمیز بیانات: ایشیا بھرمیں احتجاج، بھارت میں جھڑپیں

گزشتہ ہفتے جب وزیراعظم نریندرمودی کی حکمران جماعت کی ترجمان نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران اسلامی تاریخ پر تبصرہ کیا تھا اس وقت سے پوری اسلامی دنیا میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

بھارتی حکمران جماعت کے عہدیدار کی جانب سے ’توہین آمیز‘ بیانات کے ردعمل میں بھارت سمیت پورے ایشیا کے مسلمانوں نے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کیا۔

ان بیانات کی وجہ سے سفارتی مشکلات میں گھرے بھارت کے مختلف علاقوں میں بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کیے جن میں سے بعض پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔

بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق ریاست اتر پردیش میں مختلف مقامات پر پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں نعرے بازی کے ساتھ پتھراؤ بھی کیا گیا ہے۔

تاہم دوسری جانب رانچی میں ہونے والے مظاہروں کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اے این آئی کے مطابق ان پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں رانچی کی انتظامیہ نے ان علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کرتے ہوئے لوگوں سے اپنے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ ہفتے جب وزیراعظم نریندرمودی کی حکمران جماعت کی ترجمان نے ایک ٹی وی مباحثے کے دوران اسلامی تاریخ پر تبصرہ کیا تھا اس وقت سے پوری اسلامی دنیا میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی(اے ایف پی) کے مطابق اس کے بعد تقریبا 20 ممالک نے بھارتی سفیروں کو بلایا ہے اور یہ پارٹی نقصان کو کنٹرول، عہدیدار کو معطل کرنے اور تمام مذاہب کے احترام کے متعلق بیان دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔

جمعہ کو اس ہنگامے کے جواب میں سڑکوں پر ہونے والی سب سے بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور پولیس نے اندازہ لگایا کہ نماز جمعہ کے بعد پورے بنگلہ دیش میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے احتجاج کیا۔

دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والے مظاہرے میں شریک امان اللہ امان اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج یہاں بھارتی سرکاری عہدیداروں کی جانب سے اپنے نبی کی توہین کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ ہم ان کے لیے سزائے موت چاہتے ہیں۔‘

اس شہر میں ہونے والے احتجاج کے شرکا نے مودی کی مذمت کی اور مسلم عقیدے کے دشمنوں کو’محتاط‘ رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔

 

تحریک لبیک پاکستان نے لاہور میں نماز جمعہ کے بعد تقریبا پانچ ہزارحامیوں کے ساتھ شہر کے مرکز میں احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیانات پر بھارت کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

سکول استاد عرفان رضوی نے کہا کہ ’پیغمبر اسلام ہماری سرخ لکیر ہے۔ چاہے وہ بھارت ہو... یا کوئی اور، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اسلام کے محافظ خاموش نہیں رہیں گے۔‘

بھارت کی20 کروڑ مسلم اقلیتی برادری کے ارکان نے آج ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے کیے۔ نئی دہلی میں سترہویں صدی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر پر بھی ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔

سوشل میڈیا فوٹیج میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبا کو نوپور شرما یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان کا پتلا جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کے بیان نے ہنگامہ برپا کردیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیے، مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی اور جمعہ کو کرفیو نافذ کر دیا۔

ایک خودساختہ شٹ ڈاؤن کی وجہ سے پورے سری نگر میں کاروبار بند ہو گئے اور مظاہرین نے نبی کی’ توہین‘ کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔

دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں تقریبا 50 مظاہرین نے جکارتہ میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے ریلی نکالی۔

اس احتجاج کے کوآرڈینیٹر علی حسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ بھارتی حکومت کو مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے اور انہیں ان سیاستدانوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے جنہوں نے یہ بیان دیا۔‘

اس سے قبل 2020 میں پوری مسلم دنیا میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے ایک طنزیہ رسالے میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے کے حق کا دفاع کیا تھا۔

ایک چیچن مہاجر نے فرانسیسی استاد سیموئیل پیٹی کا اکتوبر 2020 میں اس لیے سر قلم کردیا تھا کہ اس نے اپنی کلاس کو آزادی اظہار کے سبق میں توہین آمیز کارٹون دکھائے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا