جونی بیرسٹو کی جارحانہ سنچری کی بدولت انگلینڈ فتح یاب

بیرسٹو جس طرح کھیل رہے تھے اس سے لگتا تھا کہ ان کے سامنے 500 بھی ہدف ہو تو پورا کرکے جائیں گے۔

جونی بیرسٹو نے صرف 92 گیندوں پر 136 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں سات چھکے اور 14 چوکے شامل تھے(اے ایف پی)

ناٹنگھم میں دوسرا ٹیسٹ میچ انگلینڈ نے دلچسپ مقابلے کی بعد جیت لیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کم وقت ہونے کے باوجود 298 رنز کےمجموعے کا دفاع نہیں کرسکی۔

 حالانکہ 72 اوورز میں اتنے بڑے ہدف تک پہنچنا مشکل تھا لیکن انگلینڈ کی ٹیم نے ٹیسٹ میچ کے آخری دن کو یادگار بناتے ہوئے محض 50 اوورز میں ہدف حاصل کرلیا۔

جونی بیرسٹو کی طوفانی اننگز

ناٹنگھم ٹیسٹ شروع دن سے بلے بازوں کے لیے سازگار تھا اور دونوں ٹیموں کے بلے بازوں نے دل کھول کر رنز کے انبار لگائے۔

 میچ میں پانچ سنچریاں بنائی گئیں، جن میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل اور ٹام بلنڈل نے سنچریاں بنائیں تو انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ اوراولی پوپ نے سنچریاں سکور کیں۔ لیکن میچ کی سب سے دلچسپ اور فاتحانہ اننگز جونی بیرسٹو نے دوسری اننگز میں کھیلی۔ انہوں نے ٹیسٹ میچ کو ٹی ٹوئنٹی میچ بنادیا تھا۔

جونی بیرسٹو دوسری اننگز میں اس وقت بیٹنگ کے لیے آئے جب انگلینڈ 56 رنز پر تین وکٹ گنوا چکا تھا اور ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اب بیرسٹو کپتان بین سٹوکس کے ساتھ مل کر میچ ڈرا کر دیں۔

لیکن بیرسٹو تو کچھ اور سوچ کر آئے تھے انہوں نے آتے ہی جارحانہ بلے بازی شروع کردی انہوں نے نیوزی لینڈ کے بولنگ اٹیک کوروند کر رکھ دیا۔

صرف 92 گیندوں پر 136 رنز کی شاندار اننگز جس میں سات چھکے اور 14 چوکے شامل تھے۔ انگلینڈ کی ایک یادگار جیت کا سبب بننے والی یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں نویں سنچری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیرسٹو جس طرح کھیل رہے تھے اس سے لگتا تھا کہ ان کے سامنے 500 بھی ہدف ہو تو پورا کرکے جائیں گے۔

کپتان سٹوکس نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے بیرسٹو کے ساتھ 179 رنز کی پارٹنرشپ کی اور 70 گیندوں پر 75 رنز بناکراپنی کپتانی کا دوسرا ٹیسٹ بھی جیت لیا۔

نیوزی لینڈ کی بدقسمتی

نیوزی لینڈ کی ٹیم جو گذشتہ سال بہترین ٹیم تھی اس سال کمزور اور معیار سے کم نظر آتی ہے۔ بیٹنگ میں ولیمسن کی غیر موجودگی اور بولنگ میں ساؤتھی اور بولٹ کی غیر معیاری بولنگ نے کیویز کو بیک فٹ پر کردیا ہے۔ کائل جیمی سن زخمی ہوگئے جس سے بولنگ مزید پیچھے چلی گئی۔

انگلینڈ کے خلاف نیوزی لینڈ کی ٹیم کا روایتی انداز نظر نہیں آرہا ہے اور مقابلے میں یک طرفہ مناظر نظر آرہے ہیں۔

بین سٹوکس اور برینڈن میکلم کا امتزاج

انگلینڈ کی ٹیم جو اس سیریز سے قبل زخم خوردہ نظر آرہی تھی اب ایک وننگ سکواڈ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ جس کی بڑی وجہ سٹوکس اور میکلم کی جارحانہ حکمت عملی نظر آتی ہے۔

انگلینڈ کی یہ جیت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ مطلوبہ ہدف کم سے کم اوورز میں حاصل کیا گیا ہے۔

ناٹنگھم ٹیسٹ جو چار دن ڈرا کی طرف گامزن رہا لیکن پانچویں دن اس نے اپنی سنسنی خیزی میں ٹی ٹوئنٹی کو مات دے دی۔

ناٹنگھم ٹیسٹ میچ کے ممکنہ ڈرا ہونے کے پیش نظر آخری دن سٹیڈیم کے دروازے کھول دیے گئے تھے تاکہ تماشائی مفت میچ دیکھ سکیں۔ ناٹنگھم کرکٹ کلب کے اس فیصلہ نے میچ کو بھی فیصلہ کن بنادیا

انگلینڈ نے یہ ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کرلی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ