امریکہ: معمولی اجرت پر کام کرتے قیدی جو اربوں ڈالر کماتے ہیں

امریکہ میں قید کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں 12 لاکھ سے زائد افراد ریاستی اور وفاقی جیلوں میں قید ہیں۔

28 ستمبر 2017 کی اس تصویر میں امریکی ریاست کیلی فورنیا کے اوک گلین کنزرویشن کیمپ کے قیدی جیل کے احاطے میں موجود جھاڑیوں کو ہٹا رہے ہیں(اے ایف پی)

مونٹریل کارموچے میکسیکو کے سفید ساحلوں اور سمندری چٹانوں کی تعریف کرتے ہیں اور ٹیلی فون پر اسے چھٹیاں گزارنے کے لیے ایک اچھے مقام کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ جب کہ وہ یہ بھی چھپانے کے کوشش کرتے ہیں وہ خود کبھی وہاں نہیں گئے اور امریکی جیل میں قید ایک قیدی ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان کی کہانی اور ان کی تنخواہ جو فی ڈیل چھ ڈالر کا معمولی کمیشن ہے، کو اس ہفتے امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) اور شکاگو یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں امریکی جیلوں میں قید افراد کے کام کی دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔

اس رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اے سی ایل یو کی محقق جینیفر ٹرنر کے مطابق قیدیوں کو ’اکثر غیرمحفوظ حالات میں کام کے عوض کم پیسے ادا کیے جاتے ہیں حالاںکہ وہ ان ریاستوں اور وفاقی حکومت کے لیے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔‘

امریکہ میں قید کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں 12 لاکھ سے زائد افراد ریاستی اور وفاقی جیلوں میں قید ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو تہائی افراد کے پاس جیل میں ملازمتیں ہیں اور وہ ہر سال 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی اشیا اور سروسز فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سے بڑی اکثریت 80 فیصد سے زائد جیلوں کی صفائی کرنے والوں، باورچیوں، الیکٹریشنز اور پلمبر کے طور پر صفر ڈالر سے 1.24 ڈالر فی گھنٹہ اجرت لینے والے ملازم کے طور پر کام کرتے ہیں۔

جیل خانہ جات کے بیورو نے اے ایف پی کو دیے گئے ایک بیان میں کام کے پروگرام کو’قیدیوں کے بے کارپن کو کم کرنے کا ذریعہ، قیدی کو ملازمت کے حصول کے لیے مفید مہارتوں، کام کی عادات اور تجربات کو بہتر بنانے /یا تیار کرنے کا موقع قراردیا ہے جو رہائی کے بعد ملازمت میں مدد گار ثابت ہوں گے۔‘

اے سی ایل یو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2004 میں ان کے کام کا کم سے کم تخمینہ نو ارب ڈالر تھا۔

ایلانوئے کی ایک قیدی لتاشیا ملنڈر اس رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جیل میں جو بھی کام کر رہے ہیں وہ ہمیں واقعی فائدہ نہیں پہنچا رہا، اس سے جیل کے نظام کو زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔ میں 450 ڈالر کمانے کے لیے پورا سال کام کرتا ہوں۔ اگر وہ یہی پیسے اس کام کے لیے کسی شہری دیں تو یہ اس کی ایک ہفتے کی تنخواہ ہوگی۔‘

’بنیادی انسانی حقوق'

تقریبا 50 ہزار قیدی وہ سامان اور خدمات فراہم کرتے ہیں جو دیگر سرکاری اداروں کو فروخت کی جاتی ہیں۔ بشمول ہسپتالوں کے لیے چادریں دھونا یا سرکاری ملازمین کے لیے وردی بنانے جیسی ملازمتیں۔

نیشنل پرزن انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے مطابق 2021 میں اس مزدوری کی مالیت 2.09 ارب ڈالر تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک بار پھر اجرت بہت کم ہے: مثال کے طور پر اوریگن میں گاڑیوں کی رجسٹریشن ایجنسی قیدیوں کو لائسنس پلیٹیں بنانے کے لیے چار سے چھ ڈالر یومیہ ادا کرتی ہے، جب کہ آزاد ملازمین کے لیے یہ اجرت 80 ڈالر ہے۔

علاوہ ازیں مونٹریل کارموچے سمیت پانچ ہزار سے بھی کم قیدی نجی کمپنیوں کے لیے کام کرتے ہیں، جن کے گاہکوں کو اکثر مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

اس کام میں تھوڑی زیادہ اجرت ملتی ہے، جس کی مانگ قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن قیدیوں کی زیادہ تر آمدنی حکومت ان کی قانونی فیس کی ادائیگی کی مد میں ضبط کر لیتی ہے۔

رپورٹ کے مصنفین بتاتے ہیں کہ ملازمت سے قطع نظر جو کام قیدیوں کو دیا جاتا ہے انہیں اس کی کوئی تربیت نہیں ہے عام طور پر وہ ان کاموں سے انکار نہیں کر سکتے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری سازوسامان کی کمی ہے۔

جیل خانہ جات کے بیورو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ ’انسانی سلوک‘’اولین ترجیح‘ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف ان قیدیوں کو پروگرام کے کاموں میں لگایا جاتا ہے جو’ جسمانی اور ذہنی طور پر اس کے قابل‘ ہیں۔ ان پروگراموں کے لیے’صحت اور حفاظت کے لیے مناسب کم از کم معیارات پر پورا اترنا ضروری ہے۔‘

رپورٹ کے مصنفین کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔

اس مطالعے کی شریک مصنفہ شکاگو یونیورسٹی کی کلاڈیا فلورس نے کم از کم اجرت کے نفاذ سمیت متعدد اصلاحات کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کی بہت سی جیلوں میں قید مزدوروں کے حالات زندگی بنیادی ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ