سری لنکا: بھائی کی رہائی کے منتظر سابق قیدی کی داستان

43 سالہ قمر محبوب مسیح منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں آٹھ سال سری لنکا اور پھر دو سال اڈیالہ جیل میں گزارنے کے بعد عید الفطر کی چاند رات کو رہا ہوکر لاہور میں اپنے گھر پہنچے۔ مگر ان کے بھائی اب بھی وہاں قید ہیں جن کی کوئی خبر نہیں۔

قمر کو گھروں میں رنگ کرنے کا کام مل گیا ہے (تصویر: قمر مسیح)

’میں اور بھائی مظہر پہلے چھوٹی موٹی نوکری کرتے تھے۔ حالات زندگی کو بہتر کرنے کے لیے میں اور وہ بہک گئے۔ ہمارا مقصد تو گھر کے حالات اور بچوں کے مستقبل کو سنوارنا تھا مگر اس کے لیے ہم نے غلط راستہ چن لیا اور منشیات کی سمگلنگ کے چکر میں پھنس گئے۔‘

43 سالہ قمر محبوب مسیح آٹھ سال سری لنکا اور پھر دو سال اڈیالہ جیل میں گزارنے کے بعد عید الفطر کی چاند رات کو رہا ہوکر لاہور میں اپنے گھر پہنچے۔ کئی ہفتے وہ نوکری کی تلاش میں رہے۔

جس دن انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے بات کی وہ ان کا نوکری کا پہلا دن تھا۔ انہیں گھروں میں رنگ کرنے کا کام ملا تھا۔

قمر اپنی بیوی اور چار بچوں سمیت لاہور میں ایک کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ ان کے کندھوں پر ان کے بھائی کی بیوی اور ان کے چار بچوں کی کفالت کا بوجھ بھی ہے۔

انہوں نے ہمیں اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے انتہائی پچھتاوے کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ لالچ نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ 

قمر نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا: ’ہمارا ایک دوست تھا جس نے مشورہ دیا کہ منشیات بیرون ملک لے جاؤ۔ اس نے بولا ایسا ایک ہی بار کرنا ہوگا۔ اس میں پیسے آپ کو اچھے مل جائیں گے تو کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع ہو جائے گا یا گھر اپنا لے لینا اور آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ہم اس کی باتوں میں آگئے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ ایک بار ہمارے  مسئلے کا حل نہیں بلکہ اور بہت سے خوفناک مسائل کی شروعات ہوگی۔‘

قمر کے مطابق مشورہ دینے والے دوست کے ایک اور دوست نے انہیں منشیات فراہم کیں جس کے بدلے دو لاکھ روپے کا معاوضہ طے ہوا اور یوں دونوں بھائی 2012 میں 700 گرام ہیروئن لے کر سری لنکا پہنچے۔

انہوں نے بتایا: ’لاہور ایئرپورٹ سے ہم منشیات سمیت نکل گئے یہاں تک کہ سری لنکا ایئر پورٹ سے بھی نکل گئے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد جب ہم نے وہ ہیروئن اس کے مالک کے پاس پہنچانی تھی اس وقت ہم دونوں پکڑے گئے۔‘

یہی وہ دن تھا کہ ان کے حالات بد سے بدترین ہوگئے۔

قمر نے بتایا: ’پیچھے گھر کرائے پر تھا اور ہم دونوں اپنے گھر والوں کو یہی دلاسا دے کر گئے تھے کہ ہم واپس آئیں گے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ہم دونوں بھائی وہاں پکڑے گئے اور یہاں ہماری بیویوں کو گھر اور بچوں کو سنبھالنا پڑا اور لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزارا کرنا پڑا۔‘

پکڑے جانے کے بعد سری لنکا میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے انہیں بتایا کہ انہیں سزا ہوگی جس کے بعد یہ دونوں بھائی ریمانڈ پر رہے اور کچھ عرصے کے بعد انہیں سزائے موت سنا دی گئی اور جیل بھیج دیا گیا۔

تاہم قمر ایک لحاظ سے خوش قسمت رہے۔ 2020 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت سری لنکا سے 41 قیدی پاکستان واپس بھیجے گئے جن میں یہ بھی شامل تھے مگر ان کے بھائی کو ان کے ساتھ نہیں بھیجا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بھائی کا بھی نام ان قیدیوں کی فہرست میں تھا جنہیں واپس بھیجا جانا تھا مگر جیل میں ان کا کچھ لوگوں سے جھگڑا ہوا اور انہوں نے ان کے اور چار اور لوگوں کے بارے میں مخبری کردی کہ وہ جیل کے اندر سے منشیات کا کاروبار کر رہے ہیں۔

اس کے بعد بھائی کو اس جیل سے سری لنکا کی سپیشل جیل منتقل کر دیا گیا۔

قمر کہتے ہیں: ’وہ دن اور آج کا دن ہے کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میرا بھائی وہاں کن حالات میں ہے، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ ہمارا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔‘

ان کے مطابق جب وہ سری لنکا سے پاکستان کی اڈیالہ جیل میں آئے تو یہاں انہیں کسی شخص کے ذریعے معلوم ہوا کہ سری لنکا کی اس مخصوص جیل میں ان کے بھائی کے ساتھ موجود ایک قیدی نے تو خود کشی کر لی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ بھائی نے بھی خود کشی کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان آںے کے بعد اڈیالہ جیل سے قمر کی رہائی جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی کوششوں سے ممکن ہوئی اور اب جے پی پی ان کے بھائی اور سری لنکا میں موجود 40 اور قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے۔ 

قمر اور ان کے بھائی کا کیس اصل میں ہے کیا؟

جے پی پی کے ترجمان محمد شعیب نے بتایا: ’سری لنکا میں ہماری معلومات اور وہاں کی حکومت کی جانب سے جو معلومات پبلک کی گئیں تھیں ان کے مطابق چار پاکستانیوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں قمر اور ان کے بھائی مظہر بھی شامل تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے پہلے وہاں کافی عرصے تک منشیات کی سمگلنگ کے لیے سزائے موت سنائی جاتی رہی مگر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔ لیکن 2018 میں سری لنکا کے صدر کی جانب سے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کا اعلان کیا گیا تو پاکستانی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے ان چار پاکستانی قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرایا گیا۔ 

قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کیا ہے؟

جے پی پی کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے اگست 2002 میں  ٹرانسفر آف اوفینڈرز آرڈینینس 2002 جاری کیا تھا، جس کے تحت دوسرے ملکوں سے ان پاکستانی قیدیوں کو ملک واپس لایا جاسکتا تھا جن کی سزائیں چھ ماہ سے زیادہ ہوں۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے جنوری 2004 میں سری لنکا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد وہاں موجود پاکستانی قیدیوں کی واپسی شروع ہوئی۔ 

جے پی پی کی تحقیق کے مطابق 2012 میں سری لنکا سے 20 پاکستانی قیدی واپس آئے، 2013 میں 72 پاکستانی واپس آئے لیکن پھر اس کے بعد پاکستان نے مارچ 2015 میں دوسرے ملکوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو معطل کردیا تھا۔

محمد شعیب کے مطابق نومبر 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس حوالے سے کچھ کیسز کی سماعت کے دوران مقامی قوانین کے اطلاق کی بات کی اور پھر سپریم  کورٹ نے جون 2018 میں حکومت کو حکم دیا کہ وہ بیرونی ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی واپسی کی کوشش کرے۔ اس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر وفاقی حکومت 2019 میں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نے بحال کر دیا۔ اس کے نتیجے میں نوبر 2020 میں 41 پاکستانی قیدی سری لنکا سے پاکستان پہنچے جن میں قمر مسیح بھی تھے، جنہیں اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ 

اڈیالہ رہائی کیسے ممکن ہوئی؟

شعیب نے بتایا کہ ان کے ادارے نے فیس بک فورم ’وکیل آن لائن‘ کے ذریعے ان قیدیوں کے لیے مفت وکلا کا بندوبست کیا۔

ان میں سے کچھ قیدیوں نے ان وکیلوں کے ذریعے اپنے مقدمات اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کیے، جن میں استدعا یہی تھی کہ ان قیدیوں کی سزاؤں پر پاکستانی قوانین کے تحت نظر ثانی کی جائے کیونکہ سری لنکا میں ان قیدیوں کو سزائے موت سمیت سخت سزائیں سنائی گئی تھیں اور پاکستان میں ان جرائم کی سزا کم ہے۔

شعیب کا کہنا تھا کہ کیونکہ دوسرے ممالک میں قید پاکستانیوں کو وکلا کی اس طرح سے سہولت مہیا نہیں کی جاتی۔ قیدی دوسرے ملکوں کے نظام قانون کو بھی نہیں سمجھتے نہ وہاں کی زبان جانتے ہیں اور بعض ملکوں میں ہمارا سفارت خانہ بھی اپنے وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کی مدد نہیں کر پاتا۔ 

جے پی پی کے ترجمان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارچ 2021 میں حکم دیا جس کے تحت وزارت داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان قیدیوں کی پاکستانی قوانین کے مطابق سزاؤں کے تعین کے لیے متعلقہ کورٹ سے رابطہ کریں جس کے بعد مقدمات انسداد منشیات کی خصوصی عدالتوں میں بھیجے گئے۔

قیدیوں میں سے کچھ ایسے تھے جن پر کم مقدار میں اور کچھ پر زیادہ مقدار میں منشیات لے جانے کے مقدمات تھے۔ انسداد منشیات کی خصوصی عدالتوں نے ان قیدیوں کی سزاؤں پر نظر ثانی کی۔ اس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے آیا جب عدالت کے سامنے وزارت داخلہ سے ان قیدیوں کے معاملے پر دوبارہ رجوع کیا گیا تاکہ معزز عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوسکے۔

سری لنکا میں پاکستانی قیدیوں کے لیے کیا کیا جارہا ہے؟

شعیب کا کہنا ہے کہ جو قیدی اب وہاں رہ گئے ہیں ان کی واپسی کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور سفارت خانہ ذمہ دار ہیں کہ وہ ان کی وہاں دیکھ بھال اور ان کی واپسی کی کوششیں کریں۔

ان کے مطابق سری لنکا سے پاکستانی قیدی ایک سے زائد بار واپس آنے کی روایت موجود ہے اور یقیناً اس میں پاکستانی دفتر خارجہ اور پاکستانی سفارت خانے کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے اسی لیے ہم نے پاکستانی وزارت خارجہ اور سری لنکا میں تعینات پاکستانی سفیر اور وزارت برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی سے رابطہ کیا ہے اور انہیں خط لکھے ہیں کہ وہ ان پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے کوشش کریں جن میں قمر کے بھائی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ یہ قیدی جلد واپس آئیں گے۔‘

اس حوالے سے سری لنکا میں موجود پاکستانی اتاشی کلثوم قیصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سری لنکا کے قوانین کے مطابق وہاں موجود پاکستانی قیدیوں کے کیسز پر مقامی قوانین کے تحت کارروائی زیر عمل ہے اور وہ اپنے وقت پر مکمل ہو گی۔ تاہم پاکستانی ہائی کمیشن وہاں موجود پاکستانی قیدیوں کو بھرپور ممکنہ معاونت فراہم کر رہا ہے۔‘

سری لنکا میں اس وقت معاشی اور سماجی صورت حال کی وجہ سے وہاں موجود پاکستانی قیدیوں کے تحفظ پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

اس حوالے سے جے پی پی کے ترجمان نے کہا: ’اس وقت سری لنکا کے جو اندرونی حالات ہیں وہ انسانی بنیاد پر اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہماری حکومت پاکستانی قیدیوں کی واپسی کے لیے بھرپور کوش کرے۔ سری لنکا کی جیلوں میں سہولیات کا فقدان وہاں کے معاشی بحران سے پہلے بھی تھا اور اب اس میں یقیناً شدت آگئی ہوگی۔ جو قیدی وہاں سے واپس آئے ہیں اور ہماری جو بات چیت ان سے ہوئی ہے ان کے مطابق سری لنکا کی جیلوں میں اتنے وسائل اور سہولیات موجود نہیں ہیں کہ وہ قیدیوں کا اچھے سے خیال رکھ سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی