101 سالہ بیمار قیدی جنہوں نے مزید 24 سال سزا کاٹنی ہے

گجرات کی جیل میں قید مہندی خان پر الزام ہے کہ وہ 2006 میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کے قتل میں ملوث ہیں۔ انہیں گذشتہ سال 25 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

دسمبر 2019 سے گجرات ڈسٹرکٹ جیل میں قید مہندی خان ان دنوں ہسپتال میں زیر علاج ہیں (تصویر وکلا)

پنجاب کے ضلع گجرات کے عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں زیر علاج 101 سالہ مہندی خان کو چند روز قبل ڈسٹرکٹ جیل گجرات سے یہاں لایا گیا ہے۔ انہیں اس وقت خوراک کی نالیاں لگی ہیں جبکہ جیل کے میڈیکل بورڈ کے مطابق وہ دل کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں۔

مہندی گجرات ڈسٹرکٹ جیل میں دسمبر 2019 سے قید ہیں جبکہ ابھی ان کی سزا کے 24 برس باقی ہیں۔ مہندی کو ایک ہی خاندان کے سات افراد کے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم ضعیف العمری اور بیماری کے باعث ان کے وکلا اس کوشش میں ہیں کہ انہیں باقی سزا جیل سے باہر کاٹنے کا موقع مل سکے۔

مہندی کا کیس لڑنے والے وکلا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سات افراد کو قتل کرنے کے الزام میں 2006 میں مہندی کا کیس ٹرائل کورٹ میں شروع ہوا اور تین ماہ بعد ان کی ضمانت ہوئی جبکہ 2008 میں انہیں بری کر دیا گیا۔ تاہم مقتولین کے خاندان نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر دی جس کا فیصلہ دسمبر 2019 میں ہوا اور انہیں پھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر 100 برس تھی اور انہیں 25 سال کی عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

مہندی کی وکیل نمرہ گیلانی نے کہا: 'ہم نے رواں برس جنوری میں اس کیس کو اٹھایا اور میرے ساتھ دوسرے وکیل حمزہ حیدر نے اپنی لا فرم کے ذریعے فروری میں جیل حکام کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا کہ جیل مینول کے رول 146 کے مطابق اگر کوئی بہت بیمار، عمر رسیدہ ہے یا اسے کوئی معذوری ہے کہ وہ دوبارہ جرم کرنے کے قابل نہیں، جس کے لیے وہ جیل میں پہلے سے موجود ہے تو جیل سپرنٹنڈنٹ اس شخص کی جلد رہائی کی درخواست ہوم ڈپارٹمنٹ کو بھیج سکتا ہے۔ پھر ہوم ڈپارٹمنٹ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس قیدی کا کیا کرنا ہے۔'

نمرہ نے مزید بتایا: 'ہمیں سپرنٹنڈنٹ جیل کی جانب سے اس خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جس میں ہم نے یہی بات کی کہ مہندی خان شدید بیمار ہیں اور دل کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ جیل کے اپنے ہی میڈیکل بورڈ نے ان کو دل کے عارضے کا مریض قرار دیا تھا اور ساتھ ہی ان کی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان کی جسمانی سرگرمیاں انتہائی محدود ہیں۔

'اس کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے کافی مہینے تک کیس کی سماعت نہیں ہوئی اور جب 15 جولائی کو سماعت ہوئی تو ہوم ڈپارٹمنٹ اور جیل حکام نے اس بات کو مانا کہ مہندی خان کی صحت ٹھیک نہیں لیکن کرمنل پروسیجر کورٹ کی شق 402 سی کے مطابق کسی قیدی کی سزا تب تک معاف نہیں ہوسکتی جب تک مقتول کا خاندان اس کی اجازت نہ دے۔

ایڈووکیٹ نمرہ نے مزید بتایا کہ اس وقت اس کیس میں یہی ایک قانونی تنازع ہے لیکن کورٹ میں اس بات پر بحث نہیں ہوئی بلکہ ہوم ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہم خود اس درخواست پر فیصلہ کر لیں گے، جس پر جج نے انہیں تین ہفتے کا وقت دیا اور کہا کہ آپ کے پاس جو پہلے سے درخواست آئی ہوئی ہے اس پر فیصلہ کریں اور ہمیں کہا کہ اگر ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں تو اسے کورٹ میں دوبارہ چیلنج کر سکتے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم ان کی سزا کو تبدیل کرنے کی بات نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ جب قانون میں ایسے قیدی کے لیے کسی حد تک چھوٹ ہے تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مہندی کو آسانی دی جائے۔  بے شک ان کے گھر کو ہی سب جیل بنا دیا جائے۔'

حالت خراب ہونے پر مہندی ابھی ہسپتال میں داخل ہیں۔

گجرات ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ لیاقت علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'مہندی پہلے جیل کے ہسپتال میں زیر علاج تھے مگر طبعیت زیادہ بگڑنے پر انہیں چند روز قبل گجرات کے سرکاری ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔'

قتل کیس

مہندی کے بیٹے محمد اکرم نے خواہش ظاہر کی کہ والد کی ضعیف العمری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں جیل سے رہا کیا جائے۔ اپنے والد کی گرفتاری کے حوالے سے محمد اکرم کا کہنا تھا کہ 2006 میں ایک دن وہ گھر پر سوئے ہوئے تھے کہ صبح چھ بجے پولیس آئی اور گرفتار کر کے تھانے لے گئی، جہاں بتایا گیا کہ ساتھ کے گاؤں میں ایک ہی خاندان کے سات لوگ قتل ہوئے ہیں۔

'انہوں نے والد کو گرفتار کیا۔ اس وقت ان کی عمر 86 برس تھی، میں نے کہا کہ وہ بوڑھے ہیں آپ مجھے لے جائیں مگر پولیس والوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں مہندی کا نام ہے اس لیے انی کو گرفتار کرنا ہے۔'

2006 میں کاٹی گئی ایف آئی آر میں مہندی خان سمیت 19 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔

 محمد اکرم کا دعویٰ ہے کہ یہ قتل ان کے پھوپھی زاد بھائی نے کیے جو اب اس دنیا میں نہیں جبکہ مقتولین کے ساتھ ان کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ دوسری جانب مقتولین کے خاندان سے تعلق رکھنے والے قمر عباس کا کہنا ہے کہ مہندی کی رہائی کے لیے کوششیں کی جاری ہیں جبکہ جن کے خاندان کے بچے اور خواتین سمیت سات لوگ ہلاک ہوئے ان سے کسی نے بات تک نہیں کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: 'ان میں میرے دو بھائی، تین بہنیں، میرے والد اور والدہ شامل تھے۔ ان کی کہانی جاننے کے لیے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ اس واقعے کو 15 برس ہوگئے ہیں۔ یہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کہ ایک تو اس کیس میں کسی کو موت کی سزا نہیں ہوئی جبکہ اس کیس میں مہندی کے بیٹے بشیر سمیت چھ سے سات افراد اشتہاری ہیں اور قانون اب تک انہیں بھی گرفتار نہیں کر سکا۔'

ان کا کہنا تھا کہ دونوں خاندان جٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور زمین کے تنازعے پر پیدا ہونے والے جھگڑے میں مہندی اور ان کے ساتھیوں نے ان کے گھر میں گھس کر گولیاں چلائیں۔

قمر عباس کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے اب تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکے جبکہ کچھ نے چھپ کر اپنی جان بچائی تھی۔ 'مہندی کی معافی کے لیے ہم سے کسی نے کبھی رابطہ نہیں کیا۔ جب ہم سے رابطہ ہو گا تو سوچیں گے کہ انہیں معاف کرنا ہے یا نہیں۔'

مہندی خان واحد ضعیف العمر قیدی نہیں بلکہ دنیا بھر کی جیلوں میں سو سال سے زائد عمر کے کچھ قیدی موجود ہیں جبکہ کچھ کو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔

ان قیدیوں میں بھارت کے برج بہاری پانڈے 2011  میں 108 برس کی عمر میں رہا ہوئے، آسٹریلیا کے 107 سالہ بل ویلیس نے 63 برس جیل میں گزارے اور اگلی سالگرہ سے ایک ماہ قبل 1989 میں جیل میں ہی فوت ہو گئے جبکہ چند روز قبل امریکہ کے ضعیف العمر ایک سو سالہ قیدی کو 50 سال کی قید کے بعد رہا کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان