تیل کی قیمت میں اضافہ عوام کے لیے زحمت، ماحول کے لیے رحمت؟

اگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کو برقرار رکھا جائے تو ماحول دوست توانائی کے حصول کا سفر تیزی سے طے ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں (اے ایف پی)

پیٹرول کی قیمتیں پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے بلندیوں کا سفر کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں اب ایک عام فیملی کار کی ٹینکی کو پیٹرول سے بھرنے کے لیے 100 پاؤنڈ سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے، مگر کیا فاسل ایندھن کی اتنی زیادہ واقعی قیمتیں نقصان دہ ہیں؟

دنیا بھر میں عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اگرچہ عالمی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے لیکن اس دوران ایک تکلیف دہ حقیقت اکثر نظر انداز ہوئی ہے کہ ماحولیاتی بحران کو حل کرنے کی خاطر صارفین کے لیے فاسل ایندھن کی قیمتیں ہمیشہ بلند رہنے کی ضرورت ہے۔  

آگے بڑھنے سے پہلے ایک دو باتیں فاسل ایندھن کے بارے میں۔ یہ وہ ایندھن ہے جو زمین سے نکالا جاتا ہے، اور اس میں پیٹرولیم مصنوعات، مٹی کا تیل، قدرتی گیس اور کوئلہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایندھن جب جلایا جاتا ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے جو فضا میں شامل ہو کر ماحولیاتی حدت کا باعث بنتی ہے۔

چونکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے لوگ پریشان ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو یہ بات بےوقت کی راگنی لگے کہ ان کی قیمتیں بڑھنا بری بات نہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے آپ یہ کہیں کہ یہ بات حالات کی نزاکت سے بےخبری ہے۔ دنیا کے مالدار ممالک میں لاکھوں گھرانے اس تذبذب میں پھنسے ہیں کہ وہ خوراک پوری کریں یا توانائی کے بل ادا کریں۔ غریب ممالک میں صورت حال کہیں زیادہ بدتر ہے۔ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کھاد کو ناقابلِ یقین حد تک مہنگا کر دیا ہے جبکہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے دنیا بر میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے کہ کیوں یوکرین دنیا بھر کو گندم فراہم کرتا تھا۔  

یہ سب چیزیں مل کر عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان کی وجہ سے یمن، قرنِ افریقہ کے ملکوں (جبوتی، اریٹریا، صومالیہ، ایتھیوپیا) اور مڈغاسکر جیسے کئی ملکوں میں خوراک کی پہلے سے سنگین صورت حال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم پہلے ہی 2008 اور 2011 کے درمیان بڑے پیمانے پر معاشی بدحالی کا سامنا کر چکے ہیں جب خوراک جیسی بنیادی ترین ضرورت پوری نہ کرنے پر دنیا بھر کے شہریوں نے اپنی ریاستوں کو احتجاج کی زد پر رکھ لیا تھا۔

بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں توانائی کی پالیسوں میں تیزی سے ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ نومبر 2021 میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں منعقد ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس Cop26  میں حکومتوں نے کاربن پر ٹیکس لگانے اور فاسل ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں برق رفتاری سے اضافے کا سامنا کرتے ہوئے وہی حکومتیں توانائی پر ٹیکس کم کرنے، قیمتیں گھٹانے اور نئی سبسڈیز متعارف کروانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی نظر آ رہی ہیں۔

اس کے باوجود عالمی حدت کو ڈیڑھ ڈگری سیلسیئس سے نیچے رکھنے کے لیے فاسل ایندھن کے استعمال میں بڑے پیمانے پر کمی کی فوری ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کو کم فاسل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور کرنے کا موثر ترین طریقہ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہے۔   

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاشبہ فاسل ایندھن کے استعمال سے نجات کا عمدہ طریقہ بہتر (اور ترجیحاً سستا) متبادل فراہم کرنا ہے۔ لیکن توانائی کے ان نئے متبادل ذرائع (جن میں شمسی توانائی، ہوا چکیاں، اور دوسری ٹیکنالوجیاں شامل ہیں) میں سرمایہ کار تبھی دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے جب لوگوں کی توجہ واضح طور پر اس طرف مرکوز ہو، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ فاسل ایندھن کی قیمتیں صارفین کے لیے بلند سطح پر رہیں تاکہ لوگ ان نئے ذرائع کی طرف مائل ہوں۔ 

توانائی کے سبب فسادات کے خطرات

بلاشبہ فاسل ایندھن کی بلند قیمتیں بالعموم عوام پسند نہیں کرتے اور یہاں تک کہ یہ فسادات کے شعلے بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 2005 اور 2018 کے درمیان 41 ممالک میں کم از کم ایک ہنگامہ آرائی کی براہ راست وجہ ایندھن کی قیمتیں میں اضافے کا غیر مقبول فیصلہ تھا۔ محض 2019 میں سوڈان، فرانس، زمبابوے، ہیٹی، لبنان، ایکواڈور، عراق، چلی اور ایران میں توانائی سے سے منسلک وجوہات کی بدولت مظاہرے ہوئے جن میں سے اکثر ہنگامہ آرائی میں بدل گئے۔  

اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میں نے حال ہی میں ایک تحقیق شائع کی جس میں بتایا گیا کہ یہ ہنگامے اکثر و بیشتر ایندھن پر سبسڈی ختم کرنے کے بعد ان کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہوتے ہیں۔ قیمتوں میں ان اضافوں نے ایندھن سے جڑے فسادات کو جنم دیا جب شہریوں کو لگا کہ ان کے پاس حکومتی پالیسیوں اور اقدامات (یا ریاستوں کی طرف سے انہیں باز رکھنے کے لیے جب پرتشدد طریقہ استعمال کیا گیا) پر غصے کے اظہار کا دوسرا آپشن موجود نہیں۔ 

شدید عوامی ردعمل سے بچتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ 

کیا ہنگاموں کو ہوا دیے بغیر فاسل ایندھن کی قیمتیں بڑھانا ممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتیں گر جائیں تو ایندھن سے متعلق ٹیکسوں میں اضافہ کر کے صارفین کے لیے قیمتیں بلند ہی رکھی جائیں۔ اسے سیاسی طور پر قابل قبول بنانے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں۔ 

سب سے پہلے یہ کہ صارفین اس وقت قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کریں گے جب اس کا مطلب فاسل ایندھن کمپنیوں کے منافعے میں اضافہ ہو۔ صارفین کے لیے اونچی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر لگائے جانے والے ٹیکسوں کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف ایک ہی بار لگایا جانے والا ’ونڈ فال ٹیکس۔‘

ونڈ فال ٹیکس وہ اضافی ٹیکس ہوتا ہے جسے حکومتیں کمپنیوں پر اس وقت لگاتی ہیں جب ان کمپنیوں کو مالی صورتِ حال میں تبدیلی کی وجہ سے یک لخت بڑا منافع کمانے کا موقع مل جائے۔ حال ہی میں برطانیہ نے توانائی کی کمپنیوں پر پانچ ارب پاؤنڈ کا ونڈ فال ٹیکس عائد کیا ہے۔

یہ نئے ٹیکس قیمتیں کی سطح بلند رکھیں گی لیکن ان سے ایندھن کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو کوئی اضافی منافع نہیں ملے گا۔ یہ منافع اتنا ضرور ہو گا کہ وہ ایندھن کی پیداوار کی لاگت پوری کر سکیں، مگر اتنا نہیں کہ وہ مزید فاسل ایندھن پیدا کرنے میں اضافی سرمایہ کاری کر سکیں۔

جیسا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے نشاندہی کی ہے کہ 2050 تک کاربن کے اخراج اور خاتمے میں مکمل توازن (نیٹ زیرو) کے لیے تیل اور گیس کی پیداوار میں نئی سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔  

دوسرا یہ کہ اگر صارفین کا ادا کردہ اضافی ٹیکس انہیں واپس کر دیا جائے تو وہ فاسل ایندھن کی بلند قیمتیں قبول کرنے کے لیے بآسانی تیار ہو جائیں گے۔

امریکی ریاست الاسکا نے تیل کی آمدنی کا ایک حصہ ’مستقل فنڈ‘ کے طور پر رکھتے ہوئے کچھ ایسا ہی تجربہ کیا ہے جسے وہ ہر سال ہر گھر میں بذریعہ چیک تقسیم کرتی ہے (حالانکہ یہ طریقہ کار الٹے اثرات مرتب کر سکتا ہے، الاسکا میں بالآخر سیاست دانوں نے ان ادائیگیوں کو پورا کرنے کے لیے عوامی سہولیات میں کمی کر دی ہے)۔

فاسل ایندھن کی قیمتیں بلند رکھنے کے لیے عائد کیے گئے ٹیکسوں کے برابر سالانہ رقم حاصل کرنا زیادہ قیمتوں سے پہنچنے والی تکالیف کا مداوا کر دے گا۔ یہ سماج کے لیے زبردست رہے گا کیونکہ جو لوگ زیادہ فاسل ایندھن استعمال کرتے ہیں وہ زیادہ ٹیکس ادا کریں جبکہ جو لوگ کم استعمال کرتے ہیں وہ کم ٹیکس ادا کریں، لیکن فنڈ سے برابر رقم وصول پائیں گے اور اس طرح کم ایندھن استعمال کرنے والے مالی طور پر منافع میں رہیں گے۔

ممکن ہے فاسل ایندھن زیادہ استعمال کرنے والے غریب طبقات کے لیے بھی اضافی معاوضے کا بندوست کرنا پڑے جیسا کہ کم آمدن والے ایسے افراد جنہیں اپنی کاریں استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ 

توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں دنیا بھر کے غریب صارفین کے لیے ایک مصیبت ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ یہی چیز دنیا کو فاسل ایندھن کے بےتحاشا استعمال کی عادت سے چھٹکارے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

اگر ہم اس موقع کو فاسل ایندھن کی قیمتیں مستقل طور پر بلند رکھنے کے لیے کامیابی سے استعمال کریں تو محفوظ توانائی کی طرف منتقلی کا ایسا تیز رفتار سفر کر سکتے ہیں جو سب کے لیے منصفانہ ہو اور آنے والے برسوں میں آنے والی ماحولیاتی بحران کو روک سکے۔ 


یہ تحریر ’دا کنورسیشن‘ میں شائع ہوئی تھی اور اس کا ترجمہ ان کی اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے مصنف نیل میکلک برطانیہ کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ سٹڈیز سے وابستہ ہیں اور وہاں پولیٹیکل اکانومی کے ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات