پیٹرول مہنگا: ’پہلے شادی پر دو لوگ جاتے تھے اب ایک جائے گا‘

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی کچھ ٹرانسپورٹ سروسز نے حکومت کی منظوری کے بغیر ہی اپنی مرضی سے نئے کرائے لاگو کر دیے ہیں۔

18 جولائی 2021 کی اس تصویر میں لاہور کے لاری اڈے پر موجود بسوں کی قطاریں(فائل فوٹو: اے ایف پی)

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اچانک ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کچھ ٹرانسپورٹ سروسز نے تو حکومت کی منظوری کے بغیر ہی اپنی مرضی سے نئے کرائے لاگو کر دیے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ایک معروف بس سروس سے فون پر رابطہ کرکے لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ کرایہ 3650 روپے ہے حالانکہ چند روز قبل یہ 3400 روپے تھا۔

عائشہ چوہدری لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ملتان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ ہفتے کی دو چھٹیوں میں ملتان واپس چلی جاتی ہیں۔ پہلے وہ ایک نجی بس سروس کا ٹکٹ 1250 میں لیتی تھیں جب کہ اس ہفتے وہی ٹکٹ انہوں نے 1400 روپے میں خریدا ہے۔

ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کیا کہتی ہے؟

آل پاکستان ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ارشد نیازی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ سروس بیسڈ بس سروسز، جن میں معروف ٹرانسپورٹ کمپنیاں شامل ہیں، نے شہر سے باہر جانے والی بسوں کے کرایوں میں 30 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

 ان کا کہنا تھا: ’کرائے کیوں نہیں بڑھائے جائیں گے؟ جب پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر کس چیز پر نہیں آتا؟ جس ٹرک کا لاہور سے ملتان تک کرایہ 20 ہزار روپے تھا، اب وہ 30 ہزار تک پہنچ گیا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے باقی چیزیں جیسے موبل آئل، لبریکینٹ، ٹائر، تمام ضروریات زندگی، مزدوری سب چیزیں مہنگی ہو جائیں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’جو بسیں شہروں کے اندر چل رہی ہیں ان کا کرایہ حکومت نے ریگولیٹ کرنا ہے۔ حکومت ان کا کرایہ بڑھاتی ہے یا نہیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔ لاری اڈے سے جو جنرل بسیں چل رہی ہیں، ان کے کرائے بھی حکومت طے کرتی ہے۔ ان بسوں کی قیمت 20 سے 30 لاکھ روپے ہے، لیکن ہم سروس بیسڈ انڈسٹری ہیں۔ ہماری ایک ایک بس کروڑوں روپے کی ہوتی ہے۔ اتنے پیسے نقد کسی ٹرانسپورٹر کے پاس نہیں ہوتے، اس لیے بینک کے ذریعے یہ بسیں لیز پر لی جاتی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’بینک کو یہ پیسے بھی منافعے سمیت واپس کرنے ہوتے ہیں، اس لیے پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے ہمارا کاروبار بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔‘

ارشد نیازی کے مطابق: ’سب سے پہلے تو ہماری سواریاں کم ہو جاتی ہیں، جیسے شادی پر اگر دو لوگوں نے جانا ہوتا تھا تو اب ایک ہی جائے گا۔ پہلے پیٹرول کی قیمت ڈیڑھ سو روپے تک گئی تو ہماری سواریوں کی تعداد آدھی رہ گئی تھی۔ اب قیمت 180 پر چلی گئی ہے تو ظاہری بات ہے لوگ بھی یہی کہیں گے کہ حالات ہی ایسے ہیں جانا کدھر ہے؟‘

ریل کے کرایوں میں بھی اضافہ؟

پاکستان ریلوے کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے یہ ہوا کرتا تھا کہ کرایوں میں اضافے کی سمری ریلوے ہیڈ کوارٹر سے وزارت ریلوے جایا کرتی تھی کہ کرائے بڑھا دیں۔ اس مرتبہ 23 مئی کو سمری بھیجی گئی اور اس میں کرایوں میں پانچ فیصد اضافہ تجویز کیا گیا۔‘

ان کے مطابق: ’وزارت ریلوے سے ہیڈ کوارٹر کو جواب موصول ہوا کہ یہ آپ کا استحقاق ہے، آپ نے جو کرنا ہے وہ کر لیں، یعنی وزارت ریلوے کے یہ اختیارات ریلوے کے چیف ایگزیکٹو افسر کے پاس آ تو گئے لیکن پھر بھی انہیں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اجازت وزیر ریلوے سے لینی پڑے گی۔ اب انہوں نے ریل کے کرایوں میں 10 سے 20 فیصد اضافے کی سمری بنا کر وزیر ریلوے کو بھیجی ہوئی ہے اور جیسے ہی ان کی طرف سے جواب آئے گا تو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد 100 فیصد امکان ہے کہ ٹرینوں کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوگا اور اس میں پسنجر ٹرینوں اور مال بردار دونوں ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ ہوگا۔‘

 مذکورہ افسر کا کہنا تھا کہ ’ممکنہ طور پر وزیر ریلوے کی جانب سے سمری کا جواب پیر تک موصول ہو جائے گا۔ ‘

لاہور ماس ٹرانزٹ سروس

ادھر لاہور میں ماس ٹرانزٹ بس سروس کے کرایوں میں اضافے کی سمری کے حوالے سے میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات پر ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے سربراہ محمد عزیر شاہ کا کہنا ہے کہ ’چینلز پر جھوٹی خبریں چلائی گئیں۔ ابھی کرائے بڑھ نہیں رہے۔‘

 جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا؟ تو ان کا کہنا تھا: ’ابھی حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ نہ ابھی ہم نے حکومت سے کوئی رابطہ کیا ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت