کیا قدرت ماحولیاتی بحران کے خلاف ہماری بہترین ڈھال ہے؟

ماحولیات سے وابستہ اچانک آنے والی آفات مثلاً خشک سالی اور سیلاب سے گذشتہ دہائی میں تقریبا 4 لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس قسم کے خطرات کی وجہ سے مرنے والے 10 میں سے نو افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے تھا۔

قدرتی حل میں ماحولیاتی تبدیلی جیسے سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی نظام کا تحفظ، پائیدار انتظام، بحالی، انسانی فلاح و بہبود اور حیاتیاتی تنوع کو بھی فروغ دینا شامل ہے (تصویر: پیکسلز)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ماحولیات کا بحران موجود ہے۔ شمال مغربی بھارت اور پاکستان کے کچھ حصوں میں حال ہی میں ہیٹ ویو کے دوران درجہ حرارت ریکارڈ توڑ 51  ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر ہسپتالوں میں ایسے رجسرڈ واقعات کی تعداد 20 فیصد بڑھ گئی ہے جن کا تعلق گرمی سے ہے۔

بنگلہ دیش کے کچھ حصوں میں انسانی پیدا کردہ موسمیاتی تبدیلیاں سیلاب کا باعث بن رہی ہیں جس کی وجہ سے خوراک کی بڑی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

 بہت سے علاقے مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک اور 20 لاکھ سے زائد پھنس گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس ملک میں سیلاب کی وجہ سے 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا۔

آسٹریلیا میں 2020 میں آگ لگنے سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک یا دوسرے مقامات پر منتقل ہوئے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران ملک خشک سالی اور طوفانوں کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں شہریوں کے لیے باعث تشویش بن گئی ہیں۔ یہ ایک تشویشناک رجحان کی چند مثالیں ہیں۔

گذشتہ 20 برسوں کے دوران ماحولیات کے بحران سے وابستہ قدرتی آفات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ماحولیات سے وابستہ اچانک آنے والی آفات مثلاً خشک سالی اور سیلاب سے گذشتہ دہائی میں تقریبا 4 لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس قسم کے خطرات کی وجہ سے مرنے والے10 میں سے نو افراد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے تھا۔

سویڈش دارالحکومت میں ماحولیات کے بارے میں پہلی عالمی کانفرنس کے 50 سال مکمل ہونے پر سٹاک ہوم+50 کی تقریب منعقد کی گئی۔ سٹاک ہوم انوائرمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تحقیق میں یہ اخذ کیا گیا کہ دنیا بوائلنگ پوانٹ پر ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں عالمی سطح پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ماحول میں ریکارڈ توڑ سطح تک پہنچنے کے بعد ماحولیات سے وابستہ آفات کی تعداد اور شدت مزید  ابتر ہو جائے گی۔

شکر ہے کہ ہم ایسی کمیونٹیز کے درمیان ماحولیات کے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں جو اس کی وجہ سے زیادہ متاثر ہیں۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) اور ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح قدرتی حل کی اکثر نظر انداز کی جانے والی، لیکن تبدیلی لانے والی طاقت کو اجاگر کیا جائے۔

قدرتی حل میں ماحولیاتی تبدیلی جیسے سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی نظام کا تحفظ، پائیدار انتظام، بحالی، انسانی فلاح و بہبود اور حیاتیاتی تنوع کو بھی فروغ دینا شامل ہے۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس دنیا میں جہاں تین ارب سے زائد افراد ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کا انتہائی خطرہ ہے ان (قدرتی حل) سے ماحولیات اور موسم کے متعلق خطرات کی شدت میں حیرت انگیز طور پر 26 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح قدرتی حل ماحولیات اور موسم سے وابستہ آفات کے امکان کو کم کرکے زندگیاں بچا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جہاں کمیونٹیز ماحولیات کے بحران کے خطرات سے دوچار ہیں، مثال کے طور پر، اس طرح کے حل میں سیلابی میدان شامل ہیں، جو سیلاب کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔ جنگلات کی بحالی، جو لینڈ سلائیڈنگ کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ یا مینگرووز اور مرجان کی چٹانوں کی بحالی، طوفان سے بچا سکتے ہیں۔

قدرتی حل  ہوا سے کاربن کا اخراج اور  اسے ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں اور خوراک، ذریعہ معاش اور اہم رہائش گاہیں فراہم کر سکتے ہیں۔ وہ کمیونٹیز کو پانی کی فراہمی اور بہتر انسانی صحت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

امید افزا بات یہ ہے کہ اس تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ قدرتی حل سے ترقی پذیر ممالک کی معاشی بچت ہوسکتی ہے۔ 2030 میں کم از کم 104 ارب ڈالر (تقریبا 83 ارب پاؤنڈ) اور 2050 میں 393 ارب ڈالر (314 ارب پاؤنڈ)۔

ان ممالک کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو پہلے ہی قدرتی حل سے فوائد حاصل کر چکے ہیں۔

ان میں سے ایک جمیکا ہے جہاں مرجان کی چٹانیں ملک کی ساحلی پٹی کے لیے ایک اہم قدرتی دفاع ہیں جو ساحلی پر رہنے والی انسانی آبادیوں اور سیاحتی ہوٹلوں کو طوفانوں کی تباہ کن طاقت سے بچاتی ہیں۔

مرجان کی چٹانیں لہروں کی طاقت میں تخمینہ 75 فیصد کمی لاسکتی ہیں جس سے طوفانوں کے دوران ساحلی کٹاؤ اور سیلاب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

 دریں اثنا فرینگ، پیچ اور رکاوٹی چٹانیں جمیکا کے ساحل کے تقریبا 60 فیصد حصے کی حفاظت کرتے ہیں۔

یقیناً، کسی بھی آفت کے خطرے میں کمی کےلیے اٹھایا گیا اقدام اس وقت تک غیر مؤثر ہوگا جب تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی موجودہ سطح تیزی سے اور انتہائی کم نہیں ہو جاتی۔

مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پہلے ہی خطرے سے دو چار  کمزور کمیونٹیز کے لیے خطرہ مزید بڑھ جائے گا، آفات کے خطرے کو کم کرنے اور اپنے آپ کو بدلنے کی ان کی صلاحیت کم ہوجائے گی اور قدرتی حل کے اثرات کو کم کرے گا۔

  موسمیاتی تبدیلی اور فطرت کے نقصان کے درمیان باہمی انحصار کے ثبوت بہت زیادہ ہیں اور ہمارے پاس عمل کرنے کے لیے ایک راستہ ہے جو تیزی سے بند ہو رہا ہے۔

ہم سب یعنی حکومتوں، کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور صارفین کو کاربن نیوٹرل اور فطرت کے مثبت مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

مارکو لیمبرٹینی ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور جگن چاپنگن انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کے سیکریٹری جنرل ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ