کراچی: منگھوپیر کی ’ماحول دوست‘ ماربل فیکٹریاں

کراچی میں واقع ماربل فیکٹریاں ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے ایک منظم طریقے سے اپنے فضلے کو زمین برد کر رہی ہیں۔

کراچی میں منگھوپیر روڈ کے ساتھ قائم ایک مزدور پیشہ علاقے میں بجلی کی آریوں، کٹرز، گرائنڈرز اور سینڈنگ مشینوں کا ایک شوروغل ہے، جو اس علاقے میں کسی کو بھی بہرا کر دینے کے لیے کافی ہے۔

ایسی صورت حال میں کراچی کی ماربل فیکٹریوں نے ایک ماحول دوست قدم اٹھایا ہے، جس میں طے کیا گیا ہے کہ وہ گٹر یا ندی، نالوں میں گدلا پانی نہیں بہائیں گی اور ماحول سازگاربنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

14 سال سے منگھو پیر ماربل انڈسٹری سے منسلک سراج احمد کا تعلق ایک پشتون فیملی سے ہے اور وہ بطور مالک یہ فیکٹری گذشتہ سات سال سے چلا رہے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ماربل کے پتھر سے نکلنے والا گدلا پانی ندی، نالوں اور سیوریج کی لائنوں میں نہ گرانا ایک ایسا مرحلہ ہے، اور دعویٰ کیا کہ اس سے ہمارے ماحول پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

مزید پڑھیے: مہمند: سنگ مرمر کی کانوں کے تنازعے اور 'تاریخ پر تاریخ'

ان کا کہنا تھا: ’کراچی کی ہر ماربل فیکٹری میں گدلے پانی کے لیے نالیاں اورٹینکیاں بنائی گئی ہیں اور سارا گندا پانی نالیوں کے ذریعے ان ٹینکیوں میں بہایا جاتا ہے۔ یہ ٹینکیاں خالی کروانے کے لیے صفائی والے ٹینکرز آتے ہیں، جن کی ہم باقاعدہ الگ سے ادائیگیاں کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک ٹینکی سے تقریباً تین یا چار ٹینکر پاؤڈر نکلتا ہے، ٹینک صفائی کرنے والوں نے اس ملبے کو ڈالنے کے لیے ذاتی زمینیں خریدی ہوئی ہیں اور وہاں 100، 150 اور800 فٹ کھدائی کی گئی ہوتی ہے، جہاں سار املبہ ڈال دیا جاتا ہے۔

کراچی ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن کا موقف

فاؤنڈرآف آل کراچی ماربل انڈسٹری ایسوسی ایشن بدراقبال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کراچی میں ماربل انڈسٹری ایک منظم طریقے سے اپنے فضلے کو زمین برد کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’کراچی کےعلاقے منگھوپیر میں کم وبیش 550 ماربل کارخانے ہیں جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں بھی 550 چھوٹے بڑے شورومز اور فیکٹریاں قائم ہیں۔ ان فیکٹریوں کے ملبے کو ٹھکانے لگانے کے لیے کراچی کےعلاقے پاک کالونی اور منگھوپیر میں ڈمپنگ پوائنٹس بنائے گئے ہیں، جہاں ماربل کے فضلے کو ڈمپ کیا جاتا ہے۔ پھر ان مقامات سے ماربل پاؤڈرخشک ہونے کے بعد کراچی میونسپل کارپوریشن اور دیگرکنٹونمنٹ بورڈ کے ٹرک یہ خشک پاؤڈربھر کر لے جاتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے: ترکی کے کاریگر، راجستھان کا سنگ مرمر اور سوات کا سفید محل

انہوں نے مزید بتایا: ’ماربل کے خشک پاؤڈرکو کراچی میونسپل کارپوریشن اوردیگر کنٹونمنٹ ادارے صفائی کرنے اور چونے کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاؤڈر صابن، سرف اور دیگر کیمیکلز کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور دیگر صنعتوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ماربل کے فضلے سے دانہ اورکریش بنتا ہے جو کہ تعمیرات میں استعمال ہوتا ہے۔‘

ماربل کے یہ پتھر بلوچستان سے آتے ہیں، جن کی یہاں کٹائی اور تیاری ہوتی ہے اور پھر یہیں سے یہ پورے پاکستان میں سپلائی ہوتے ہیں۔ یہ مارکیٹ پاکستان کی ایک اہم مارکیٹ ہے اور منگھو پیر اس کا مرکز ہے۔

تاہم ماربل فیکٹری کے مالک سراج احمد کہتے ہیں کہ ان کی انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’بجلی کا یونٹ بہت مہنگا ہوچکا ہے۔ ماربل انڈسٹری پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔ جہاں یونٹ ہمیں 18 روپے ملتا تھا اب 22 اور 24 کے بجائے 38 روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات