ماحولیاتی بحران کی پاکستان کے لیے معاشی قیمت کیا؟

ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کی مشترکہ رپورٹ ’کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہے اور اس اضافے کے نتیجے میں معاشی اور سماجی نقصانات اٹھانے ہوں گے۔

کراچی میں 17 مئی کو شدید گرمی میں ایک شخص پانی سے خود کو ٹھنڈا کر رہا ہے (اے ایف پی)

ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں اگر درجہ حرارت ڈھائی سیلسیئس بڑھتا ہے تو موسمی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ 3.8 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا ہو گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک کی مشترکہ رپورٹ ’کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ زیادہ ہے اور اس اضافے کے نتیجے میں معاشی اور سماجی نقصانات اٹھانے ہوں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں عالمی اوسط سے کہیں زیادہ اضافہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اور ملک میں 2090 تک درجہ حرارت میں 1.3 سے 4.9 سیلسیئس تک بڑھ سکتا ہے۔‘

بیسویں صدی میں پاکستان کے درجہ حرارت میں 0.57 سیلسیئس کا اضافہ ہوا جو کہ جنوبی ایشیا میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کم تھا جہاں پر 0.75 سلیسیئس کا اضافہ ہوا۔ لیکن 1961 اور 2007 کے درمیان درجہ حرارت میں اضافہ تیزی سے ہوا اور اس عرصے میں 0.47 سیلسیئس کا اضافہ ہوا۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرمی میں اضافہ موسم سرما اور مون سون کے بعد کے مہینوں میں زیادہ ہوا ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں موسم سرما کے درجہ حرارت میں 0.91 سے 1.12 سیلسیئس کا اضافہ ہوا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں 0.52 سیلسیئس کا اضافہ ہوا۔

’کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ افات کا سامنا ہے اور اسی لیے 191 ممالک میں سے رسک کے حساب سے پاکستان اٹھارہویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کو سیلابوں کا بھی سامنا ہے اور سیلابوں کے حوالے سے اس کا نمبر آٹھواں ہے، خشک سالی میں پاکستان کا نمبر 43 واں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1900 سے 2020 تک زلزلوں کے 35 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے، 74 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ ملک کو ساڑھے 53 لاکھ  ڈالر کا نقصان ہوا۔

اسی طرح شدید درجہ حرارت یعنی سخت سردی اور ہیٹ ویو کو ملا کر 18 واقعات پیش آئے جن میں تقریباً تین ہزار افراد جان سے گئے جبکہ 80 ہزار افراد متاثر ہوئے اور اس شدید درجہ حرارت کے باعث ملک کو 18 ہزار ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری طرف سیلابوں کے باعث اٹھ کروڑ افراد متاثر ہوئے جبکہ سوا دو کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔

پاکستان اور بھارت میں گذشتہ ایک دو ماہ میں جو درجہ حرارت رہا ہے اس نے تمام قومی اور عالمی ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ پاکستان میں مارچ 1961 کے بعد سے سب سے زیادہ گرم ترین مہینہ رہا ہے جبکہ بھارت کے جنوب مغرب اور وسط بھارت میں اپریل ایک صدی میں سب سے گرم ترین اپریل کا مہینہ رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد میں چند دن قبل ہی درجہ حرارت 49 ڈگری تک پہنچ گیا۔ جیکب آباد وہی شہر ہے جس کے بارے میں گذشتہ سال ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ شہر ’انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے۔‘

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری کا اضافہ ہو جاتا ہے تو پاکستان میں کراچی اور بھارت میں کلکتہ جیسے شہر 2015 جیسی گرمی ہر سال دیکھیں گے۔  پاکستان میں 2015 میں آنے والی شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں 1200 سے زائد افراد چل بسے تھے۔ اسی طرح 2010 کے بعد سے بھارت میں بھی 6500 سے زیادہ افراد ہیٹ ویو کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاہم امریکی تنظیم برائے ماحولیات برکلے ارتھ کے تجزیے کے مطابق بھارت اور پاکستان میں اس صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں ساڑھے تین ڈگری سیلسیئس کا اضافہ ہو چکا ہو گا۔

سوئٹزلینڈ کی عالمی تنظیم سوئس رے انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اگر درجہ حرارت اسی طرح بڑھتا رہا تو 2050 تک عالمی جی ڈی پی میں 10 فیصد کمی واقع ہو گی۔ تاہم اگر درجہ حرارت میں 3.2 ڈگری سیلسیئس تک کا اضافہ ہوتا ہے تو عالمی سطح پر جی ڈی پی میں 18 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

عالمی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق موسمی تبدیلی سے ہر معاشرہ، ہر کمپنی اور ہر فرد متاثر ہو گا۔ 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب تک پہنچ جائے گی اور اس لیے ضروری ہے کہ موسمی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔

دنیا میں تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے اور موسمی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ چند ہی دہائیوں قبل جس دنیا میں ہم رہ رہے تھے اس وقت ہم اس سے کافی مختلف دنیا میں رہ رہے ہیں۔ موسمی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہونے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور ایک بار جب یہ اثرات نمایاں ہونے شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ دیر ہو چکی ہے۔

ماحولیات پر تحقیق کرنے والے پروفیسر ڈین بلسٹین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی بوتل کے جن کی مانند ہے کہ ایک بار باہر آ گیا تو واپس بوتل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آج ہی سے پوری دنیا میں کاربن کے اخراج کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے تب بھی جو کاربن پہلے ہی ہمارے ماحول میں ہے اس کے اثرات کافی سالوں تک رہیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس وقت زیادہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور سائنس بھی۔ مسئلہ سائنس کے نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے قوت ارادی کی کمی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ