سدھو موسے والا قتل کیس: ’ہتھیار پاکستان سے ڈرون پر بھیجے گئے‘

بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سدھو موسے والا کے قتل کے لیے ہتھیار پاکستان سے بھیجے گئے تھے، جس پر پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’متعلقہ حکام سے اس بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘

30 مئی 2022 کی اس تصویر میں امرتسر میں بھارتی نوجوان پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے بعد ان کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شریک ہیں(اے ایف پی)

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے پولیس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ ماہ بھارتی پنجاب میں گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے لیے ہتھیار پاکستان سے بذریعہ ڈرون بھیجے گئے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بھارتی اخبار کے ان الزامات کے حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے، جس پر ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تاہم مختصر جواب میں بتایا گیا کہ ’متعلقہ حکام سے اس بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔‘

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کے مبینہ مرکزی شوٹر پریورت عرف فوزی کو ڈرون کے ذریعے پاکستان سے ہتھیاروں کی کھیپ بھیجی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت اکثر ڈرونز، غباروں اور کبوتر کے ذریعے ایک دوسرے پر سرحد کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بھارتی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’اس کھیپ میں آٹھ دستی بم، ایک انڈر بیرل گرنیڈ لانچر، نو الیکٹرک ڈیٹونیٹرز اور ایک اے کے 47 شامل تھے۔ یہ ہتھیار اس قتل میں ناکامی پر ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے رکھے گئے تھے،‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ اگر یہ ہتھیار بھیجے گئے ہیں تو آیا یہ وزن ایک وقت میں مبینہ طور پر سرحد پار کیا گیا یا مختلف پروازوں میں۔ 

سدھو موسے والا کے قتل میں گجرات سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان کی گرفتاری کے بعد دہلی پولیس کے سپیشل سیل نے بتایا ہے کہ گذشتہ ماہ واقعے کے وقت ایک ملزم کینیڈا میں مقیم گینگسٹر گولڈی برار کے ساتھ رابطے میں تھا۔

مزید پڑھیے: سدھو موسے والا کے مبینہ قاتل گولڈی برار کون؟

سپیشل کمشنر پولیس ایچ جی ایس ڈھلیوال نے اتوار کو بھارتی ریاست گجرات کے علاقے کچھ سے گرفتار ہونے والے ملزمان میں 26 سالہ پریورت کی شناخت مبینہ ’مرکزی شوٹر اور گروہ کے سربراہ‘ کے طور پر کی، جس نے موسے والا کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق واقعے کے بعد پریورت نے گولڈی برار کو پیغام بھیجا کہ ’کام ہو گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پریورت کا 24 سالہ ساتھی کاشیش مبینہ طور پر’دوسرا شوٹر‘ تھا، جبکہ گرفتار ہونے والے تیسرے ملزم کیشو کمار نے مبینہ طور پر قتل کے بعد فائرنگ کرنے والوں کو ٹھکانہ فراہم کیا تھا۔

آن لائن بھارتی اخبار ’سکرول ڈاٹ اِن‘ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ پریورت اس سے قبل 2015 اور 2021 میں قتل کے دو دیگر مقدمات میں ملوث تھا، جبکہ جھاجر کا رہائشی کاشیش قتل کے ایک اور مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔

 پولیس نے بتایا کہ کیشو کا بھی مجرمانہ ریکارڈ ہے، جس میں 2020 میں قتل کے ایک مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث ہونا بھی شامل ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق ملزمان کو اتوار کی صبح کچھ میں مندرا بندرگاہ کے قریب کرائے کے اپارٹمنٹ پر پولیس چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا، جہاں وہ چھپے ہوئے تھے۔

ملزمان کی گرفتاری پر گجرات پولیس کا کہنا تھا کہ دہلی پولیس کی ٹیم نے تینوں ملزمان کو باروئی گاؤں سے گرفتار کیا جبکہ مندرا کے پولیس انسپکٹر ہردیک تریویدی نے بتایا کہ ملزمان تقریباً ایک ہفتہ قبل کام کی تلاش میں مندرا آئے تھے اور باروئی میں کرائے پر ایک کمرہ لیا تھا۔

دہلی پولیس کا سپیشل سیل موسے والا قتل کے سلسلے میں جیل میں قید گینگسٹرلارنس بشنوئی، کالا رانا اور کالا جتھیڈی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے اور اس نے اب تک ’چھ شوٹرز‘ کی شناخت کر لی ہے۔

پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے اس معاملے میں گینگ کے کل 16 ارکان اور کئی سرغنوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو 29 مئی کو بھارتی پنجاب کے ضلع مانسا میں ان کے گاؤں میں حملہ آوروں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد گولڈی برار اور بشنوئی نے سوشل میڈیا پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گولڈی برار اور بشنوئی نے اکالی دل کے رہنما وکی مدوکھیرا کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اس قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: سدھو موسے والا: ’میں یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا ‘

دونوں گینگسٹرز کو مبینہ طور پر شبہ تھا کہ موسے والا اور ان کے مینیجر نے حملہ آوروں کی مدد کی تھی، جنہوں نے مدوکھیرا کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق موسے والا قتل میں فائرنگ کرنے والے افراد کو جائے وقوعہ کے قریب پیٹرول پمپ سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا اور انہیں واقعے سے عین پہلے فتح گڑھ میں دیکھا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق: ’قتل کی منصوبہ بندی اچھی طرح سے کی گئی تھی۔ ان افراد نے قتل سے پہلے کے ہفتوں میں تقریباً نو دس بار ریکی کی تھی۔ وہ موسے والا کی نقل و حرکت کو نوٹ کرنے کے لیے مختلف راستوں پر گھومتے تھے۔ انہیں ان کے حفاظتی انتظامات کا علم نہیں تھا اور وہ ان کے اکیلے ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔‘

’ان کا مقصد موسے والا کو قتل کرنا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے ریزرو میں گرینیڈ لانچر رکھے تھے اور دستی بم پھینکنے کے لیے بھی تیار تھے۔ تاہم موسے والا فائرنگ کے چند منٹوں کے اندر ہی ہلاک ہو گئے اور اضافی ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے۔‘

رپورٹ کے مطابق پولیس کو یہ بھی پتہ چلا کہ ملزمان نے اپنے آپ کو پنجاب پولیس کے افسران ظاہر کرنے کے لیے وردیاں خریدی تھیں لیکن انہوں نے ان کا استعمال نہیں کیا اور اس کی بجائے ماسک پہننے کا فیصلہ کیا۔

پولیس کمشنر ڈھلیوال کا کہنا تھا: ’سپیشل سیل کی تمام ٹیموں نے سینڈیکیٹ ممبران کا سراغ لگانے کے لیے 24 گھنٹے کام کیا۔ ہم نے فائرنگ کرنے والوں میں سے چھ کی شناخت کر لی ہے۔‘

’اس قتل میں دو گروہ ملوث تھے۔ ایک بولرو کار میں تھا، جسے کاشیش چلا رہا تھا۔ دیگر کرولا کار میں تھے جس میں حملہ آور جگدیپ روپا اور منپریت منو سفر کر رہے تھے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ :’بولرو میں پریورت اور مبینہ ملزم انکیت سرسا اور دیپک منڈے پچھلی نشست پر تھے۔‘

 پولیس کے مطابق منو نے مبینہ طور پر موسے والا کی گاڑی پر کرولا سے فائر کیا۔ اس سے گلوکار کی گاڑی رک گئی۔ پھر دوسری طرف سے بولرو میں سے فائرنگ کرنے والوں نے گلوکار پر گولیاں برسا دیں۔ بعد میں یہ افراد ایک آلٹو میں مختلف ٹھکانوں کے لیے روانہ ہو گئے۔

پولیس کے مطابق انہیں اتوار کو ہونے والی گرفتاری کے بعد ہریانہ کے شہر حصار میں مارے گئے چھاپوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود ملا، جس میں آٹھ دستی بم، نو الیکٹرک ڈیٹونیٹرز، ایک رائفل، تین پستول اور ایک گرنیڈ لانچر شامل ہیں۔

اس سے قبل آٹھ جون کو سپیشل سیل نے مہاراشٹر پولیس کے ساتھ مل کر پنجاب سے سدھیش کامبل نامی ایک اور شخص کو گرفتار کیا تھا، جو مبینہ طور پر واقعے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا