پاکستان ویمن فٹبال کی کپتان کا تیسرا عالمی ریکارڈ

ہاجرہ خان نے یہ کارنامہ فرانس میں ایکول پلیئنگ فیلڈ فیسٹیول آف فٹ بال میں 69 گھنٹے تک کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سرانجام دیا۔

ہاجرہ خان  بحر مردار کے ساحل پر سمندر کی سطح سے 420 میٹر نیچے کھیل کرپہلے ہی ایکعالمی ریکارڈقائم کر چکی ہیں(ٹوئٹر)

پاکستان ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان ہاجرہ خان نے مسلسل تیسری بار گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا۔

ہاجرہ نے یہ کارنامہ فرانس میں ایکول پلیئنگ فیلڈ فیسٹیول آف فٹ بال 2019 میں 69 گھنٹے تک کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سرانجام دیا۔

پانچ روزہ فیسٹیول میں ہاجرہ کے ہمراہ پاکستانی خاتون فٹبالرز ابیہا حیدر، خدیجہ کاظمی اور صبا داؤد لاکھو نے بھی حصہ لیا۔ البتہ اس میچ میں مسلسل چار گھنٹوں تک کھیل کر چھ گول سکور کرنے والی ہاجرہ خان واحد پاکستانی فٹبالر تھیں۔

فرانس میں فیفا ویمن ورلڈ کپ 2019 کے دوران پانچ روز تک کھیلے جانے والے فیسٹیول میں مسلسل 69 گھنٹوں تک فائیو اے سائیڈ میچ کھیلا گیا۔

میچ میں دوعالمی ریکارڈ قائم بنے۔ 1) اب تک کسی بھی فائیو اے سائیڈ میچ میں سب سے زیادہ کھلاڑیوں کے کھیلنے کا عالمی ریکارڈ اور 2) ایک میچ میں سب سے زیادہ ملکوں کے کھلاڑی شامل ہونے کا ریکارڈ۔

میچ میں کل تین ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ مسلسل پانچ دن تک فیلڈ پر بیک وقت 807 کھلاڑیوں نے کھیل کر 2016 میں چائل میں بنائے گئے 677 کھلاڑیوں کے ریکارڈ کو توڑا۔

میچ میں کُل 51 ملکوں کی خواتین فٹبالرز نے حصہ لیا، جن میں پاکستان کی ٹیم بھی شامل تھی۔

ایکول پلیئنگ فیلڈ ایک سماجی تنظیم ہے جس کی شروعات 2012 میں ہوئی۔ اس وقت پروگرام کا نام ’رگبی لیگ اگینسٹ وائلنس‘ تھا، جسے 2015 میں تبدیل کر کے ’ایکول پلینگ فیلڈ‘ رکھ دیا گیا۔

پروگرام کا مقصد صنفی مساوات کے ذریعے خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام ہے اور مختلف کھیلوں کے ذریعے دنیا بھر سے خواتین کو مواقع فراہم کرنا ہے۔

ہاجرہ اس سے قبل اردن کے بحر مردار کے ساحل پر سمندر کی سطح سے 420 میٹر نیچے کھیل کر دنیا کی سب سے کم اونچائی والا فٹ بال میچ کھیلنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر چکی ہیں۔

ہاجرہ بچپن سے ہی کھیلوں کی شوقین رہی ہیں البتہ وہ بڑے ہو کر فٹبالر نہیں بلکہ پروفیشنل ایتھلیٹ بننا چاہتی تھیں۔14 سال کی عمر میں انہوں نے ڈارکنگ وانڈررز اکیڈمی کے لیے اپنا پہلا فٹبال میچ کھیلتے ہوئے نو گول کر کے سب سے ذیادہ سکور  کرنے کا اعزاز حاصل کرتے ہوئے سب کو حیران کردیا۔

انہوں نے 2009 میں پانچویں نیشنل فٹبال چیمپئن شپ میں ٹاپ سکورر ایوارڈ اور چھٹی نیشنل فٹبال چیمپئن شپ میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

انہیں صرف 18 سال کی عمر میں مسلسل پانچ نیشنل چیمپئن شپس میں نیشنل ایوارڈ جیتنے والی واحد پاکستانی خاتون فٹبالر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

2009 میں ہاجرہ پاکستان ویمن فٹبال ٹیم کا حصہ بنیں، جس کے بعد بہترین کارکردگی کی بنا پر 2010 میں ڈھاکہ میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے نیشنل ٹیم میں ان کا انتخاب کیا گیا۔ ہاجرہ کو اسی سال پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے کولمبو میں فیفا ویمن فٹبال کوچنگ کورس کے لیے منتخب کیا۔

صرف چھ سال کے عرصے میں اپنی اسٹرائیکنگ کی صلاحیت اور لاجواب کارکردگی کی بنا پر 20 سال کی عمر میں ہاجرہ کو پاکستان فٹبال ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

21 سال کی عمر میں ہاجرہ پہلی پاکستانی خاتون فٹبالر تھیں جنہیں ٹاپ تین جرمن فٹبال کلبز نے کھیلنے کے لیے مدعو کیا اور وہ پہلی پاکستانی فٹبالر ہیں جنہوں نے 2014میں انٹرنیشنل کانٹریکٹ پر دستخط کرکے مالدیپ میں نیشنل ویمن لیگ بھی کھیلی۔

 پاکستان ویمن فٹبال ٹیم نے اپنا آخری میچ 2014 میں اسلام آباد میں ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن ویمن چیمپئن شپ میں کھیلا لیکن بد قسمتی سے اس کے بعد پی ایف ایف نے خواتین کے کھیل کو ترجیح نہیں دی۔ پچھلے پانچ سال سے خواتین کی قومی فٹبال ٹیم نے ایک بھی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیلا۔

یہاں تک کہ پورے سال میں صرف ایک بار ایک ہفتے کے لیے ویمن فٹبال نیشنل چیمپئن شپ کے بنیادی ڈھانچے میں بھی کوئی مثبت تبدیلی نہیں کی گئی۔ پی ایف ایف آج بھی دس سال پرانے طریقے پر چلتی ہے۔

پاکستان میں آج بھی پی ایف ایف کا دوہرا معیار ہے۔ مرد فٹبالرز کو ناصرف بہتر فیلڈ، مواقع بلکہ دو گناہ ذیادہ اجرت  دی جاتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جس کی خواتین فٹبال ٹیم کی کپتان صرف پچیس سال کی عمر میں تین عالمی ریکارڈ بنا چکی ہے اس ٹیم کا فرانس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2019 میں نہ کھیلنا انتہائی افسوس ناک ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال