بادشاہ بیگم: ’فرسودہ رسومات کی نشاندہی کرتی کہانی‘

ڈارمے کی کہانی ایک مکمل کہانی ہے جو شائقین کو اپنی انفرادیت اور تجسس کی بنا پر سحر میں گرفتار رکھتی ہے۔

’بادشاہ بیگم‘ کے ہدایت کار خضر ادریس ہیں جبکہ اسے سجی گل نے لکھا ہے (تصویر بشکریہ گلیکسی لولی وڈ)

پاکستانی ڈراما شائقین کو روایتی طرز کے ڈراموں یعنی گھریلو سیاست سے ہٹ کر جب بھی کچھ مختلف دیکھنے کو ملتا ہے تو وہ اسے دیکھتے بھی ہیں اور سراہتے بھی ہیں۔

یہ الگ بات کہ ڈراما شائقین کو کچھ نیا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ نئے پن کا ایک پہلو کراچی سے باہر نکلنا بھی ہے۔

وہی مخصوص سڑکیں، وہی شاپنگ مالز، ایک ہی پارک، کراچی کا ایک نیا انڈر پاس اور تین تلوار چوک نے کراچی کے چند مخصوص اداکاروں کی طرح پوری پاکستانی ڈراما انڈسٹری پر سالہا سال راج کیا ہے۔

اب خدا خدا کر کہ جیسے ہی باہر نکلے ہیں ویسے ہی ڈراموں میں نہ صرف جدت آ رہی ہے بلکہ ڈراموں سے مایوس ناظرین نے بھی ڈراموں میں دوبارہ دلچسپی لینی شروع کی ہے۔

پری زاد، ثبات، لاحاصل، سنگ ماہ اور بادشاہ بیگم جیسے ڈراموں کے اس قدرسراہے جانے کی بھی یہی وجوہات ہیں۔

ایک تو ان ڈراموں کی کہانیاں جان دار ہیں، دوسرے ان ڈراموں میں پاکستان کے مختلف شہروں کے خوبصورت مناظر دکھائے گئے ہیں، اور پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت کی بخوبی ترجمانی کی گئی ہے۔

ظاہر ہے کہ جب مضبوط کہانی، دلکش مناظر کے ساتھ مختلف ثقافت اور کرداروں کے گرد گھومتا کوئی بھی ڈراما منظرعام پر آتا ہے تو اس کو خوب پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

خضر ادریس کی بہترین ہدایت کاری، سجی گل کے قلم کا شاہکار، رافع رشدی اور مومنہ درید، ایم ڈی پروڈکشنز کے بینر تلے بنے والا ’بادشاہ بیگم‘ بھی ایک ایسا ہی ڈراما ہے جس کی نہ صرف کہانی میں جان ہے بلکہ اس ڈرامے کے توسط سے ہمارے دیہی علاقوں کی کچھ فرسودہ رسومات کی بخوبی نشاندہی کی گئی ہے کہ کیسے ایک عورت کو ساری عمر ایک عام زندگی سے دور رکھ کر لوگوں پر حکمرانی کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

اس طرح نہ صرف اس کی اپنی زندگی نارمل نہیں رہتی بلکہ اس کے اندر کی محرومیاں اس کو خود بھی ایک ظالم اور جابرانسان بنا دیتی ہیں اور اس کے ساتھ جڑی بہت سی عورتوں کوبھی تمام عمر اس کے ساتھ غلامی کی زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

یہ تمام خواتین نہ شادی کر سکتی ہیں نہ اپنےعلاقے سے باہر جا سکتی ہیں اور زیادہ تر حویلی کے اندر ہی رہتی ہیں۔

اس طرح کی زندگی گزارتے ہوئے ان کی نفسیات بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بادشاہ بیگم بننے والی خواتین میں نہ صرف حکمرانی اور بادشاہت کا نشہ سر چڑ کر بولتا ہے بلکہ یہ نشہ ان سے مختلف اقسام کے مظالم کروا کر انسانیت کو بھی فراموش کروا دیتا ہے۔

پرانی ’بادشاہ بیگم‘ حاکم بی بھی ظلم کی ایک ایسی ہی چلتی پھرتی تصویر دکھائی گئی ہیں، مگر ڈرامے میں شہر میں رہنے والی پڑھی لکھی لڑکی جس کا کردار زارا نورعباس بخوبی نبھا رہی ہیں جب اپنے آبائی علاقے میں آ کر بادشاہ بیگم بنتی ہیں تو کچھ پرانی روایات کو بدلنے کی کوشش کرتی ہیں اور ایسا کرنے کے لیے انہیں کسی حد تک خود بھی اس رنگ میں ڈھلنا پڑھتا ہے۔

ںظام بدلنے کی کوشش وہ اکیلی نہیں بلکہ اپنے باپ شاہ عالم کی حمایت اور بھائی کے ساتھ مل کر کرنے کی ٹھانتی ہیں۔

آکسفوڑ سے پڑھا وہ بھائی جسے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے والد گدی نواز دیتے ہیں۔ گدی کے نشے نے چچا اور تایا زاد بھائیوں کو کیا، ایک ہی باپ سے دو سگے بھائیوں کو بھی بدظن کر دیا۔ چچا زاد شاہ زیب اور تایا زاد کے منفی کردارمیں یاسر حسین ہیں۔

یاسر حسین کے حلیے سے ان کے ہاتھوں لکھی جانے والی ظلم کی داستانیں ان کے کردار کو ایک مکمل منفی کردار بناتی ہیں، جبکہ یاسر کی اداکاری بھِی اس بات کہ گواہ ہے کہ یہ کردار یاسر سے بہتر اور کوئی نہیں نبھا سکتا تھا۔

شاہ عالم اصل گدی نشین کے دو بیویوں سے پانچ بچے ہیں جن میں سے آبائی علاقے میں رہنے والی بیوی سے دو جبکہ من پسند شہری بیوی سے تین بچے ہیں، جنہیں شاہ عالم نے شہرہی میں رکھا اورتعلیم دلوا کر منفرد منوایا، جب کہ دو بیٹے شاہ زیب اورمراد پیراں پور میں ہی پلے بڑے ہیں۔

ڈرامے کی اب تک کی اقساط میں بادشاہ بیگم کا سگا بھائی شامیر شاہ گدی سے بھاگ رہا ہے کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ اس کا سوتیلا بھائی گدی کا اصل حق دار ہے، جو اسی علاقے ’پیراں پور‘ میں گدی نشینی کے خواب دیکھتے ہوئے پلا بڑا ہے۔

اس سوتیلے بھائی کا کردار نبھا رہے ہیں فرحان سیعد جو رومینٹک کامیڈی کرداروں میں تو خود کو منوا چکے ہیں مگراب ایک گدی نشین وڈیرے کے بڑے بیٹے کے کردار میں بھی خوب جچ رہے ہیں۔

فرحان کی مکالموں کی ادائیگی سے لے کر باڈی لینگوئج اور چہرے کے تاثرات سب یکجا ہو کر اس کردار کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے بیٹے مراد کو جاگیردار کے ایک بگڑے ہوئے بیٹے کے طور پر دیکھا جا سکتاہے۔

خیر گدی پر کون بیٹھتا ہے اور بادشاہ بیگم اوران کے گدی نشین بھائی کس حد تک نظام کو بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کا ادراک تو ڈراما کے اختتام پزیرہونے تک حاصل ہو ہی جائے گا۔

مگر چند عناصر نے اس ڈرامے کو تمام تر لاوازمات اور رنگوں کے ساتھ ایک مکمل، منفرد اور قابل ستائش کہانی بنایا ہے۔

ان میں سرفہرست تو ڈرامے اور کردارں کا ایک خود ساختہ شاہی مزاج ہے۔ تجسس اور دیوانہ پن، کرسی کا ہو یا عشق کا، کہانی کو مضبوط کرتا ہے۔

البتہ بہت سی عام کہانیوں کی طرح دو بہنوں، جہاں آرا اور روشن آرا کے مابین کی چپقلش بھی دکھائی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ ان کا شہری کالج فیلو بختیار ہے۔

وہ محبت تو بڑی بہن جہاں آرا یعنی پیراں پور کی بادشاہ بیگم سے کرتا ہے مگر اپنے پیچھے پاگل چھوٹی بہن روشن آرا کی نادانیوں اور چالاکیوں سے بچنے میں تاحال ناکام ہے۔

خیر یہ ایک حیران کن بات ہے کہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خوبصورت دوشیزایں جنھیں شادی اور محبت کا حق حاصل نہیں مگر پھر بھی ایک ہی عام سے شخص کی عشق میں گرفتار ہیں۔

چلیں مان لیا کہ محبت اندھی ہوتی ہے اور ہو گی جہاں آرا کو بھی بختیار سے، جس کا کردار ادا کر رہے ہیں، علی رحمان، بظاہر سادہ اورحقیقت میں بہت سمجھ دار بڑی بہن ہونے کے ناطے جہاں آرا بہت سی چیزوں کو نہ صرف بہتر سمجھتی ہے بلکہ چھوٹی بہن کو بھِی بارہا سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈرامے میں معاشرے میں خاموشی سے پنپنے والی اس دکھتی رگ پر بھِی ہاتھ رکھا گیا ہے جہاں اکثر چھوٹی بہینں بڑی بہنوں کو غلط سمجھتی ہیں، جبکہ درحقیقت وہ ان کی خیرخواہ ہوتی ہیں۔

ڈراما معاشرے سے ہی نکلتا ہے اور واپس معاشرے میں ہی ضم ہوتا ہے۔ اب یہ بہنوں کے درمیان کی غلط فہمی ہو، بھائیوں کی رنجش یا والدین کے اچھے برے تعلقات کا بچوں پر براہ راست اثر۔

شاہ عالم کے اپنی پہلی بیوی سے تعلقات بالکل اچھے نہیں تھے اور ان کے دونوں بیٹوں پر ان کی آپس میں دوری کا اثر دیکھا جا سکتا ہے جبکہ باقی تین بچے دوسری بیوی کے ساتھ خوشگوار ازدواجی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

 ڈرامے میں ایک بے حد خوبصورت پہلو باپ بیٹی کی لازوال محبت، اعتماد کا ساتھ بھی ہے، جن کو ہر مشکل وقت میں سب سے زیادہ ایک دوسرے کا خیر خواہ دکھایا گیا ہے۔

چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالنے سے لے کر پاور پولیٹکس تک باپ بیٹی کا ساتھ ایک الگ تاریخ رقم کر رہا ہے۔

’بادشاہ بیگم‘ بہرحال ایک ایسی مکمل کہانی ہے جو شائقین کو اپنی انفرادیت اور تجسس کی بنا پر سحر میں گرفتار رکھتی ہے۔ کچھ شائقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ڈراما نیٹ فلکس پر بھی ہونا چاہیے تاکہ پاکستانی ڈراما انڈسٹری ایک بار پھر سے اس جدید دور میں شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچے جس کی ہمیشہ سے حق دار رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی