معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر ٹوئٹر کا ایلون مسک پر مقدمہ

ایلون مسک کے ٹوئٹر کو خریدنے کے 44 ارب ڈالر کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے بعد ٹوئٹر نے ریاست ڈیلاویئر کی ایک عدالت میں ان پر مقدمہ کر دیا۔

14 اپریل، 2022 کو واشنگٹن میں کھینچی گئی اس تصویر کے پس منظر میں مسک کا فوٹو جبکہ اس کے سامنے فون پر ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)

ٹوئٹر نے منگل کو ایلون مسک پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم خریدنے کے لیے 44 ارب ڈالرز کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے ڈیلاویئر کی عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص کو 54.20 ڈالر فی ٹوئٹر شیئر کے حساب سے انضمام مکمل کرنے کا حکم دے۔

روئٹرز کے مطابق 62  صفحات پر مشتمل شکایت میں کہا گیا کہ ’مسک کو بظاہر یقین ہے کہ وہ، ڈیلاویئر کنٹریکٹ قانون کے تابع ہر دوسری پارٹی کے برعکس، اپنا ذہن بدلنے، کمپنی کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے، اس کے کاموں میں خلل ڈالنے، سٹاک ہولڈر کی قیمت کو تباہ کرنے اور وہاں سے جانے کے لیے آزاد ہیں۔‘

یہ مقدمہ وال سٹریٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی قانونی چارہ جوئی بن سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسک نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ معاہدہ ختم کر رہے ہیں کیونکہ ٹوئٹر نے پلیٹ فارم پر جعلی یا سپیم اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات کی درخواستوں کا جواب دینے میں ناکام ہو کر معاہدے کی خلاف ورزی کی، جو اس کی کاروباری کارکردگی کے لیے بنیادی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کمپنی نے کئی سالوں سے اپنی ریگولیٹری فائلنگ میں کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ پلیٹ فارم پر تقریباً پانچ فیصد اکاؤنٹس جعلی ہیں۔

مسک یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو اعلیٰ مینیجرز کو نہ صرف برطرف کیا بلکہ اپنی ٹیلنٹ کے حصول کی ٹیم کا ایک تہائی حصہ نکال دیا۔

الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مسک نے مقدمہ دائر ہونے کے فوری بعد تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

تاہم انہوں نے اس پیش رفت کے بعد ٹوئٹر پر بغیر کسی وضاحت کے مختصراً لکھا ’اوہ کیا ستم زرفی ہے۔‘

قانونی چارہ جوئی میں مسک پر انضمام کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی ’ایک لمبی فہرست‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔

کمپنی نے پہلی بار بتایا کہ معاہدے کے اعلان کے بعد سے ملازمین کی چھٹیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹوئٹر نے مسک پر جنوری اور مارچ کے درمیان ریگولیٹرز کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کمپنی میں ’خفیہ طور پر‘ حصص جمع کرنے کا بھی الزام لگایا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے حصص منگل کو 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ 34.06 ڈالر پر بند ہوئے، جو 50 ڈالر سے اوپر کی اس سطح سے نیچے ہے جب ٹوئٹر کے بورڈ نے اپریل کے آخر میں اس معاہدے کو قبول کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی