دو بڑے زلزلوں کے بعد کیلی فورنیا میں مزید جھٹکوں کا امکان

ماہرین ارضیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں 30 ہزار آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔

5  جولائی کوریجکریسٹ شہر کے قریب زلزلے کے بعد ایک دکان میں سامان  گرا ہوا ہے (اے ایف پی)

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں گذشتہ 48 گھنٹوں میں دو بڑے زلزلوں کے بعد ماہرین ارضیات نےانتباہ جاری کیا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں 30 ہزار آفٹر شاکس آ سکتے ہیں۔

کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی لوسی جونز کے مطابق زلزلے کے یہ جھٹکے اس علاقے کو کئی مہینوں تک متاثر کر سکتے ہیں۔

ان کے ساتھی ماہر ارضیات ایگل ہاکسن نے کہا کہ اگلے چھ ماہ کے دوران زلزلے کے ان جھٹکوں کی تعداد 30 ہزار تک جا سکتی ہے جبکہ ایک یا دو سے زیادہ زلزلے ریکٹر سکیل پر چھ کی حد بھی عبور کر سکتے ہیں۔

یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق صرف اگلے ہفتے کے دوران میگنیٹیوڈ  تین کے  190 تک  زلزلے آ سکتے ہیں، جبکہ ایک ایسے زلزلے کا 12 فیصد امکان ہے جس کی شدد چھ تک ہو سکتی ہے۔   

 میگنیٹیوڈ  تین کے زلزلے اپنی شدت کے حوالے سے اتنے ہوتے ہیں جو آسانی سے محسوس کیے جا سکیں جبکہ میگنیٹیوڈ  چار کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگلے ماہ میں مزید زلزلوں کے امکان پر اظہار تشویش  کرتے ہوئے کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم  نے کہا :’ یہ ہماری ریاست اور پوری قوم کے لیے خبردار ہو جانے کا موقع ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو اس بارے میں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیئے کہ زلزلے کی صورت میں انہیں کیا کرنا ہوگا۔

جمعے کی شام آنے والا زلزلہ کیلی فورنیا میں گذشتہ 20 سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ تھا۔ اس زلزلے کا مرکز ریجیکریسٹ سے گیا رہ میل دور تھا۔ 28 ہزار آبادی کا یہ قصبہ جمعرات کو 6.4 شدت کے زلزلے کا نشانہ بھی بنا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ زلزلہ کیلی فورنیا کے دارالحکومت سیکرامینٹو سمیت لاس ویگاس اور لاس اینجلس کے شہروں کے علاوہ میکسکو میں بھی محسوس کیا گیا۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ سے ہی اس علاقے میں زلزلے کے ہلکے جھٹکے محسوس کیے جا رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں عمارتوں اور سڑکوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ ریل ٹریک ٹوٹنے کے ساتھ گیس اور پانی کے پائپ پھٹ گئے تھے۔ جس کے بعد چائنا لیک میں واقع امریکی بحریہ کے سب سے بڑے زمینی مرکز نیول ائیر ویپن سٹیشن کو خالی کر دیا گیا تھا۔

گیس پائپ پھٹنے سے کچھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات تھیں۔ پانی کے پائپ لیک ہونے سے گھروں کے تہے خانوں میں پانی بھر گیا۔ زلزلے کے بعد موہاوی صحرہ میں شگاف بھی دیکھے گئے۔

ریجیکریسٹ کی مقامی پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق زلزلے کے بعد ایمرجنسی میں طبی مدد اور ایمبولینس کے لیے کالوں کا تانتا بندھ گیا۔ لیکن پولیس سربراہ جیڈ میک لاگلن کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کو خوش قسمتی سے صرف معمولی زخم آئے۔

ڈیتھ ویلی کا دروازہ تصور کیے جانے والے دوہزارکی آبادی والے قصبے ٹرونا کے فائر حکام کے مطابق تقریباً 50 عمارتیں زلزلے سے متاثر ہوئیں۔ سان برناڈینو کاونٹی کے سپروائزر رابرٹ لونگڈ  نے کہا کہ یو ایس فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (فیما) نے یہاں پانی کی بوتلوں سے بھرا ایک ٹریکٹر بھجوا دیا ہے۔ گورنر گیون نیوسم کی جانب سے کاونٹی میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

یو ایس جی ایس نے معاشی نقصانات کے حوالے سے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر معاشی نقصان کا خدشہ ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ایک ارب ڈالر تک کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔

یو ایس جی ایس نے اپنی علامیے میں کہا: ’ماضی میں اس الرٹ لیول پر پیش آنے والے واقعات سے نمنٹنے کے لیے ملکی یا عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت رہی ہے۔‘

گورنر نیوسم کے مطابق 10 کڑورڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان سے رابطہ کر کے وفاق کی جانب سے تعمیر نو میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

نیوسم، جو ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ طویل مدتی بنیادوں پر تعمیر نو کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں: ’ہم ان (ڈونلڈ ٹرمپ) سے ہر چیز پر اتفاق نہیں کرتے لیکن جہاں سیاسی معاملات نہیں ہیں وہاں ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے اور ایسے حالات کا سامنا کرنا ہے۔‘

یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کی سرگرمی میں اوسط سے زیادہ رفتار سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ آفٹرشاکس کم شدت کے زلزلے ہی ہوتے ہیں جو بڑے زلزلے کے بعد اس کے اثرات کے طور پر وقفے وقفے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ کسی بڑے زلزلے کے بعد ہفتوں تک اس کے اثرات محسوس کیا جانا ایک عام بات ہے۔ گو کہ ان کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی ہو سکتی ہے۔ لیکن زیادہ شدت کا آفٹر شاک اس تعداد میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

زلزلے کے جھٹکوں کے ساتھ ساتھ اگلے کچھ دن کے دوران درجہ حرارت  میں بھی اضافے کی پیش گوئی ہے جو 38 سیلسیس تک جا سکتا ہے۔ حکام نے اس حوالے سے حفاظی اقدامات  اٹھائے ہیں۔

کیلی فورنیا نیشنل گارڈز کی جانب سے بھی دو سو سپاہیوں پر مشتمل امدادی دستہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ امدادی اقدمات کے لیے لاجسٹک سپورٹ اور ایک ہوائی جہاز بھی فراہم کیا گیا ہے۔ میجر جنرل ڈیوڈ بالڈون کہ مطابق پینٹاگون نے کیلی فورنیا ملٹری ڈیپارٹمنٹ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

کیلی فورنیا کے ایمرجنسی سروسز آفس کی جانب سے بھی پانی، کھانے اور بستروں کے ساتھ علاقے میں کولنگ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ