وزارت خارجہ: پاکستان کی پہلی دفاعی لائن پر ایک اور حملہ

بیرون ملک پاکستان مخالف قوتوں کے مقابلے میں قلیل وسائل کے ساتھ ہمارے سفارت کاروں کے تقریباً ہاتھ کاٹ کر ان سے بہتر کارکردگی کا مطالبہ یا توقع کرنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

اسلام آباد میں موجود وزارت خارجہ کا دفتر (انڈپینڈنٹ اردو)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

پچھلی اور موجودہ دونوں حکومتوں نے وزارت خارجہ کے موثر پن میں کمی لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

پچھلے وزیراعظم نے ٹیلی ویژن کو استعمال کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے افسروں پر حملے کیے جو ساری دنیا کے میڈیا میں ہمارے لیے جگ ہنسائی کا سبب بنے۔ بھارتی میڈیا نے تو خصوصاً اس کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر ہمارے ایک اہم قومی ادارے کا خوب مذاق اڑایا۔

سابق وزیراعظم نے صرف اس بےعزتی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ’سائفر گیٹ‘ کے ذریعے ہمارے سفارت کاروں کی بیرون ملک معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ اس سکینڈل کے بعد بہت سارے سینیئر غیرملکی عہدیدار ہمارے سفارت کاروں سے بات کرنے سے کترانے لگے کہ شاید ہمارے مفاد پرست وزیراعظم ان نازک باہمی تعلقات کے موضوعات کو اپنی سیاست کی نذر نہ کر دیں۔

موجودہ حکومت نے ایک قدم آگے بڑھ کر ہماری پہلی دفاعی لائن کو زیادہ موثر طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ایک غیر دانشمندانہ فیصلے کے ذریعے وزارت خارجہ کے بیرون ملک تعینات سفارت کاروں کے الاؤنسز، جن کی وجہ سے وہ بیرون ملک اپنے گھریلو اخراجات چلاتے تھے، پر 35 فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے سب الاؤنسز میں اس وقت 35 فیصد کمی کر دی گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں بشمول پاکستان افراط زر میں بےمثل اضافہ ہوا ہے۔

سفارت کاروں کو یہ الاؤنسز اس لیے دیے جاتے ہیں کہ وہ بیرون ملک ایک باوقار طریقے سے اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں کیونکہ پاکستان میں جو بنیادی تنخواہ دی جاتی ہے اس سے دنیا کے مہنگے ترین شہروں لندن، واشنگٹن، نیو یارک، جنیوا یا پیرس میں مؤقر طریقے سے پاکستان کی نمائندگی نہیں کی جا سکتی۔

مثلاً پاکستان میں افسروں کے بنیادی سکیل 17 کی تنخواہ 75 ہزار سے ایک لاکھ کے قریب ہوتی ہے جو کہ ڈالر کے موجودہ ریٹ کے مطابق تقریباً 300 ڈالر کے برابر ہوتی ہے۔ یقیناً اس معمولی سی رقم سے بیرون ملک باوقار طریقے سے نہیں رہا جا سکتا اور اسی لیے مختلف الاؤنسز کے ذریعے سفارت کاروں کے لیے پیشہ وارانہ ذمہ داریاں با توقیر طریقے سے ادا کرنے میں آسانی پیدا کی جاتی ہے۔

ان الاؤنسز میں سب سے بڑا فارن الاؤنس ہوتا ہے جو بنیادی تنخواہ کو استحکام دیتا ہے۔ یہ الاؤنس سفارت کاروں کو اپنے ملک کی نمائندگی ایک باعزت طریقے سے کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات، بجلی، گیس اور پانی کے اخراجات کے علاوہ گھر کے کام کرنے والے جزوقتی عملے کی تنخواہ ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔

اب آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ بنیادی سکیل 17 کا ایک تھرڈ سیکریٹری تین سو ڈالر میں یہ اخراجات کیسے پورے کر سکتا ہے؟

یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ افسر ان تین سو ڈالر پر پاکستانی انکم ٹیکس بھی ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس اضافی فارن الاؤنس سے یہ قدرے ممکن ہو پاتا ہے کہ وہ شائستگی سے اور مہذب طریقے سے بیرون ملک اپنا رہن سہن برقرار رکھ سکے۔ اب اس اضافی الاؤنس میں سے 35 فیصد کم کر دینے سے کیسے ممکن ہے کہ یہ افسر اپنے گھر کا کچن ان مہنگے شہروں میں عزت سے چلا سکے گا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح جیسے پاکستان میں حکومت اپنے ملازمین کو گھر کی سہولت فراہم کرتی ہے یا مناسب پیسے دے کر اسے خود گھر کرائے پر لینے کی اجازت دیتی ہے، اسی طرح بیرون ملک سفارت کاروں کو گھر کی سہولت دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، کیونکہ سفارت کار مسلسل مقامی حکومتی عہدیداران اور اہم لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور ان سے میل جول بڑھا کر پاکستان کے سیاسی، معاشی، تجارتی اور عسکری مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ان تعلقات میں گہرائی اور مضبوطی لانے کے لیے ان اہم شخصیات کو گھروں پر مدعو کرنا سفارتی ذمہ داریوں اور آداب میں شامل ہوتا ہے۔ عموماً ہر ملک کے سفارت کار مناسب رہائشی علاقوں میں رہائش تلاش کرتے ہیں تاکہ اہم مقامی شخصیات ان پتوں پر آنے میں ہچکچاہٹ نہ محسوس کریں۔

یقیناً اسلام آباد میں مقیم کوئی غیر ملکی سفارت کار راجہ بازار میں رہائش اختیار کر کے یہ امید نہیں کر سکتا کہ اہم مقامی عہدیدار اس کے گھر آنا پسند کریں گے، اسی لیے مناسب ہاؤس رینٹ الاونس ہمارے سفارت کاروں کو بیرون ملک بہتر علاقوں میں رہائش کا موقع دیتے ہوئے انہیں اہم مقامی شخصیات سے تعلقات بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ 

اب اس الاونس میں بھی 35 فیصد کمی بذریعہ ٹیکس کر دی گئی ہے۔  یہ کٹوتی ہمارے سفارت کاروں کو بدرجہ کم بہتر جگہوں پر نقل مکانی کرنے پر مجبور کرے گی جس کا ہمارے سفارتی اہداف حاصل کرنے کی قوت پر منفی اثر پڑے گا۔

اسی طرح اس نئے ٹیکس سے سفارت کاروں کے بچوں کو تعلیم کے لیے دیے جانے والی امداد پر بھی 35 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ یہ تعلیمی امداد میں اس قدر شدید کمی ہے کہ شاید ہمارے سفارت کاروں کے لیے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا ہی ممکن نہ رہے۔

حکومتی تعلیمی امداد صرف ان ممالک میں دی جاتی ہے جہاں انگریزی نہیں بولی جاتی اور وہاں پر موجود انگریزی سکول ہمارے سفارت کاروں کی مالی پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اس امداد میں کمی سے ممکن ہے کہ بہت سارے بچے بیرون ملک اپنی تعلیم مکمل نہ کر پائیں یا انہیں مقامی زبان والے سکولوں میں جانا پڑے جو ان کے تعلیمی مسائل میں وطن واپسی پر شدید اضافے کا باعث بنے گا۔ 

اس نئے غیر دانشمندانہ اور ظالمانہ ٹیکس کو اگر فوراً واپس نہ لیا گیا تو یہ فارن سروس کے لیے ایک زہر قاتل ثابت ہو گا۔ یقیناً اس نئے ٹیکس سے فارن سروس میں آنے والوں کے لیے ترغیب میں بھی کمی آئے گی۔ پہلے ہی فارن سروس مختلف وجوہات کی بنیاد پر مقابلے کے امتحان میں کافی نیچے درجے پر آ چکی ہے اور اس قدم سے یہ تقریبا آخری درجے پر پہنچ جائے گی۔

اس لیے ضروری ہے کہ اس فہم سے عاری ٹیکس کو فوری ختم کیا جائے۔ اگر کچھ وجوہات اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں تو ان الاؤنسز میں ٹیکس لگانے کے بعد ان میں فوراً 35 فیصد اضافہ کر دیا جائے۔ وزارت خارجہ کے افسران پہلے ہی شدید مشکل حالات میں بیرون ملک اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور ہمیں اس قدم سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

وزارت خارجہ ایک بہت بڑا اور اہم قومی ادارہ ہونے کے باوجود ایک انتہائی معمولی بجٹ پر کام کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کا مکمل بجٹ صرف 12 کروڑ ڈالر ہے جس سے ہمارے سو سے زیادہ سفارت خانے اور وزارت خارجہ کا کام چلایا جاتا ہے۔ اس نئے ٹیکس سے شاید حکومت پاکستان انتہائی قلیل 80 یا 90 لاکھ ڈالر بچا سکے گی۔ اس قدر معمولی رقم کے لیے ملک کی پہلی دفاعی لائن کو کمزور بنانے میں کسی قسم کی حکمت نہیں دکھائی دیتی۔ پاکستان سے قدرے مختصر بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے لیے تقریباً 18 کروڑ ڈالر کا بجٹ مخصوص ہے جب کہ بھارت تو تقریباً دو ارب ڈالر کے قریب اپنی سفارت کاری پر لگا رہا ہے۔

بیرون ملک پاکستان مخالف قوتوں کے مقابلے میں قلیل وسائل کے ساتھ ہمارے سفارت کاروں کے تقریباً ہاتھ کاٹ کر ان سے بہتر کارکردگی کا مطالبہ یا توقع کرنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ 

اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس غیر سنجیدہ اور دانش سے عاری فیصلے پر فوراً نظر ثانی کرے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جن سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ