ایران اور سعودی عرب سفارت خانے کھولنے کے لیے تیار ہیں

ایرانی قانون ساز جلیل رحیمی کے مطابق ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری میں ہیں، جو 2016 کے دوران تہران واقع سعودی سفارت خانے پر ایک پرتشدد ہجوم کے حملے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔ سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ایرانی مظاہرین دو جنوری 2016 کو  ایک مظاہرے کے دوران تہران میں سعودی سفارت خانے کو آگ لگا رہے  ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

ایرانی کمیٹی برائے خارجہ پالیسی کے رکن جلیل رحیمی جہان آبادی کے مطابق ایران اور سعودی عرب اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں جنہیں 2016 میں سعودی ڈپلومیٹک مشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے بند کر دیا گیا تھا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور قانون ساز جلیل رحیمی جہان آبادی نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب سفارتی تعلقات بحال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو مذکورہ واقعے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

دو جنوری 2016 کو متشدد افراد کی قیادت میں مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

جلیل رحیمی جہان آبادی نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو فروغ دینے میں اہم اثر ڈالیں گے۔

انہوں نے ایران کے سیکورٹی اور میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ ’شیطان اسرائیلیوں اور احمق بنیاد پرستوں‘ کی سرگرمیوں سے محتاط رہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حال ہی میں ایرانی حکام کی جانب سے اس امر پر اصرار دیکھا گیا کہ ایران سعودی مذاکرات کا نیا دور ہونا چاہیے لیکن سعودی عرب کی جانب سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک لبنان میں حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت ہے۔

سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات کی بحالی کے مقصد سے کشیدگی کم کرنے کے لیے گزشتہ سال مذاکرات کیے تھے لیکن سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا