الیکشن کمیشن کا ق لیگ کے انٹراپارٹی الیکشن روکنے کا حکم

چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویز الہی گروپ کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات رکوانے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی۔

23 فروری، 2008 کو چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے (اے ایف پی)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعے کو پاکستان مسلم لیگ ق کے انٹرا پارٹی انتخابات روکتے ہوئے جماعت میں سٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے چوہدری پرویز الہی گروپ کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کو رکوانے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی، جس کی سماعت جمعے کو ہوئی۔ 
 
چوہدری پرویز الہی کے حامیوں نے 10 اگست کو لاہور میں انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔
 
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے سماعت کے دوران کہا کہ کمیشن کو درخواست کے علاوہ ایک خط بھی موصول ہوا ہے اور دونوں کی سماعت ایک ساتھ ہو گی۔ 
 
چودہری شجاعت کے وکیل عمر اسلم نے کمیشن کے سامنے موقف اختیار کیا کہ پارٹی کے پنجاب میں سیکریٹری جنرل کامل علی آغا نے 28 جولائی کو سوشل میڈیا پر ایک خط پوسٹ کیا، جس کے مطابق پارٹی کا ایک اجلاس ہوا البتہ خط پر کسی کے دستخط موجود نہیں تھے۔
 
انہوں نے کہا کہ اس خط میں چوہدری شجاعت اور طارق بشیر چیمہ کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا ذکر موجود تھا۔ 

رکن الیکشن کمیشن نے ق لیگ کے وکیل سے سوال کیا کہ کامل علی آغا کا جماعت میں عہدہ کیا ہے؟ جس پر وکیل نےجواب دیا کہ کامل علی آغا پنجاب کے عہدے دار ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمر اسلم نے الیکشن کمیشن میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی صدر اور سیکریٹری جنرل کو ہٹائے جانے کا دعویٰ کیا گیا لیکن اس کا بیان پنجاب کے سیکریٹری کامل علی آغا نے جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو جماعت میں اس تبدیلی سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔ 
 
انہوں نے کہا کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا طریقہ کار پارٹی آئین کے آرٹیکل 43 میں درج ہے اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں 150 ارکان جنرل کونسل نامزد کرتی ہے۔ 
 
کمیٹی میں 50 ارکان پارٹی صدر کے نامزد کردہ ہوتے ہیں اور جنرل کونسل کی جانب سے 150 ارکان کے انتخاب کاکوئی ریکارڈ نہیں۔
 
الیکشن کمیشن نے ق لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن رکوانے کا حکم دیتے ہوئے اگلی سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست