پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب قرار: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب قرار دے دیا ہے۔

پانچ اپریل 2022 کو لی گئی تصویر میں اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت (اے ایف پی)

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب قرار دے دیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں گیارہ صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ سنایا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پر منگل کی شام سماعت مکمل کی تھی جس کے بعد پہلے پانچ بج کر 45 منٹ پر فیصلہ سنانے کا کہا تھا، مگر اس کے بعد وقت تبدیل کیا گیا اور ساڑھے سات بجے کا وقت دیا تھا تاہم مقررہ وقت میں مزید تاخیر دیکھی گئی اور یہ فیصلہ تقریباً رات پونے نو بجے کے قریب سنایا گیا۔

عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں مسلم لیگ ق کے مسترد ووٹوں کو شمار کرنے کا حکم دیتے ہوئے گورنر پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ منگل کو ہی رات ساڑھے گیارہ بجے چوہدری پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر گورنر پنجاب حلف نہیں لے سکتے تو ان کی جگہ صدر پاکستان چوہدری پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔

مختصر فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب پرویز الہیٰ کا بطور وزیر اعلیٰ نوٹیفیکیشن جاری کریں جبکہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام صوبائی مشیران اور معاونین خصوصی کو عہدے سے فی الفور ہٹایا جاتا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ اس حوالے سے تفصیلی فیصلے بعد میں سنایا جائے گا۔

فیصلے کے بعد چوہدری پرویز الہی کا بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے جاری کیا۔

چوہدری پرویز الہیٰ کی درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

انہوں نے عدالت کے باہر موجود صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے بڑے حوصلے، بردباری سے حکومت کی دھمکیوں کو برداشت کیا۔‘

وزیر اعظم پاکستان کا ردعمل

عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہنا تھا کہ ’آئین نے ریاستی اختیار پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کیے ہیں۔ آئین نے سب اداروں کو متعین حدود میں کام کرنے کا پابند کیا ہے۔ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تاکہ انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا لیکن عدالتی فیصلے سے قانون دان برادری، سائیلین، میڈیا اورعوام کی حصول انصاف کے لیے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔‘

حمزہ شہباز کا ردعمل

عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ’ایک متنازعہ فیصلے کے ذریعے عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو گھر بھیجا گیا ہے۔‘

حمزہ شہباز نے ایک بیان میں سوال کیا ہے کہ ’کیا اسمبلی کی حیثیت ایک ربر سٹیمپ کی رہ گئی ہے؟‘

’عوام دیکھ رہی ہے کہ تحریک انصاف کو آئین سے کھلواڑ کرنے کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے، دوسری طرف ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار کو ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔‘

عمران خان کا رد عمل

سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کل شام پوری قوم کا شکریہ ادا کریں گے جن کی حمایت تمام وقت ہمارے ساتھ رہی۔

’حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو مسلم لیگ ن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اس پر ردعمل دینے کے لیے مسلم لیگ ن رہنما اور وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہماری فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے نے آج کے فیصلے کو پہلے ہی متنازعہ بنا دیا تھا۔‘

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’سول سوسائٹی، وکلا برادری، بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور قانونی ماہرین نے کل کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ ن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن جانتی ہے کہ پنجاب مسلم لیگ ن، نواز شریف اور شہباز شریف کا ہے، اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اس فیصلے کے بعد اپنی ٹویٹ میں صرف اتنا لکھا: ’جوڈیشل کُو‘، جبکہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اجلاس طلب کر لیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ یک طرفہ فیصلہ ہے، ہمیں نہیں سنایا گیا ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سیاسی جدوجہد عوام کی عدالت میں لے آئیں گے۔‘

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ’ہم سیاسی جدوجہد عوام کی عدالت میں لے کر آئیں گے۔‘

سماعت میں کیا ہوا؟

وقفے کے بعد ڈھائی بجے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ خط پولنگ سے پہلے پارلیمنٹری پارٹی کے سامنے پڑھا گیا تھا یا نہیں۔ عدالت کے سامنے سوال یہ بھی ہے کہ فیصلے کو ٹھیک سے پڑھا گیا یا نہیں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرے فریق سن رہے ہیں لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے۔ اس وقت ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے اقوام متحدہ میں مبصر ممالک کی ہوتی ہے۔

اسی دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے کہا کہ ’نائیک صاحب اگر کچھ بہتری آ سکتی ہے تو عدالت سننے کے لیے تیار ہے۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ان مقدمات میں ہم پارٹی پالیسی کے پابند ہوتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کے کردار پر قائل کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات دے سکتا ہے لیکن ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ ووٹ کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہے۔‘

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ تو واضح ہے کہ اگر کسی ممبر کو ضمیر کے مطابق پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہیں دینا تو استعفی دے کر دوبارہ آ جائے۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے سامنے چند گزارشات پیش کیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر جب تک نظر ثانی نہ ہو اس پر عملدرآمد لازمی ہے۔ فیصلے موجود ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہرعدالت کے لیے بائنڈنگ ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے۔ پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے پر عملدرآمد لازمی نہیں، آپ کی دلیل عجیب و غریب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہاں اس کیس میں تو ووٹنگ کا سوال ہی نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم سب کے شکرگزار ہیں جنہوں نے عدالت کی معاونت کی۔‘

عدالت نے کہا کہ ہم ابھی وقفہ کر رہے ہیں پونے چھ بجے آ کر فیصلہ سنائیں گے۔

’بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں‘

اس سے قبل عدالت میں پرویز الٰہی کی درخواست پر منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بائیکاٹ کرنے والے گریس کا مظاہرہ کریں۔ ’عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔‘

حکمران اتحاد نے کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے کیونکہ تین رکنی بینچ نے اس کے مطالبے کے مطابق فیصلہ سنانے کے لیے فل بینچ تشکیل نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

سماعت کے آغاز میں ہی اتحادی حکومت، حمزہ شہباز، ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی اور پیپلز پارٹی سمیت فریقین کے وکلا نے رولنگ کے حوالے سے دلائل دینے سے معذرت کر لی اور موقف اپنایا کہ چونکہ عدالت فل کورٹ نہیں بنا رہی اس لیے ہم عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پھر نشست پر بیٹھ کر عدالتی کارروائی سنیں۔

ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے عدالت سے کہا کہ ملک میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ چل رہا ہے وہ فل کورٹ کے حوالے سے فیصلے پر نظرثانی دائر کریں گے۔

چیف جسٹس نے وکلا کے بائیکاٹ کے بعد کہا کہ اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے۔ آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں۔ اس سوال کے جواب کے لیے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسا سوال نہیں تھا جس پر فل کورٹ تشکیل دی جاتی۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فریقین نے وکلا کو بتایا تھا کہ آئین گورننس میں رکاوٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ صدر کی سربراہی میں 1988 میں نگران کابینہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دی تھی۔

عدالت کا موقف تھا کہ وزیراعظم کے بغیر کابینہ نہیں چل سکتی۔ فل کورٹ کی تشکیل کیس لٹکانے سے زیادہ کچھ نہیں تھا، جبکہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے پہلے جج بھی دستیاب نہیں ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ گورننس اور بحران کے حل کے لیے جلدی کیس نمٹانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ دلائل کے دوران 21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا۔ 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا۔ تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔

چیف جسٹس نے فل کورٹ تشکیل دینے اور نظرثانی کے سوال پر کہا کہ کیا 17 میں سے آٹھ ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ عدالت کے سامنے آٹھ ججوں کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلق آٹھ ججز کا فیصلہ اکثریتی نہیں ہے۔ جس کیس میں آٹھ ججز نے فیصلہ دیا وہ 17 رکنی بینچ تھا۔ آرٹیکل 63 اے پر فیصلہ نو رکنی ہوتا تو اکثریتی کہلاتا۔

چیف جسٹس نے قانونی سوالات پر پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر کو عدالت کی معاونت کرنے کا کہا اور یہ بھی کہا کہ سب کے بائیکاٹ کرنے کے بعد دوسرا راستہ ہے کہ ہم بینچ سے الگ ہو جائیں۔

اس کے بعد درخوست گزار کے وکیل نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف دلائل دینا شروع کیے۔

علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا: ’21ویں ترمیم کے خلاف درخواستیں 13/4 کے تناسب سے خارج ہوئی تھیں۔ درخواستیں خارج کرنے کی وجوہات بہت سے ججوں نے الگ الگ لکھی تھیں۔ 21ویں ترمیم کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے آرٹیکل 63 اے کو خلاف آئین قرار دیا تھا۔ جسٹس جواد خواجہ کی رائے تھی کہ آرٹیکل 63 اے ارکان کو آزادی سے ووٹ دینے سے روکتا ہے۔ جسٹس جواد خواجہ نے فیصلے میں اپنی رائے کی وجوہات بیان نہیں کیں لیکن میں جسٹس جواد خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔‘

چیف جسٹس نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمانی پارٹی دیتی ہے۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا پارلیمانی پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟

علی ظفر نے جواب دیا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے۔ ’چیف جسٹس نے کہا پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے۔‘

جسٹس منیب اختر نے بھی نکتہ اٹھایا کہ پارٹی سربراہ کی کیا تعریف ہے؟ کیا پارٹی سربراہ صرف سیاسی جماعت کا سربراہ ہوتا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی سوال کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ 2002 میں سیاسی جماعتوں کے قانون میں پارلیمانی پارٹی کا ذکر ہوا۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کی جگہ پارلیمانی لیڈر کا لفظ محض غلطی تھی۔

منگل کی سماعت ساڑھے 11 بجے شروع ہوئی۔ پیر کی نسبت منگل کو سپریم کورٹ میں اتنا رش نہیں تھا اور نہ ہی سکیورٹی کی اتنی سختی کی گئی۔ 

معاملہ کیا ہے؟

پنجاب میں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت کے بعد 23 جولائی کو پنجاب میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے اراکین کے نام لکھا گیا خط موصول ہونے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے ق لیگ کے 10 اراکین کے ووٹ گنتی میں شامل نہیں کیے تھے، جس کے باعث مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ قرار پائے۔

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو پرویز الٰہی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو عبوری وزیراعلیٰ بننے کا حکم دیتے ہوئے سپیکر کی رولنگ پر سماعت جاری رکھی تاکہ آرٹیکل 63 اے کے تحت مسترد شدہ ووٹوں کا فیصلہ کیا جا سکے۔ 

چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو حکومتی اتحاد کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق کیس کی سماعت منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کی تھی۔

اس سے قبل چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’فل کورٹ تب بنائی جاتی ہے جب بہت سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہو۔ یہ پیچیدہ کیس نہیں ہے، آرٹیکل 63 اے پر عدالت فیصلہ دے چکی ہے۔‘

کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومتی اتحاد نے تین رکنی بیچ کی سماعت کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پیر کی شب ایک پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ پنجاب کیس میں فل کورٹ کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان