پاکستانی، بھارتی گروپ نے ہزاروں لوگوں کی جاسوسی کی: فیس بک

امریکی جریدے فوربز نے فیس بک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں گروہ لوگوں کو وٹس ایپ، سگنل اور ٹیلی گرام کی طرز کی جعلی ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر آمادہ کرتے تھے، جس کے بعد جاسوسی کا عمل شروع کردیا جاتا تھا۔

جاسوسی اور خصوصاً سائبر سکیورٹی دورِ جدید کی حکومتوں اور عوام کے لیے اہم مسائل میں سے ایک ہیں (فوٹو: پیکسلز)

سوشل میڈیا سائٹ فیس بک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارتی حکومتوں سے مبینہ طور پر جڑے دو جاسوس گروپ لوگوں کی جعلی میسجنگ ایپس کے ذریعے جاسوسی کر رہے ہیں۔

امریکی جریدے فوربز نے فیس بک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں گروہ لوگوں کو وٹس ایپ، سگنل اور ٹیلی گرام کی طرز کی جعلی ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے پر آمادہ کرتے تھے، جس کے بعد جاسوسی کا عمل شروع کردیا جاتا تھا۔

جاسوسی اور خصوصاً سائبر سکیورٹی دورِ جدید کی حکومتوں اور عوام کے لیے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی سپائی ویئر فرم پیگاسس نے دنیا کی بڑی حکومتوں کی مبینہ طور پر جاسوسی کی۔

فوربز کے مطابق: ’فیس بک کا کہنا ہے کہ میل ویئر اینڈرائیڈ ڈیوائس سے ہر قسم کی معلومات بشمول فون کال کی تفصیلات، دیگر لوگوں کے فون نمبر، فائلز، ٹیکسٹ میسجز اور لوکیشن کے ڈیٹا کو چرا سکتا ہے۔

’یہ ایک ڈیوائس کے کیمرے اور مائیکروفون تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر جاسوسی کرنے والے یہ گروپ Bitter APT اور APT36، دیگر ممالک کے علاوہ برطانیہ، سعودی عرب، چین اور نیوزی لینڈ میں بھی لوگوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

فیس بک نے پاکستان میں قائم حکومتی ہیکنگ یونٹ کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا، جسے APT36 کہا جاتا ہے۔ یہ بھی وٹس ایپ، چینی سوشل نیٹ ورک وی چیٹ اور یوٹیوب سمیت ایپس کے طور پر چھپے ہوئے اینڈرائیڈ جاسوسی ٹولز بنا رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے پہلے فوربز کی رپورٹ میں Bitter APT اور بھارتی حکومت کے درمیان روابط کا ذکر گیا، جس کے مطابق گروپ نے ایک امریکی کمپنی کے مائیکروسوفٹ ونڈوز ہیکنگ ٹولز حاصل کر لیے تھے۔

فوربز نے کہا ہے کہ فیس بک نے ’کم از کم نو ممالک میں 10 ہزار صارفین کی شناخت کی ہے، جنہیں APT36 اور Bitter APT نے نشانہ بنایا ہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کو خطرے کے خلاف براہ راست متنبہ کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک کے سائبر جاسوسی کی تحقیقات کے سربراہ مائیک ڈیولیانسکی نے فوربز کو بتایا: ’اگر ہمیں لگتا ہے کہ آپ ان گروپوں میں سے کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے میں آ سکتے ہیں تو ہم آپ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم آپ کو وہ ٹولز بتانا چاہتے ہیں جنہیں آپ اپنی آن لائن موجودگی کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘

میگزین نے یہ بھی کہا کہ امکان ہے کہ اینڈرائیڈ سائبر جاسوسی گروپوں کا واحد ہدف نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق: ’ فیس بک نے یہ بھی دیکھا کہ جعلی اکاؤنٹس آئی فون چیٹ ایپلی کیشن کے ڈاؤن لوڈ کے لنکس تقسیم کر رہے ہیں۔ کمپنی نے اپنی تحقیقات ایپل سے بھی شیئر کیں۔‘

فوربز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس نے بھارتی اور پاکستانی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی