سکاٹ لینڈ یارڈ: سینکڑوں بچوں کی نیم برہنہ حالت میں ’زبردستی تلاشی

سکاٹ لینڈ یارڈ نے دو سال میں 600 سے زائد بچوں کی نیم برہنہ حالت میں ’زبردستی تلاشی‘ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

14 فروری، 2022 کو پولیس اہلکار وسطی لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی عمارت کے باہر گشت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

انگلینڈ میں دو سال کے دوران سکاٹ لینڈ یارڈ نے 600 سے زائد بچوں کی نیم برہنہ حالت میں ’ زبردستی تلاشی‘ لی اور سیاہ فام لڑکوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا۔

چلڈرن کمشنر کی جانب سے سکاٹ لینڈ یارڈ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2020 کے درمیان فورس کے افسران نے 10 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 650 بچوں کی نیم برہنہ حالت میں تلاشی لی۔

ان بچوں میں سے 58 فیصد کو سیاہ فام اور 95 فیصد سے زیادہ کو لڑکے قرار دیا گیا ہے۔ مارچ میں چائلڈ کیو سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد چلڈرن کمشنر ڈیم ریچل ڈی سوزا نے ان اعداد و شمار کی درخواست کی تھی۔

پولیس نے بھنگ لے جانے کے غلط الزام میں سکول کی 15 سالہ طالبہ کی ماہواری کے ایام میں نیم برہنہ حالت میں تلاشی لی۔

میٹروپولیٹن پولیس کی خواتین افسران نے 2020 میں کسی دوسرے بالغ کی عدم موجودگی اور حیض کے علم کے باوجود تلاشی لی تھی۔

سٹی اینڈ ہیکنی سیف گارڈنگ چلڈرن پارٹنرشپ (سی ایچ ایس سی پی) کے جائزے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نیم برہنہ تلاشی کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ’یہ بلاجواز اور نسل پرستی تھی۔‘

اس واقعے کے سلسلے میں انڈپینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ (آئی او پی سی) کی جانب سے میٹروپولیٹن پولیس کے چار افسران سے شدید بدتمیزی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ نے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

لا فرم بھٹ مرفی نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ نوعمر لڑکی میٹ اور اپنے سکول کے خلاف سول کارروائی کر رہی ہے تاکہ ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے وعدہ لیا جائے کہ کسی دوسرے بچے کے ساتھ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘

اس کے بعد سے آئی او پی سی نے تصدیق کی ہے کہ وہ 2020 سے 2022 کے اوائل کے درمیان بچوں کی مزید چار نیم برہنہ تلاشیوں کی تحقیقات کر رہی ہے اور غور کر رہی ہے کہ آیا مزید تین کیسز پر غور کیا جائے یا نہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیم برہنہ حالت میں بچوں کی تلاشی کی تعداد میں اضافہ ہوا جو 2018 میں 18 فیصد، 2019 میں 36 فیصد اور 2020 میں 46 فیصد زیادہ ہے۔

تقریباً ایک چوتھائی (23 فیصد) معاملات میں بچوں کی نیم برہنہ تلاشی اس وقت لی گئی جب کوئی’ باضابطہ بالغ‘ فرد موجود نہیں تھا۔

قانون کے مطابق یہ ضروری ہے، سوائے’ ایمرجنسی‘ کے تلاشی کے دوران عام طور پر والدین یا سرپرست موجود ہوتے ہیں لیکن سماجی کارکن، یا رضاکار بھی ہو سکتے ہیں۔

جن کی تلاشی لی گئی ان میں سے دو تہائی (70 فیصد) سیاہ فام لڑکے شامل تھے۔

تمام معاملات میں سے مجموعی طور پر 53 فیصد کے نتیجے میں مزید کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جس کے بارے میں بچوں کے کمشنر نے کہا اس سے ظاہر ہوتا ہے’ ہوسکتا ہے یہ تمام کیسز میں جائز یا ضروری نہ ہو۔‘

ڈیم ریچل نے کہا کہ انہیں ان اعداد و شمار سے ’شدید صدمہ‘ پہنچا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ’ہر سال اس تکلیف دہ زبردستی تلاشی کی مشق کا نشانہ بن رہی ہے۔‘

انہوں نے ان اعدادوشمار میں نظر آنے والے نسلی عدم تناسب پر بھی ’انتہائی فکر‘ کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے نہیں یقین کہ چائلڈ کیو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک الگ مسئلہ تھا، لیکن یہ یقین ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس کے اندر بچوں کے تحفظ کے بارے میں مسئلے کی یہ ایک خاص مثال ہو سکتی ہے۔

’مجھے یقین نہیں کہ میٹروپولیٹن پولیس بچوں کی فلاح و بہبود پر غور کر رہی ہے۔‘

ڈیم ریچل نے کہا کہ انہوں نے یہ اعداد و شمار بیرونس لوئس کیسی کو دیے ہیں جو میٹ آفس میں معیارات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

چلڈرن کمشنر کی ٹیم انگلینڈ بھر کی تمام پولیس فورسز سے اعداد و شمار کی درخواست کرے گی۔

میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان نے کہا: ’میٹروپولیٹن پولیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے کہ اس طرح کی تلاشی والے بچوں کے ساتھ مناسب انداز اور احترام کے ساتھ نمٹا جائے۔ ہم مانتے ہیں کہ اس طرح کی تلاشیوں کے نمایاں اثرات ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی تبدیلیاں کر چکے ہیں اور اس قسم کی تلاش کے لیے پولیس کی ضرورت کو متوازن کرنے کے لیے سخت محنت جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے نوجوانوں پر کافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا:’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہمارے افسران اور عملہ 'مزید تلاشی' لینے کی پالیسی کے بارے میں تازہ ترین معلومات سے آگاہ ہو۔ خاص طور پر اس بارے میں ایک مناسب بالغ کی موجودگی ضروری ہے۔

ہم نے سکولوں کے معاملات دیکھنے والے افسران کو ہدایت دی ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچوں کے ساتھ بچوں جیسا سلوک کیا جائے اور 18 سال سے کم عمر کے لوگوں کی حفاظت پر غور کیا جائے

’ مزید ہم نے 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے 'مزید تلاش' کی پالیسی کا جائزہ لیا ہے۔ یہ اپنی یقین دہانی کے لیے ہے کہ پالیسی مناسب ہے اوراس حقیقت کو مانتی ہے کہ ان حالات میں ایک بچہ گینگزاور منشیات کے لین دین میں ملوث دیگر افراد کے استحصال کا شکار ہوسکتا ہے۔‘

اضافی رپورٹنگ از پی اے

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ