ملزم کی برہنہ ویڈیو وائرل: 'پولیس نے انسانیت کی تذلیل کی'

رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ پولیس نے انسانیت سے گری ہوئی حرکت کی ہے ۔ ا نھوں نے لکھا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس حرکت کے خلاف متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

(سکرین گریب)

پشاور کے علاقے تہکال کے رہائشی عامر تہکالے کی گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں عامر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں اور ویڈیو میں وہ پشاور کے پولیس افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔

اس ویڈیو کی وجہ سے پولیس نے ملزم عامر کو ٹریس کر کے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

گزشتہ روز پولیس حراست  کے دوران ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آگئی جس میں وہ اپنی اس حرکت پر پولیس سے معافی مانگتے نظر آرہے ہیں اور پولیس اہلکار ان کے دونوں جانب کھڑے ہیں۔

تاہم آج سوشل میڈیا پر دوران پولیس حراست ان کی ایک اور برہنہ ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس پر سوشل میڈیا کے صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس ویڈیو  میں نظر آسکتا ہے کہ پولیس نے ملزم کو برہنہ کیا ہوا ہے اور انہیں گالیاں بھی دے رہے ہیں۔

ٹویٹر صارف ذیشان خٹک نے اس حرکت کے حوالے سے لکھا ہے کہ شرم آنی چاہیے پورے پولیس ڈیپارمنٹ کو، جنھوں نے دہشت گردی کی بد ترین لہر میں ہزاروں قربانیاں دیں اور اب ایسے امیج بلڈنگ کر رہے ہیں۔

رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ پولیس نے انسانیت سے گری ہوئی حرکت کی ہے ۔ انھوں نے لکھا کہ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس حرکت کے خلاف متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

پشاور کے صحافی عابد حمید نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کبھی بھی مثالی نہیں رہی بلکہ اس کا صرف میک اپ کیا گیا تھا اور ان کا میک اپ اترا تو اصل چہرہ سامنے آگیا ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹویٹر صارف عماد خلیل نے لکھا ہے کہ ملزم کو پولیس کی جانب سے اس طرح ٹریٹ کرنا غیر انسانی سلوک، انسانیت کی تذلیل اور طاقت کا غلط استعمال ہے ۔

اس حوالے سے پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز ظہور آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور  متعلقہ پولیس تھانے کے ایس ایچ او  سمیت تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے نیز تینوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

'محکمہ پولیس میں حد سے تجاوز کرنے والوں کی کوئی جگہ نہیں۔شہریوں کی جان ومال کے ساتھ ان کی عزت کی ذمہ داری پولیس کی بنتی ہے ۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل