جب میاں صاحب نے گورکن پر سانپ سے حملہ کیا

میاں صاحب اپنا پستول گھر بھول آئے تھے اس لیے انہوں نے گھڑے سے سانپ نکالا اور اسے لہراتے ہوئے گورکن پر حملہ کر دیا۔

(اے ایف پی)

یہ قصہ ہمارے گاؤں کا ہے۔ تب میں چھوٹا تھا۔ گاؤں میں ایک شخص میاں انور تھا، اُس کا بیٹا یاسرعرفات میرا دوست تھا۔ یہ میاں انور فوجی آدمی تھا، ریٹائرمنٹ لے کر آیا تو والد کی جگہ خود گاؤں کی اصلاح کرنے کا ارادہ باندھا۔

ایک ہاتھ میں پستول لیا، دوسرے میں ڈنڈا اور چل میرے بیلی اللہ وارث۔ سب سے پہلے چوک چوراہوں پہ بے وجہ کھڑے لونڈوں کو گھرو گھری کیا کہ آتی جاتی خواتین کو گھورنے اور پان تھوکنے کا سلسلہ موقوف ہو۔ ذرا کسی نے چوں چراں کی نہیں، اِنھوں نے ٹھاہ گولی دبائی۔ وہ تو اللہ کا شُکر فوجی بندہ ہونے کی وجہ سے نشانہ کبھی ٹھیک نہیں لگا ورنہ پچھلی عمر جیل میں رہتے اور خود اِن کی اصلاح ہوتی۔

خیر گلیوں گلیوں پھرتے، جہاں کہیں نظامِ حیات میں اصلاح کی گنجائش نکلتی وہیں دو بندے حاضر کرتے اور ڈگر کو صراطِ مستقیم پر لے آتے۔ رات کے اگلے پہر، پچھلے پہر، پہلے پہر اور سارے پہر گاؤں کی گلیاں ہوتیں اور میاں صاحب ہوتے۔ چور یار یعنی شب دار لوگوں نے ان کی وجہ سے اِس گاؤں سے گریز کیا۔ چند ہفتوں میں تمام کتے مار دیے گئے۔ سب نالیاں صاف ہو گئیں، سڑکوں کا کچرا اور گندا پانی اپنے اصلی مقام تک چلا گیا۔

اور تو اور کھسروں کے مُجرے کہ جن میں سراسر دین کی تباہی تھی، موقوف ہوئے۔ بلکہ ایک دن دورانِ مُجرا حضرت صاحب اکھاڑے میں نادر شاہ کی طرح داخل ہوئے کہ ایک قیامت ہی آ گئی۔ بغل سے پستول نکالا اور گیس کے ہُنڈوں کو فائرنگ سکواڈ میں لے لیا۔ بس پھر ایسا ہوا کہ فضا میں کانچ کی بارش ہو گئی۔ کھُسرے مجرا گاہ میں اُچھلتے پھرتے تھے اور گھنگھرو اُن کے پنڈال میں بکھرتے پھرتے تھے۔

پیسے اُچھالنے والوں کی لنگیاں کھُل کھُل گئیں۔ ہر کوئی ادھر اُدھر بھاگتا تھا۔ ایک کے اوپر دوسرا گرتا تھا اور چھپنے کی راہ ڈھونڈتا تھا۔ پل کی پل میں تماشائی خود تماشا بن گئے۔ وہ دن اور آج کا دن، ہمارے گاؤں میں مجرا نہیں ہوا اور کھسرے نہیں پلٹے۔ ہاں البتہ گاؤں نے دوچار خود پیدا کر لیے ہیں۔

یہ سب باتیں تو ایک طرف، اب نہایت دلچسپ قصہ سُنیے۔ گاؤں کی صفائی ستھرائی اور دین نافذ کرنے کے بعد میاں انور صاحب کو خیال آیا کہ قبرستان کو بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جہاں دراصل قبریں ہونی چاہیے تھیں وہاں جھاڑ جھنکاڑ، سرکنڈے، عاک اور جھاڑیوں کے جنگل ہیں جن میں سانپ، بچھو اور سینکڑوں بلیّات بھر گئیں۔ غرض قبرستان کا نقشہ ایسا ہے کہ اُسے دیکھ کر خدا سے خوف کی جگہ کیڑوں مکوڑوں سے خوف آتا ہے۔

آپ نے فورا گورکن کو کان سے جا پکڑا اور کہا ’حرام خور مفت کی روٹیاں توڑتا ہے۔ اِس کی صفائی تمھاری اماں نے کرنی ہے؟‘

میاں صاحب نے گورکن کے ساتھ خود بھی پھاوڑا پکڑ لیا۔ لیجیے قبروں کی صفائی شروع ہوئی اور چند دنوں میں جھاڑیاں صاف ہوئیں اور سب قبریں نئی نئی بن گئیں، جہاں نہیں بھی تھیں وہاں بھی بن گئیں۔

اس عرصے میں بےشمار سانپ نکلے جنھیں میاں صاحب پکڑ پکڑ کر گھڑے میں ڈالتے گئے۔ ایک دن ہوا یہ کہ ایک قبر کی صفائی کے دوران میاں صاحب اور گورکن میں صاحبِ قبر کے کردار پر اختلاف ہو گیا۔ گورکن کا کہنا تھا کہ ’اِس مرنے والے نے ایک دفعہ میرا ٹیپ ریکارڈر چوری کر لیا تھا، پھر میری ٹیپ کی واپسی کے تقاضے پر مجھے مارا بھی تھا چنانچہ مَیں یہ قبر صاف نہیں کروں گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری طرف میاں صاحب کا کہنا تھا ’مرنے والا قبر کے اندر ہے، ہم نے صفائی باہر سے کرنی ہے۔‘

اختلاف کے بعد تلخ کلامی ہوئی، اُس کے بعد گالی گلوچ اور پھر دھینگا مشتی۔ میاں صاحب کا غصہ دو چند ہو گیا۔ پستول گھر رکھ کے گئے تھے کہ کون سا مُردوں کے ساتھ لڑائی کا امکان ہے۔ اب خالی ہاتھ کیا کریں۔ اچانک اُن کو ایک ترکیب سوجھی فوراً گھڑے کا ڈھکن کھول کر ایک سانپ نکال لیا اور گورکن کو لڑانے کی طرف مائل ہوئے۔

اب گورکن سانپ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور میاں صاحب اُسے سر کی طرف سے پکڑے گورکن پر جھُکے پڑے ہیں۔ گورکن نے موت کو جب یوں آنکھوں کے سامنے لچکتے دیکھا تو ڈیلے اُبل کر باہر آگئے۔

دونوں بُڈھے ساٹھ سال کے۔ چیخ پکار کا شور بلند ہوا تو ہم بھی لڑکے بالے بھاگ کر وہیں جمع ہو گئے۔ سانپ کے ڈر سے کوئی آگے نہیں بڑھتا تھا۔ میاں صاحب کے سانپ والے ہاتھ کو گورکن نے دونوں ہاتھوں سے پورے زور سے پکڑا ہوا تھا۔ آخر 15 منٹ بعد جب گورکن ہانپ کر گر گیا اور میاں صاحب بھی تھک کر گرے تو اُن کے ہاتھ سے سانپ خود بخود چھوٹ کر گورکن کے سینے پر جا پڑا جسے دیکھتے ہی گورکن بےہوش ہو گیا۔ اُدھر میاں صاحب نے دیکھا کہ سانپ تو اب سچ مُچ اِسے ڈس لے گا اور وہ یہ سوچ کر بےہوش ہو گئے۔

مگر ہوا یہ کہ جس وقت میاں صاحب نے سانپ کو سختی سے پکڑ رکھا تھا اور دھینگا مشتی جاری تھی تو سانس بند ہونے کے سبب وہ غریب اُسی وقت اللہ کو پیارا ہو گیا تھا!

خیر گاؤں والے دونوں بے سدھ بڈھوں کو اُٹھا کرہسپتال لے آئے۔ اگلے دن دونوں پھر قبرستان کی قبریں صاف کرتے پائے گئے۔ آج اُن دونوں کی قبریں بھی اُسی قبرستان میں موجود ہیں۔ رہے نام اللہ کا!

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی